ارشد بھائی ، اب تو اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ شاعری یہ نہیں ہوتی کہ الفاظ بکھیر کر وزن پورا کیا جائے، روانی اس میں ہوتی ہے کہ نثر سے قریب ترین اظہار بیان ہو
مطلع کو ہی دیکھئے
مجھ کو اپنی تُو عبادت میں لگا دے مولا
اس کی دوسری ممکنہ شکلوں پر غور کریں
مجھ کو تو اپنی....
تو مجھے...
پہلا مصرع دونوں شکلوں میں اچھا نہیں، مقاطعہ جیسا لفظ تو غزل میں فٹ نہیں ہو رہا
درست نثر یوں ہونی تھی کہ نہ کوئی نفرت کی نہ کسی انتشار کی باتیں ( انتشار تو قافیہ ہے، اسے نہیں بدل رہا)
ایک متبادل
نہ نفرتوں کی، نہ کچھ انتشار... اس میں تنافر ہے
یا
کدورتوں کی نہ کچھ انتشار...
درست
خدا بچائے...
لگتا ہے کہ موسم سب جگہ تبدیل ہو گئے ہیں۔ حیدر آباد دکن میں بھی بارش ہو رہی ہے اور یہاں امریکہ میں بہار میں بھی خزاں جاری ہے، سردی کی وجہ سے اب تک نئے پتے نہیں آئے درختوں پر
رمضان، م ساکن، تو شاید چل جائے لیکن ثقہ حضرات کی نظروں سے نہ گزرے!
اجر، ج پر زبر، تو بہر حال غلط تلفظ ہے
دس گنہ تو املا کی غلطی لگتی ہے، بجائے گنا، الف کے ساتھ، کے۔لیکن وہ مصرع درست لگ رہا ہے
باقی عظیم کی ے معروضات درست ہیں
اب کچھ بہتری محسوس ہو رہی ہے ۔اگرچہ معکوس لفظ کے استعمال پر ہی اعتراض ہو سکتا ہے۔ معکوس کو "اُلٹا" کے معنی لیا جائے تو مراد منزل سے واپسی کی طرف؟ لیکن اب بھی دوسرے مصرعے میں یہ بیان ہے کہ منزل تو ابھی پہنچے ہی نہیں!
’سر میرا ‘والے شعر میں واقعی عجز کلام ہے
کہا تھا اُس نے مجھے لوٹ کے وہ آئے گا
’لوٹ کر‘ کر دیں جو زیادہ فصیح ہے
معکوس پر بھی عظیم سے متفق ہوں، کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہے
عزیزان گرامی
تسلیمات
اردو تحریر میں اردو کے پہلے آن لائن جریدے ’سَمت‘ کے نئے شمارے کے ساتھ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ کے پسندیدہ آن لائن جریدے ’سَمت‘ کے شمارہ ۵۸ مطابق اپریل تا جون ۲۰۲۳ء کا اجراء کر دیا گیا ہے۔ شمارہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے...