تواتر
کبھی دیکھی ہے کیا تُم نے
ٹپکتی بوند پانی کی
کسی پتھر زمیںپر بھی
فقط گر کے تواتر سے
زمیں میں چھید کرتی ہے
اُ سی اک بوند کی مانند
میں ٹپکوں گا تواترسے
تمھارے سنگ سے دل میں
کبھی تو چھید کردوں گا۔
پیارے بھائی اظہر ۔ تحریری شکل میں شامل کیجے ۔۔
نظم اپنی معنویت میں خوب ہے ۔۔ باقی باتیں اگر...