پانی متاعِ کیف ہے سرمایہءِ سبوُ
چہروں پہ ضو، رگوں میں تھرکتا ہوا لہو
پیرِ مغاں کی بزم میں فرمانِ ہا و ہو
کچے پھلوں میں شہد ہے پھولوں میں رنگ و بو
سینے میں روحِ سنبل و سوسن لیے ہوئے
چٹکی میں بادِ صبح کا دامن لیے ہوئے
۔۔
پانی کا لوچ، ابر کی رو، موتیوں کی آب
مٹیّ کی جان، گل کی مہک، بحر کا جواب...