نتائج تلاش

  1. سیدہ شگفتہ

    درود بر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - 46

    اللھم صل علی محمد و آل محمد
  2. سیدہ شگفتہ

    فارسی شاعری در مدحِ سمرقند و بخارا - صدرالدین عینی

    این ھمین ملک بخاراست، کہ روزی خواھم رفت گر کہ رفتم، برنمی گردم ز نجا چندین سال
  3. سیدہ شگفتہ

    مبارکباد زکریا بھائی کے 18000 پیغامات!

    کرنا کیا تھا تب بھی مبارکبادیں وصول کر لینی تھیں :) اور یہ لاکھ والا کیک کسے ملنا ہے؟
  4. سیدہ شگفتہ

    مبارکباد زکریا بھائی کے 18000 پیغامات!

    اٹھارہ ہزار چونسٹھ مراسلے مبارک ہوں زیک بھائی!
  5. سیدہ شگفتہ

    مبارکباد سالگرہ مبارک

    سالگرہ بہت مبارک ہو!
  6. سیدہ شگفتہ

    شیراز کی خوبصورت نصیرالملک مسجد

    واہ، انتہائی حسین!
  7. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    قاسم سلاح جنگ سجاتے تھے بار بار قبضے میں لے کے تولتے تھے تیغِ آبدار اُنگلی سے چُھو کے دیکھتے گاہے انی کی دھار ترکش اُلٹ کے تیروں کا کرتے کبھی شمار یا دُور ہی سے زہ پہ چڑھا کر کمان کو کرتے نشانہ فوجِ ستم کے نشان کو
  8. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    اکبر کو انتظار کہ حکمِ پدر ملے جوہر دکھائیں اپنے اجازت اگر ملے مل جائے اذن بھی جو دُعا کو اثر ملے غربت کا دور ختم ہو جنّت میں گھر ملے غم تھا پھوپھی نہ روئیں کہیں پُھوٹ پُھوٹ کر رکھا تھا جذبِ دل کا گلا گھوٹ گھوٹ کر
  9. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: قلم

    خیموں کے گرد پھرتے تھے عباسِ نامدار پروانہ وار شمع امامت پہ تھے نثار تھا زندگی کا خدمتِ شبیر پر مدار بس دیکھتے تھے اُن کی نگاہوں کو بار بار فوجیں تو اک طرف تھیں وہ جذبے تھے شیر کے رکھ دیتے یہ فرات کی موجوں کو پھیر کے
  10. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: نور

    ان کے ثباتِ پا کا ہے شاید وہ ریگزار جس میں نہیں تھا نام طراوت کا زینہار پُر نور جس میں تابِ سیادت سے تھا غبار یعنی زمینِ کرب و بلا، عرشِ افتخار دفن آفتاب جس میں ہوئے یہ وہ خاک ہے روشن لہو پیا ہے تو کیا تابناک ہے
  11. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: نور

    بے وجہ ہو جو قتل وہ بسمل نہیں حُسین سب کی رسائی میں ہوں وہ منزل نہیں حُسین تابندگئ دین سے غافل نہیں حُسین بُجھ کر بھی شمع کُشتہ محفل نہیں حُسین روشن نہ ان کے نام سے کیوں شمع غم رہے طوفانِ خون و خاک میں ثابت قدم رہے
  12. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: بصارت اور بصیرت

    وہم غلط میں اپنے ادھر ظلم مُبتلا اور اس طرف حسین دل و جانِ مصطفٰے دیکھا کیے زمانے کی بدلی ہوئی ہوا قبرِ نبی پہ منتظرِ حکمِ کبریا سُنتے ہوئے صدائے فُغاں کائنات کی تصویر صبر و شکر کی عزم و ثبات کی
  13. سیدہ شگفتہ

    مرثیہ: بصارت اور بصیرت

    باقی ہیں اب رسول نہ موجود ہیں امیر اب ذہن ظلم فکر حسن میں یہیں اسیر کوئی جگا سکے گا نہ اب قوم کا مسیر شبیر تو مزار پہ جد کے ہیں گوشہ گیر دیکھیں گے صرف اپنے ہی انجام کی طرف یہ کیوں نظر اُٹھائیں گے اسلام کی طرف
Top