ہمیں اپنے علاوہ کوئی مریض دستیاب نہ تھا!
سو ہم نے اپنے کان میں کہا:
ہاں دوا دو مگر یہ بتلا دو
مجھ کو آرام تو نہیں ہوگا؟
پھر خود ہی یہ سوچ کر تسلی ہوئی کہ بھلا ایک بلکہ نصف کتاب پڑھ کر آرام کیسے آ سکتا ہے بھلا۔ :)
خوش آمدید نُخبٰی عرفان
معذرت کہ ہم آپ کے تعارف کے پندرہ صفحات پڑھنے سے قاصر ہیں۔ سو فی الحال تھوڑے لکھے کو بہت جانیے اور خط کو۔ ۔۔۔ :)
ہمیں گمان ہے کہ محفل میں آپ کا وقت اچھا ہی گزر رہا ہے سو اپنا رسمی جملہ لکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ :)
میں نے لڑکپن میں نفسیات کی ایک کافی ضخیم کتاب پڑھی تھی جو کہ اردو میں تھی اور غالباً نصابی کتاب تھی۔ جو مجھے کافی دلچسپ لگی۔ لیکن جب کتاب آدھی ہو گئی اور باقاعدہ علاج ِ مجنون شروع ہو گیا تو پھر میں نے اس کتاب کو پڑھنا چھوڑ دیا۔
غزل
اردو کو فارسی نے شرابی بنا دیا
عربی نے اس کو خاص ترابی بنا دیا
اہلِ زباں نے اس کو بنایا بہت ثقیل
پنجابیوں نے اس کو گلابی بنا دیا
دہلی کا اس کے ساتھ ہے ٹکسال کا سلوک
اور لکھنئو نے اس کو نوابی بنا دیا
بخشی ہے کچھ کرختگی اس کو پٹھان نے
اس حسنِ بھوربن کو صوابی بنا دیا
باتوں میں اس کی ترکی...
بہت ہی خوب !
بہت عمدہ کلام ہے۔
بھائی عبدالقیوم چوہدری آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے ہمیں ٹیگ کیا اور ہمیں یہ عمدہ کلام پڑھنے کو ملا۔ ظہیر بھائی نے بھی بہت خوب ترجمہ کیا ہے۔ سادہ و پر کیف۔ ورنہ ہم اس نظم کا مکمل لطف نہیں لے پاتے۔
جزاک اللہ!