غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
رگِ جاں سے نزدیک ہے میری جاں تُو
مگر پھر جو دیکھا کہاں میں کہاں تُو
حقیقت میں ہے ماسویٰ چیز ہی کیا؟
اِدھر تو اُدھر تو یہاں تو وہاں تُو
نہ تو مجھ کو چھوڑے نہ میں تجھ کو چھوڑوں
وہیں تو جہاں میں ، وہیں میں جہاں تُو
حفیظ اور حافظ بھی ہے نام تیرا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
حیاء و شرم سے چُپ چاپ کب وہ آ کے چلے
اگر چلے تو مجھے سِیدھیاں سُنا کے چلے
وہ شاد شاد دمِ صبح مُسکرا کے چلے
ستم تو یہ ہے کہ مجھ کو گلے لگا کے چلے
یہ چال ہے کہ قیامت ہے اے بُتِ کافر
خدا کرے کہ یوں ہی سامنے خدا کے چلے
ہمارے دُودِ جگر میں ذرا نہیں...
غزل
(خواجہ محمد الرؤ ف عشرت لکھنوی)
مسیح بن کے کوئی معجزہ دکھا دینا
جگر کا درد ہو کم جس سے وہ دوا دینا
کہیں گی دیکھ کے تم کو بہشت میں حوریں
ہمیں بھی موہنی صورت ذرا دکھا دینا
فراقِ یار میں لذت نہیں ہے جینے کی
پلا کے زہر مجھے شام سے سُلا دینا
خدا غریب کی سنتا ہے غیب سے فریاد...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
کہو جب تم کہ ہے بیمار میرا
تو کیوں کر دور ہو آزار میرا
بُرائی میں بھی ہوگا کوئی مطلب
وہ کرتے ذکر کیوں بے کار میرا
مجھے کوسیں، بلا سے گالیاں دیں
مگر وہ نام لیں ہر بار میرا
کہوں گا حشر میں یہ کون ہیں کون
مزا دے جائے گا انکار میرا
قیامت ہے...
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
الھم صلی علی محمد ﷺ وعلی آل محمد ﷺ
نعت ِ رسول اللہﷺ
حمد، محمد ﷺ ، احمد ﷺ ، حامد، خالق کے شہکار، نبی ﷺ
نورِ مجّسم، ہادیِ برحق، نبیوں کے سردار، نبی ﷺ
صاحبِ کوثر، ساقیِ کوثر ﷺ، کوثر کے حقدار، نبی ﷺ
رب کے...
غزل
(روش صدیقی)
وہ برقِ ناز گریزاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
مگر شریکِ رگِ جاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہزار، دل ہے ترا مشرقِ مہ و خورشید
غبارِ منزلِ جاناں نہیں تو کچھ بھی نہیں
سکونِ دل تو کہاں ہے، مگر یہ خوابِ سکوں
نثارِ زلفِ پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
گذر چکی تری کشتی ہزار طوفاں سے...
غزل
(شباب، بدایونی)
کھوگیا تیری چاہ میں ، مٹ گیا تیری راہ میں
پھر بھی ہوئی نہ قدر کچھ دل کی تری نگاہ میں
دل نے یہ کہہ کے بارہا ہوش ہمارے کھو دئے
کہئے تو کیا نظر پڑا یار کی جلوہ گاہ میں
پرسش حال سے غرض؟ عذرِ ستم سے فائدہ؟
اب کوئی آرزو بھی ہو میرے دل تباہ میں
دیکھ فریبِ التفات...
غزل
(سید عبدالحمید عدم)
مضطرب ہوں جلوہءِ اُمید باطل دیکھ کر
لرزہ بر اندام ہوں بیتابئ دل دیکھ کر
ناخدائے دل کو موجوں سے یہ کیسا ربط ہے
ماہیء بے آب ہو جاتا ہے ساحل دیکھ کر
وقتِ آخر ہم نہ ٹھہرے بارِ دوشِ دوستاں
رُوح خوش ہے مرگِ غربت کا یہ حاصل دیکھ کر
زعمِ عقل و فہم اِک نادانئ...
رہرو اور رہزن
(سید عبدالحمید عدم)
رواں ہیں رہروؤں کے قافلے صحرائے وحشت سے
یہ کیسے لوگ ہیں لڑنے چلے ہیں دیو فطرت سے
وہ ظُلمت ہے کہ ہیبت کا فرشتہ کانپ جاتا ہے
وہ تاریکی ہے شیطانوں کا دل بھی خوف کھاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی سنسان تاریکی کے وسعت گیر دامن میں
اسی سنسان خاموشی کے بے تنویر مسکن...
غزل
(رضا علی وحشت)
تری بزمِ ناز میں تھا جو دل کبھی شمعِ روشنِ آرزو
ستمِ زمانہ سے بن گیا وہی آج مدفنِ آرزو
مرا دل ازل کا فسردہ ہے مجھے شوق سے سروکار کیا
نہ ہو اے میکدہء ہوس نہ دماغِ گلشنِ آرزو
وہ اُمیدیں خاک میں مل گئیں وہ تمام نشہ اُتر گیا
نظر اس نے کی جو عتاب کی، ہوئی برقِ خرمن...
غزل
(ماہرالقادری)
تیغ پھر بے نیام ہو جائے
ہاں ذرا قتلِ عام ہو جائے
دل کو کوہِ الم سے ٹکرادوں
آج قِصّہ تمام ہوجائے
تجھ پہ زاہد، خدا کرے کہ شراب
خُلد میں بھی حرام ہو جائے
تم کسی دن جھلک دکھا جاؤ
دُور ہی سے سلام ہو جائے
ٹوٹ جائے حدِ خصوصیت
کاش دیدار، عام ہو جائے
مجھ پر اس طرح میکشی ہو فرض...
غزل
(حرماں خیر آبادی)
کیا زندگی ہے فخرِ زمانہ
دل عاشقانہ، جی والہانہ
پوچھو نہ ربطِ حسن و محبت
کچھ سب پہ ظاہر، کچھ غائبانہ
یاد آرہے ہیں اک ایک کر کے
پچھلی محبت، اگلا زمانہ
دیکھوتو دو ہیں، سمجھو تو یکساں
اُن کی کہانی، اپنا فسانہ
دل کو مٹا دے یا حسرتوں کو
سمجھوں گا تو نے بخشا خزانہ...
رُوح ِاِستبداد کا فرمان
(جوش)
ہاں اے مرے ذی ہوش و فسوں کار سپوتو
جاگے ہوئے محکوم دماغوں کو سُلا دو
تہذیب کے جادو سے ہر اک پیرو جواں کو
اپنی روشِ عام کا نقال بنا دو
چلتی ہیں جن افکار سے اقوام کی نبضیں
ذہنوں میں اُن افکار کی بنیاد ہلادو
جو قفل سکھاتا ہے زبانوں کو خموشی
وہ قفلِ...
غزل
(آغا شاعر قزلباش دہلوی)
جوشِ الفت میں وہ قطرے کا فنا ہو جانا
اُس پہ دریا کا وہ لب تشنہ سوا ہوجانا
کوئی انداز ہے! رہ رہ کے ، خفا ہوجانا
اپنے بندوں سے، یہ کھچنا کہ خدا ہوجانا
ضبطِ غم سے مری آہوں کے شرارے کجلائے
بے ہوا، کام ہے شعلے کا فنا ہوجانا
اپنے نیرنگیء انداز کا اعجاز تو دیکھ
ابھی...
غزل
(نجم ندوی)
عروج کا دور آرہا ہے، جو ذرّہ ہے آفتاب ہوگا
رَوش زمانہ کی کہہ رہی ہے کہ اِک بڑا انقلاب ہوگا
فلک سے برسیں گے وہ شرارے، زمین وقف تپش ہوگی
سکونِ خلوت کدہ کا خوگر ستم کش اضطراب ہوگا
ہوا ہے اِک داغ دل میں پیدا، خدا اُسے بخت ور بنائے
جو بچ گیا تو اندھیرے گھر کا یہی کبھی...
غزل
(راز رامپوری)
شکوہء یار ہوا جاتا ہے
دل گنہگار ہوا جاتا ہے
دیکھ اے فرطِ جبیں فرسائی
کوئی بیزار ہوا جاتا ہے
میری ناکام نگاہوں کے لیئے
پھول بھی خار ہوا جاتا ہے
کام جو سہل نظر آتا تھا
اب وہ دشوار ہوا جاتا ہے
جب سے منشائے جنوں سمجھا ہوں
در بھی دیوار ہوا جاتا ہے
کیف تعزیر گھٹا دو ورنہ...
غزل
(ماہر القادری)
ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ہے کامیاب
ذرّے بھی بے مثال، ستارے بھی لاجواب
اس طرح اُٹھ رہا ہے تِرا گوشہء نقاب
جلوے بھی کامیاب نگاہیں بھی کامیاب
ماتھا، نشاطِ حُسن سے کھلتا ہوا کنول
عارض فروغِ مے سے مہکتے ہوئے گلاب
میں نے پڑھا جو شعر تو وہ مسکرادیئے
اتنی ذرا سی بات...
غزل
(کشفی ملتانی)
کرتا ہوں دل سے الفت کی باتیں
دیوانہ پن کی، وحشت کی باتیں
اچھی ہیں زاہد طاعت کی باتیں
لیکن ہیں وہ بھی فرصت کی باتیں
کیا پوچھتے ہو الفت کی باتیں
بھولی ہوئی ہیں مُدّت کی باتیں
کیوں خوش ہیں دشمن ناکامیوں پر
ناکامیاں ہیں قسمت کی باتیں
بیگانہ بن کر دل مانگتے ہو...
غزل
(اصغر حسین خاں نظیر لُدھیانوی)
تشویش میں ہے بلبلِ شیدا کئی دن سے
گلشن میں نہیں زمز مہ پیرا کئی دن سے
مضطر ہے بغل میں دلِ شیدا کئی دن سے
بیٹھا ہوں تری یاد میں تنہا کئی دن سے
ہاں قلب کا ہر ذرہ ہے پیاسا کئی دن سے
ہاں ابرِ کرم کی ہے تمنا کئی دن سے
ہر چند کہ خلوت میں ہے وامق کا...
غزل
(اصغر حسین خاں نظیر)
خندہ بہ لب، شگفتہ رُو، ناز سے آرہے ہو تم
میری نگاہِ شوق پر حُسن لُٹا رہے ہو تم
زلفِ دراز کھول کر خود کو چھُپارہے ہو تم
کیفیت و سرور کا پردہ بنا رہے ہو تم
ہیر کے شعر دمبدم سوز سے گارہے ہو تم
کس کے کمالِ عشق کا حال سنا رہے ہو تم
طرّہء زلفِ عنبریں کھول...