بدلا معاشرے کا سسکتا ہوا نظام
انساں کو ایک سطح پہ لایا بہ اہتمام
ہر ایک کو بتا دیا جس کا تھا جو مقام
آقا جو تھے غلاموں کو کرنے لگے سلام
چھینٹیں جو دامنوں پہ پڑی تھیں وہ دُھل گئیں
آنکھیں تھیں جن کی بند ابھی تک وہ کُھل گئیں
بعثت سے اُس کی دورِ جہاں جگمگا اٹھا
آتی تھی ذرّہ ذرّہ سے آوازِ مرحبا
آتشکدوں میں سرد ہوئی آتشِ بلا
تثلیث کا طلسمِ کُہن ٹوٹنے لگا
کچّے تھے جتنے رنگ وہ سب چُھوٹنے لگے
دیکھا نظر اٹھا کے تو بُت ٹوٹنے لگے
اُترا زمینِ مکّہ پہ اس آن بان سے
صلّ علیٰ کی آئی صدا آسمان سے
گزرا مصیبتوں کے ہر اک امتحان سے
دیکھا مآلِ کار بصیرت کی شان سے
حسن و جمال ذاتِ احد دیکھتی ہوئی
آنکھیں ازل سے تا بہ ابَد دیکھتی ہوئی
باتوں میں لطف، خُلق میں عظمت، جبیں پہ نُور
ایک اک عمل تلطف و اخلاص کا ظہور
آئینہ انکسار کا کبر و انا سے دور
داتا، سخی، شریف، مزکی، غنی، غیور
اس نے حیاتِ تازہ کا سامان کر دیا
انسان کو جھنجھوڑ کے انسان کر دیا
چودہ سو سال گذرے کہ مکّہ میں اک بشر
اُمّی مگر علومِ الٰہی سے باخبر
بندوں کے درمیان خدا کا پیامبر
صادق امین صابر و ساجد بہر نظر
بندوں کو وہ خدا کی عطائے عظیم تھا
آغوشِ کائنات مین دُرِّ یتیم تھا
صدقِ مقال و خُلق عظیم اُس کی روشنی
جود و سخا و لطف عمیم اس کی روشنی
انفاسِ طاہرہ کی شمیم اس کی روشنی
خلد و جنان و باغِ نعیم اس کی روشنی
اِس روشنی سے زیست کا سامان آ گیا
انسانیت کی سطح پہ انسان آ گیا
ہاشم کے خاندان میں روشن ہوا چراغ
شیبہ کا دل خوشی سے ہوا کھل کے باغ باغ
ہر غم سے کائنات کو حاصل ہوا فراغ
پُر نُور قلب ہو گئے روشن ہوئے دماغ
بدرالدجیٰ نے دن کیا ظُلمت کی رات کو
حاصل ہوا عظیم اُجالا حیات کو