۔۔۔ پہ شاہِ دو عالم کا ہے گزر
فاقوں میں بھی گزر گئے اوقات بیشتر
آسائشِ حیات کو سوچا نہیں مگر
تھا درس گاہِ صبر رسولِ خدا کا گھر
اوروں میں ملک و مال کی تقسیم کی گئی
اپنوں کو صبر و ضبط کی تعلیم دی گئی
معنی شناس کرتے نہیں صورتوں کا غم
ان کی نظر میں اصل حقیقت ہے محترم
ہنس ہنس کے جھیل لیتے ہیں دنیا کا ہر ستم
ملتی ہے یہ بصیرتِ باطن بہت ہی کم
دولت عطا یہ ہوتی نہیں ہے عوام کو
ملتی ہے انبیاء کو فقط یا امام کو
بالفرض ہو بھی جائے جو یہ سعی کامیاب
انسان جا کے چوم لے رُخسارِ ماہتاب
کیا اٹھ سکے گا جلوہ معبود کا نقاب
کچھ اور جہل و کبر کے پڑ جائیں گے حجاب
دل جب خدا کا ماننے والا نہ پائے گا
انسان زندگی میں اجالا پائے گا
اُس نور کے فیوض سے دنیا ہے بہرہ ور
اُس نور کے مظاہر رنگیں ہیں خشک و تر
اُس نور پے کسی کی نہ ٹھہری کوئی نظر
وہ نور کیا ہے، کون ہے، کیسا ہے، کیا خبر
کالی گھٹا میں برق تپاں کی چمک ہے وہ
ہاں مشعلِ زمین و چراغِ فلک ہے وہ
اگر ہم کسی کتاب کا مکمل ترجمہ کرنا چاہیں (مثلا اگر کسی مکمل کتاب کا ترجمہ یہاں فورم پر ارسال کیا جائے) تو کیا اس پر کاپی رائٹ یا کسی بھی طرح کے کوئی قوانین لاگو ہوں گے؟
بنت رسول آسیا گرداں ہیں دیکھیے
شانوں پہ داغ مَشک نمایاں ہیں دیکھیے
مزدور آج بھی شہ مرداں ہیں دیکھیے
اور خود رسول بے سر و ساماں ہیں دیکھیے
ہیں ٹھوکروں میں تاج سلاطیں پڑے ہوئے
لیکن قدم ہیں راہِ رضا میں گڑے ہوئے
بیشک بصارت اور بصیرت میں فرق ہے
جیسے حکایت اور حقیقت میں فرق ہے
زخموں میں اور دَردِ محبت میں فرق ہے
الفاظ کے معانی و صورت میں فرق ہے
آنکھیں تو صرف لفظ کی صورت شناس ہیں
مطلب تمام اہلِ معانی کے پاس ہیں
گزرا شباب آ گیا ضعف بصر کا دَور
ایک ایک نقشِ صاف پہ کرنا پڑا ہے غور
دنیا بدل گئی ہے جو بدلا نظر کا طور
اب دیکھنا ہے کیا ہمیں آنکھیں دکھائیں اور
کیا غم جو سیر و دید کے قابل نہیں رہے
لیکن دعا یہ ہے کہ بصیرت یونہی رہے