اِن لعینوں کی علی ایسے مذمّت کی جائے
بوٹیاں نوچ کے کتّوں کی ضیافت کی جائے
کاٹ کر ہاتھ ، بھریں آنکھ میں سیسہ ان کی
اِن پہ جاری کوئی اِن کی ہی شریعت کی جائے
اِن کے قبضوں سے مساجد کو چھڑا کر لوگو!
عشق والوں کے سپرد ان کی امانت کی جائے
ماوں بہنوں کے کلیجے نہیں پھٹتے دیکھے؟؟؟؟
تم جو کہتے ہو کہ ہاں ان...