قاسم سلاح جنگ سجاتے تھے بار بار
قبضے میں لے کے تولتے تھے تیغِ آبدار
اُنگلی سے چُھو کے دیکھتے گاہے انی کی دھار
ترکش اُلٹ کے تیروں کا کرتے کبھی شمار
یا دُور ہی سے زہ پہ چڑھا کر کمان کو
کرتے نشانہ فوجِ ستم کے نشان کو
اکبر کو انتظار کہ حکمِ پدر ملے
جوہر دکھائیں اپنے اجازت اگر ملے
مل جائے اذن بھی جو دُعا کو اثر ملے
غربت کا دور ختم ہو جنّت میں گھر ملے
غم تھا پھوپھی نہ روئیں کہیں پُھوٹ پُھوٹ کر
رکھا تھا جذبِ دل کا گلا گھوٹ گھوٹ کر
خیموں کے گرد پھرتے تھے عباسِ نامدار
پروانہ وار شمع امامت پہ تھے نثار
تھا زندگی کا خدمتِ شبیر پر مدار
بس دیکھتے تھے اُن کی نگاہوں کو بار بار
فوجیں تو اک طرف تھیں وہ جذبے تھے شیر کے
رکھ دیتے یہ فرات کی موجوں کو پھیر کے
ان کے ثباتِ پا کا ہے شاید وہ ریگزار
جس میں نہیں تھا نام طراوت کا زینہار
پُر نور جس میں تابِ سیادت سے تھا غبار
یعنی زمینِ کرب و بلا، عرشِ افتخار
دفن آفتاب جس میں ہوئے یہ وہ خاک ہے
روشن لہو پیا ہے تو کیا تابناک ہے
بے وجہ ہو جو قتل وہ بسمل نہیں حُسین
سب کی رسائی میں ہوں وہ منزل نہیں حُسین
تابندگئ دین سے غافل نہیں حُسین
بُجھ کر بھی شمع کُشتہ محفل نہیں حُسین
روشن نہ ان کے نام سے کیوں شمع غم رہے
طوفانِ خون و خاک میں ثابت قدم رہے
وہم غلط میں اپنے ادھر ظلم مُبتلا
اور اس طرف حسین دل و جانِ مصطفٰے
دیکھا کیے زمانے کی بدلی ہوئی ہوا
قبرِ نبی پہ منتظرِ حکمِ کبریا
سُنتے ہوئے صدائے فُغاں کائنات کی
تصویر صبر و شکر کی عزم و ثبات کی
باقی ہیں اب رسول نہ موجود ہیں امیر
اب ذہن ظلم فکر حسن میں یہیں اسیر
کوئی جگا سکے گا نہ اب قوم کا مسیر
شبیر تو مزار پہ جد کے ہیں گوشہ گیر
دیکھیں گے صرف اپنے ہی انجام کی طرف
یہ کیوں نظر اُٹھائیں گے اسلام کی طرف