دل پہ کیا کیا عتاب لایا ہے
عشق گویا عذاب لایا ہے
کرچیاں بکھری ہیں بدن کی ہر سو
ہجر وہ انقلاب لایا ہے
بیچ کر آدمی سکونِ دل
بدلے میں صرف خواب لایا ہے
جو بھی لوٹا ہے شہرِ جاناں سے
ساتھ اپنے سراب لایا ہے
کون دیتا ہے ساتھ صدیوں تک
آنکھ میں کیوں تو آب لایا ہے
بحرِ ظلمت میں روشنی کر دی
ہاتھ میں آفتاب...