قال علی بن ابی طالب علیہ السلام: احمق الناس من حشیٰ کتابہ بالترھات۔
مستدرک الوسائل
علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا: "لوگوں میں احمق ترین شخص وہ ہے جو اپنی تحریر کو بیہودہ باتوں سے بھر دے۔"
علی علیہ السلام فرمود: "نادانترین مردم کسی است کہ نوشتہ اش را از سخنانِ یاوہ پر کند۔"
علی علیہ السلام نے فرمایا: "لوگوں میں احمق ترین شخص وہ ہے جو اپنی تحریر کو بیہودہ باتوں سے بھر دے۔"
پھیلی خلوص و مہر و اخُوّت کی اک ضیا
پچھلی عداوتوں کا اندھیرا سمٹ گیا
انسانیت میں فرقِ مدارج نہیں رہا
سب فیض تھا جنابِ رسالتماب کا
سائے کُچل گئے حَسَد و افتراق کے
گوشوں میں جا چھپے تھے اندھیرے نفاق کے
کی دُور اُس نے شرک و جہالت کی تیرگی
باقی رکھی نہ ظلم و شقاوت کی تیرگی
رُخصت ہوئی ہر ایک طبیعت کی تیرگی
کافور ہو گئی شبِ وحشت کی تیرگی
ہم رنگ، صبحِ خُلد سے تیرہ شبی ہوئی
اس چاندنی نے کھیت کیا روشنی ہوئی
مصباحِ بزمِ وحدت و شمعِ جمالِ رب
عرفانِ حق کا مہرِ منوّر، شہِ عرب
تاریکیوں میں کثرتِ انوار کا سبب
محفل طراز قدس سرمسندِادَب
تنویرِ وحی جلوہ نما بات بات میں
پیہم تجلیاں تھیں محمد کی ذات میں
وہ روشنی، وہ نُور، وہ طلعت، وہ ضو، وہ آن
وہ تابشیں، وہ رنگ، وہ جلوے، وہ آن بان
درِّ یتیم و لعل درخشاں عرب کی شان
صادق، امین، حامئ حق، فخرِ انس و جان
بخشیں ضیائیں جس نے جہانِ عظیم کو
جو نُور طور پر نظر آیا کلیم کو
السلام علیکم
کیا یہ مکمل روسی حروف ہیں یا صرف تاجکی میں مستعمل حروف ہیں؟ علاوہ ازیں ان کی ترتیب اسی طرح سے ہے جس ترتیب سے آپ نے یہاں لکھا ہے یا اس سے مختلف؟
تھے سب کے دل کے حال سے واقف حبیبِ رب
کہتے نہ تھے زباں سے کبھی کچھ شہِ عرب
آئینہ ہونے والے تھے اعمال اور سبب
رازِ درُوں کسی کا نہ لاتے تھے تا بہ لب
پردہ منافقوں کا اٹھانے میں دیر تھی
ابنِ علی کے دہر میں آنے کی دیر تھی
ہر دل کو اعتبار حقیقت کا آ گیا
انداز سرکشی میں عبادت کا آ گیا
بیگانگی میں رنگ محبّت کا آ گیا
انسان کو یقین قیامت کا آ گیا
لو لگ گئی جو قدرت پروردگار سے
الفت رہی نہ زندگئ مُستعار سے
قائم ہوا زمانے کا آپس میں اعتبار
ایفائے عہد بن گیا ایمان کا شعار
سوکھے ہوئے چمن میں پلٹ آئی پھر بہار
ہر نخل بار ور ہوا ہر دشت لالہ زار
سوئے ہوئے ضمیر جو بیدار ہو گئے
انگڑائی لے کے دشت چمن زار ہو گئے
تفریقِ نسل و قوم مٹا دی بہ یک نگاہ
ذی رُتبہ تھا سپید نہ کم مرتبہ سیاہ
آقا میں اور غلام میں ہونے لگا نباہ
جورِ قوی سے مل گئی کمزور کو پناہ
فیضِ توجہاتِ رسالت مآب سے
ذرّے نظر ملانے لگے آفتاب سے
خونخوار بھیڑیوں کو دیا حلمِ بیکراں
صحرا کے بدؤوں کو بنایا فلک نشاں
جہّال، فیض پا کے ہوئے عالمِ زماں
بت خانہ قدیم میں ہونے لگی اذاں
توحید کے پیام سے سب آشنا ہوئے
بُھولے جو تھے خدا کو وہ پھر باخدا ہوئے
چھوڑا بتوں کو ہو گئے بندے خدا پرست
آلودگئ کفر سے نکلے خُدا پرست
کرنے لگے جفاؤں سے توبہ جفا پرست
آئے گروہِ حق میں مگر کچھ ہوا پرست
وحدانیت کی راہ نہ دیکھی کُھلی ہوئی
آنکھوں پہ اور دلوں پہ تھیں مہریں لگی ہوئی
صادق، امین، مصلح و ہادی و راہبر
ہر ذہن و دل کے درد مسلسل کا چارہ گر
ہر اک کی دیکھ بھال ہر اک بات پر نظر
جس پر خُدا کو ناز ہو اس شان کا بشر
آنکھوں سے سب کی پردہ غفلت اُٹھا دیا
ہر کم نظر کو دیدہ بینا عطا کیا