خزاں سے تم دیارِ گل میں یقیں ہے اک ٹھیس تو لگے گی
ہمارا کیا ہے ہر ایک موسم میں ہم تو ناصر رہے ہیںشاکر
( مقطع بھی یاد آگیا سو پہلے ہی پوسٹ کردیا)
شکریہ نظامی صاحب
ایسا ہی ہے ظہور صاحب، کم از کم میں تو اس کے اس طرح جانے پر اب بھی ذہنی طور پر تسلیم کرنے سے انکاری ہوں۔
جی یہ لڑی شروع کرنے سے پہلے جو جمعرات گزری ہے اس دن کی بات ہے ۔
دعاؤں پر صمیمِ قلب سے آمین ثم آمین ،