ارے عثمان بھیا!
آپ تو اتنے میچور ہیں، اچھا برا سب سمجھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال سے کو ن انکار کر سکتا ہے۔
یہ تو ذکر اُن ٹین ایجر بچوں کا ہے جنہیں اچھے برے کی زیادہ سمجھ نہیں ہوتی۔ (مصنف کی مراد ٹک ٹاک ویڈیوز اور اس قسم کے دوسرے کونٹنٹ سے ہے۔ )
خواتین تو اسی طرح صفائی کرتی ہیں۔ کیونکہ سارے گھر کو دیکھنا ہوتا ہے تو جس جس کا سامان ہوتا ہے پھینکتے ہوئے اُس سے پوچھنا پڑتا ہے کہ آگے چل کر یہ چیز کسی کام تو نہیں آنے والی۔
مزاج اپنا ،خیال اپنا ،پسند اپنی ,کمال کیا ہے؟
جو یار چاہے ،وہ حال اپنا بنا کہ رکھنا ،کمال یہ ہے
مشکل تو ضرور ہوتا ہے نئے خیال کو جگہ دینا مگر اس سے بھی زیادہ مشکل ہے پرانے خیالات کو جھٹکنا جو شاخ در شاخ ہمارے دماغ کے ہر کونے میں کسی آ کاش بیل کی طرح بسیرا کیے ہوتے ہیں۔
ایک دماغ اپنے آپ کو...
بہت شکریہ ظہیر بھائی!
بہت مفصل اور دلچسپ جواب دیا آپ نے۔
میں یہ سوچتا ہوں کہ جن لوگوں کے پاس ذاتی کتب خانے میں اچھی خاصی کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ ان کتابوں کو اپنے جی جان سے لگا کر رکھتے ہیں (کتابوں کو خود سے جدا کرنے کا دل بھی نہیں چاہتا)۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اکثر ذاتی کتب...
ویسے طبعاً مجھے اس طرز کی صفائی کا خیال اتنی جلدی نہیں آتا۔ ہاں البتہ جب جب میں صفائی کر لیتا ہوں اور چیزیں صاف ستھری لگنے لگتی ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔ اکثر چیزیں جو میں پہلے برسوں رکھے رہتا تھا اب جی کڑا کر کے پھینک دیتا ہوں ۔ یا کہیں اور ٹھکانے لگا دیتا ہوں۔ :)
اس کام سے کافی سکون ملتا...
مشکل تو ہے۔ :)
اور ہمیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ہم کچھ سوچ رہے تھے۔ :)
تفنن بر طرف آج کل کچھ اس قسم کے مضامین پڑھنے میں آ گئے جو ہمیں Decluttering کی ترغیب دے رہے ہیں۔ :)
اردو میں نہ جانے کیا لفظ استعمال کریں گے اس Decluttering کے لئے۔
ہم جب اپنے گھر یا دفتر میں صفائی کرتے ہیں تو اکثر اہم اور ضروری اشیاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت سی ایسی چیزوں سے بھی سابقہ پڑتا ہے کہ جن کے بارے میں ہم یہ سوچتے ہیں کہ انہیں پھینک دیا جائے یا رکھ لیا جائے؟
ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جو اکثر چیزیں یہ سوچ کر رکھ لیتے ہیں کہ کسی وقت...