بہت شکریہ تفصیل سے آگاہ کرنے کے لیے۔ میں اب تک یہ سمجھتی رہی ہوں کہ انٹرنیٹ آرکائیو پر کاپی رائٹ سے آزاد کتب ہوتی ہیں۔
میں اس کتاب کا ترجمہ کرنا چاہ رہی تھی یہ 1926 کی طبع شدہ ہے لیکن مزید تفصیل کا علم نہیں، اس کا مطلب فی الحال اس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔
و علیکم السلام
اردومحفل فورم میں خوش آمدید لاریب
آپ نے آتے ساتھ ہی سب کو دیوانہ قرار دے دیا ہے :) یہاں آپ اپنے آپ کو انجان محسوس نہ کریں تو اس کا ایک آسان ٹوٹکا یہ ہے کہ آپ بھی اپنی دیوانگی کا کچھ حصہ یہاں شیئر کرتی رہیں :)
یہ تو معلوم ہو گیا کہ متاثرین شاعری میں آپ کا بھی شمار ہوتا ہے یہ بتائیے...
حسنین دیکھتے تھے کہ نانا بصد وقار
کرتے نہیں ہیں عیشِ زمانہ کو اختیار
دولت ہے ان کو ہیچ، خدا پر ہے اعتبار
دونوں نے ساری عمر نِباہا یہی شعار
کتنے وسیع القلب تھے سب کو بتا دیا
جو کچھ ملا وہ راہِ خدا میں لُٹا دیا
وہ ذات جس کو کہتے ہیں سردارِ انبیا
مقصودِکن، محیطِ کرم، مخزنِ عطا
تخلیقِ اوّلیں، شہ لولاک، مصطفٰے
شاہِ عرب، شہنشہِ کونین و ماسوا
نورِ خدا سے خلق ہوا نور بن گیا
خود ناظرِ تجلئ مستور بن گیا
یہ چاند یہ قریب تریں جرمِ کائنات
طفلی میں شیر خوار اٹھاتے ہیں اس پہ ہات
پیدا کیا گیا ہے پئے قوّتِ حیات
اس پر پہنچ گئے تو کوئی فخر کی ہے بات
کیا چاند تک پہنچنے میں عزّ و وقار ہے
پہلے سے یہ بنائی ہوئی رہگذار ہے
کرسی و عرش اس کی تجلی سے محتشم
لوح و قلم میں دفترِ انوار مرتسم
تخلیقِ کائنات کی ضوپاشیاں بہم
لمعاتِ نور، تا بہ ابد، ہوں نہ کبھی کم
ظلمات میں بھی دیکھ کے پہچان جائیے
کیا سلسلہ ہے نور کا قربان جائیے