آپ کسی بھی طرح بس ان سیاستدانوں کو راہِ راست پر لے آئیں اور ان سے عوام کی فلاح و بہبود کے کام نکلوائیں، پھر جس زبان میں چاہیں ہم انہیں پکارنے کا تیار ہیں :)
یہی تو مسئلہ ہے ان سیاستدانوں کا یہ خود کو رئیس، صدر، بادشاہ سمجھتے ہیں اور عوام کے لیے کام کرنے کی توفیق نہیں ہوتی انھیں۔ جبکہ ناظم کے معنی کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ کام کرنا ہے انھوں نے۔
اور کچھ نہیں تو کم از کم ان سیاستدانوں کو احساس شرمندگی دلانے کے لیے ہی سہی ناظم کہا جائے :)
آپ نے لکھا ہے...
بہت شکریہ شیئر کرنے کے لیے، مجھے اچھا لگ رہا ہے پڑھنا۔ ہمارے آباء کا تعلق یہیں سے تھا، اور میرا بہت دل ہے کہ کم از کم ایک بار وہاں جاؤں ان جگہوں کو دیکھوں جہاں ہمارے آباء اپنی زندگی کے روز و شب گزارتے رہے۔
وہمِ فلک رسی میں گرفتار آدمی
کیا اپنے دل میں غور یہ کرتا بھی ہے کبھی
کیوں سر نگوں ہے آج بھی یہ زعمِ خود سری
تدبیر جا کے حدِّ معین پہ کیوں رُکی
زندانِ علم میں کہیں محبوس ہو نہ جائے
یہ ارتقا ترقی معکوس ہو نہ جائے
تسخیر ماہتاب و فضا کا یہ ولولہ
اس دور میں ہے حکمت حاضر کا مشعلہ
کہتے ہیں رفتہ رفتہ گھٹا دیں گے فاصلہ
لیکن کسے یقیں کہ طے ہو یہ مرحلہ
اللہ کا نظام بدلنا محال ہے
اس خاک کی کشش سے نکلنا محال ہے
یہ ماہتاب نور فشاں قُرصِ تابدار
آتا ہے کائنات پہ اس کے سبب نکھار
قندیلِ چرخ، شمع فلک، جلوہ نگار
اس کے طلوع سے ہے مہ و سال کا شمار
ویرانہ ہے کہ اس میں کوئی ذی حیات ہے
کچھ بھی سہی فروغ دہِ کائنات ہے
انساں کی اس بصارتِ ظاہر کا یہ کمال
روشن رُخِ حیات کے جس سے ہوں خدّ و خال
لیکن ہر اِک عروج کو دُنیا میں ہے زوال
پیشِ نگاہ آج ہے اپنی ہی خود مثال
پہلے تھا کتنا نور اندھیری فضاؤں میں
پڑھتے تھے خط شوق ستاروں کی چھاؤں میں
صرف تین دن!!!!!؟ اور تصویر ایک بھی نہیں :(
کتنے عرصہ بعد پاکستان جانا ہوا؟ ویسے زیک بھائی از این بہ بعد آپ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی جائیں اپنے لیے بے شک نہ بنائیں لیکن میرے لیے ضرور تصویری ثبوت کا بند و بست کیا کریں پلیز۔