ظُلمت کے اقتدار میں ہلچل ہوئی بپا
پھیلی حریمِ تیرہ سبی میں نئی ضیا
خیرہ ہوئی نگاہِ زمانہ وہ نُور تھا
تاریکیاں جہاں کی پکاریں کہ مرحبا
انگڑائی لے کے روشنی بیدار ہو گئی
گود آمنہ کی مطلعِ انوار ہو گئی
یہ نُور، نُورِ ذاتِ خداوندِ کردگار
یہ نُور، نورِ غیب، تجلّئ آشکار
یہ نُور، نُورِ مرضئ معبودِ ذی وقار
یہ نُور، نُورِ حسنِ صفاتِ کلامِ یار
یوں آئی یہ تجلّی بے حد قیاس میں
اُترا، محمد عربی کے لباس میں
شبّر نے ترک کر دی خلافت اسی لیے
چاہی نہ کوئی زیست کی راحت اسی لیے
برداشت کر لی زہر کی شدّت اسی لیے
قربان کر دی زیست کی دولت اسی لیے
دیں دار ہم ہیں دولتِ دیں چاہیے ہمیں
دنیا جو چاہتی ہے، نہیں چاہیے ہمیں
پہنچا ہے اس طرف جو نئے دور کا خیال
کیا کیا طلسم خواب دکھانے لگا خیال
یہ فکر کچھ نئی ہے نہ کوئی نیا خیال
اک امرِ واقعی سے یہ تازہ ہوا خیال
سمجھا دیا بشر کی رسائی ہے اس طرف
خیر البشر نے راہ بتائی ہے اس طرف
ہاں ولولے جو ہوں یہ پئے خدمتِ جہاں
ان کوششوں سے دہر کو مل جائے کچھ اماں
الفت فروغ پائے محبت ہو ضوفشاں
دیں روح کو عرج یہ ذہنی ترقیاں
پھر خود ضیا فلک کے ستاروں کی ماند ہو
جو ذرّہ اس زمین پہ ہو ایک چاند ہو
عنوانِ آفرینش و سرنامہ وجود
اُس کی نظر کے سامنے اقلیم ہست و بود
آئینہ اس کے واسطے کونین کی نمود
کیوں اس کے نام پر نہ زمانہ پڑھے درُود
حسنِ نظر بھی اس میں صفات ضمیر بھی
وہ باصرہ نواز بھی تھا اور بصیر بھی
ذاتِ محمد عربی ہے وہ پاک ذات
آئینہ جس کے واسطے تھی بزم شش جہات
اُس کو کھلی کتاب تھے اسرارِ کائنات
وہ شاہد و شہود وہی ناظرِ حیات
روشن تھے اُس پہ حال عدم اور وجود کے
پردے اٹھے ہوئے تھے غیاب و شہود کے