وہ ذوالفقار جس کی برش مرگِ دشمناں
وہ ذوالفقار جس نے دیے لاکھ امتحاں
بدر و اُحد میں خیبر و خندق میں ضوفشاں
وہ ذوالفقار جس سے اجل مانگتی اماں
نکلی فروغِ جلوہ وحدت کے واسطے
چمکی نمازِ حق کی حمایت کے واسطے
حاصل ہے ان کے نام کو اعلیٰ سے اشتقاق
اُن کے ورود کا تھا محمد کو اشتیاق
اُن کے ہر اک عمل سے رسالت کو اتفاق
دُلدُل انہیں زمیں پہ ملا ثانی بُراق
رکھ کر لحاظِ طبعِ جلالت شعار کا
تحفہ ملا خدا سے انہیں ذوالفقار کا
مولودِ کعبہ شاہِ نجف اوّلیں امام
خیبر کشا زعیم عرب حامئ عوام
جبریل کے پروں پہ لکھا ہے انہیں کا نام
اُن پر سلام اُن کے کمالات پر سلام
جوہر اس آئینے کے بہت منجلی ہوئے
معراج کے گواہ خدا و علی ہوئے
سمجھے کہ اب محافظِ ایماں نہیں رہا
اسلام کے چمن کا نگہباں نہیں رہا
حامی دیں محافظِ قرآں نہیں رہا
انساں کے درد کا کوئی پُرساں نہیں رہا
فسق و گنہ پہ ٹوکنے والا کوئی نہیں
ظلم و ستم سے روکنے والا کوئی نہیں
شبیر، نُورِ دیدہ سرکار دوجہاں
شبیر، اوجِ زیست پر اک مہر ضوفشاں
شبیر، صبر و شکر کے سالارِ کارواں
شبیر، ورثہ دار نبی، سید الزماں
آقائے کعبہ، صاحب طیبہ حُسین ہیں
مظلومیت کے حُسن کا جلوہ حُسین ہیں