یعنی "ب" کا خاندان، "ج" کا خاندان، "د" کا خاندان، "ر" کا خاندان، "ط" کا خاندان، ف، و، ہ، ھ، ی، ے مؤنث ہیں فرہنگ آصفیہ میں۔
ہمیں جس طرح سکھایا گیا تھا اس کے مطابق "ج" کا خاندان اور "ط۔ ظ" اور "و" بھی مذکر ہیں۔
شاید نسیم اللغات سے بھی کچھ علم ہو سکے۔
ناظم بہتر اصطلاح ہے اسے ہی رہنے دیا جاتا۔
ویسے پرویز مشرف کے دور میں اگر قبلہ درست کر دیا گیا تھا تو قبلہ پلٹانے کی کیا ضرورت تھی!
شاید یہ خطرہ ہو کہ عوام کے لیے کام نہ کرنا پڑ جائے کیونکہ سیاسی جماعتیں ہوں اور عوام کی بھلائی کا سوچیں ۔۔۔ :)
بزم جہاں سیاہ ہے آنکھوں کے واسطے
دشوار ہر نگاہ ہے آنکھوں کے واسطے
مشکل ہر ایک راہ ہے آنکھوں کے واسطے
تابِ نظر گناہ ہے آنکھوں کے واسطے
اُٹھیں اگر تو رنج اُٹھانے کے واسطے
رستہ چلیں تو ٹھوکریں کھانے کے واسطے
اُڑ کر ہوا کے دام سے آگے نکل چلیں
پابندی مقام سے آگے نکل چلیں
دُنیا کے صبح و شام سے آگے نکل چلیں
اس قدرتی نظام سے آگے نکل چلیں
حیرت ہو سب کو ولولہ کامیاب پر
اُٹھے قدم زمیں سے رُکے ماہتاب پر
ہاہاہا، نہیں ان کا مقصد آپ کا مذاق اُڑانا نہیں ہو گا، ایسے ہی کہا ہو گا انھوں نے۔
ویسے ہمارے مقابلے میں آپ کو زیادہ سردی مل جاتی ہے یہاں تو بس ہم شوقیہ گرم کپڑوں کا استعمال کرتے ہیں۔ :)