پہلے بھی ہو چکے ہیں بہت ایسے خود پسند
جو پھینکنے چلے تھے مہ و مہر پر کمند
عرفان و اعتقاد کے دَر ہو گئے تھے بند
قدرت سے سرکشی میں انھیں کو ہوا گزند
ترتیب کیا نظامِ جہاں کی بدل گئی
ہر آسماں شکار کو مٹّی نگل گئی
نکہت فشاں بہار بداماں شمیم بیز
ضُوبار، جلوہ پاش، ضیا بخش، نُور خیز
جلوہ طراز، آئینہ ساماں، شعاع ریز
جتنے حجاب اس پہ پڑیں روشنی ہو تیز
پردوں میں رہ کے شمع کی ضو اور بڑھتی ہے
فانوس میں چراغ کی لو اور بڑھتی ہے
اس کے اثر سے سطحِ سمندر میں جزر و مد
اس کے کرم سے رُوح سے آباد ہے جسد
اس کے عطا و بذل و کرم کی نہیں ہے حد
ادراک اس میں دنگ تو حیران ہے خرد
قابو میں آ سکے نہ کسی مکر و کید سے
آزاد ہے یہ مغرب و مشرق کی قید سے
ہر شے میں کائنات کی ہے نور کا ظہور
اس نور کے سبب سے ہے ہر ذرّہ برقِ طور
اس کے فیوض کے لیے یکساں قریب و دُور
دیکھیں نہ کم سواد تو آنکھوں کا ہے قصور
اس کے ظہور کا بھی عجب رنگ ڈھنگ ہے
جگنو میں روشنی ہے تو پھولوں میں رنگ ہے
ہر ایک خشک و تر پہ حکومت اسی کی ہے
موجِ ہوائے گُل میں لطافت اسی کی ہے
یہ کھیتیاں اسی کی زراعت اسی کی ہے
واللہ زندگی میں حرارت اسی کی ہے
وہ نور جس کا جسم نہ کوئی لباس ہے
دراصل عالمین کا اصل الاساس ہے
ہر پھول، شاخِ گُل پہ دکھاتا ہے اپنی ضو
موجِ بہار میں بھی اسی نور کی ہے رَو
اک نور ہے دکھاتا ہے جو اپنے رنگ سو
فوارے سے بھی اٹھتی ہے شمع طرب کی لو
سمٹے ہوئے اجالے ہیں سب غرق و شرق کے
ذرّے کے دل میں لاکھ ذخیرے ہیں برق کے
میں تو بس تکا لگایا ہے :)
مہینہ تو یقینی طور پر دسمبر ہی ہو گا۔ پہلی بار اور دوسری بار کے سوال میں تقریبا چھ سال کا فاصلہ ہے، تیسری بار دو سال کا تو آئندہ یہ فاصلہ کم ہو کے ایک سال کا ہو جائے تو ٹھیک ایک سال بعد ہونا چاہیے :)
موجِ رواں میں نور، شریکِ حباب نور
دریا کی تہہ میں نور، پسِ آفتاب نور
مٹّی میں نور، باعثِ جوشِ سحاب نور
پیشِ حجاب نور، ورائے حجاب نور
ہیں نور سے تمام عناصر بنے ہوئے
چاروں طرف ہیں نور کے پردے تنے ہوئے
کتنا کتابِ دہر کے اوراق میں ہے نور
لوحِ افق پہ نور ہے آفاق میں ہے نور
آہن کے قلب میں دلِ چمقاق میں ہے نور
ایوانِ کائنات کے ہر طاق میں ہے نور
تحت الثریٰ میں اوجِ ثریا پہ نور ہے
فرشِ زمیں پہ عالمِ بالا پہ نور ہے
ذرّوں کی محفلیں ہوں کہ تاروں کی انجمن
پہنچی ہے ہر مقام پہ اس نور کی کرن
ہر پھول میں ہے حُسنِ تجلّی کا بانکپن
ہر رنگ میں ہے نور ضیا بخش و ضو فگن
عاجز نواز بھی ہے یہ والا شکوہ بھی
دامانِ کوہ میں بھی ہے بالائے کوہ بھی
دن فیضِ نورِ خاص سے تاباں و پُر ضیا
شب کے لیے ستاروں سے ٹانکی ہوئی ردا
ہے شام رنگ و نور و شفق کی حسیں قبا
حُسنِ طلوعِ صبح کی واللہ وہ ادا
جس طرح ماہ توڑ کے نکلے سحاب کو
جیسے کوئی حسین الٹ دے نقاب کو
احمد، درد دل رحمان کہ تمام شد، گفت: "با ھمہ اینہا کہ گفتی می دانی آرزوی من چیہ؟"
"چیہ؟"
"آرزویم این است کہ غمم مثل غم تو باشد، دھکدہ ام مثل دھکدہ تو۔"
رحمان جوابی نداد۔
احمد پرسید: "اسم دھکدہ تان چیہ؟"
"نور آباد"
"من می توانم اینجا بمانم – تو دھکدہ تان؟"
"چرا نتوانی؟"
"اھالی دھکدہ اجازہ می...