نتائج تلاش

  1. کاشفی

    فنا کا ہوش آنا زندگی کا دردسر جانا - پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی

    غزل (پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی) فنا کا ہوش آنا زندگی کا دردسر جانا اجل کیا ہے خمار بادہء ہستی اُتر جانا عزیزانِ وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جانا کرشمہ یہ بھی ہے اے بےخبر افلاسِ قومی کا تلاشِ رزق میں اہلِ ہنر کا دربدر جانا مصیبت میں بشر کے جوہر...
  2. کاشفی

    کاش سنتے وہ پُر اثر باتیں - مرزا محمد ہادی عزیز

    غزل (مرزا محمد ہادی عزیز - 1906ء) کاش سنتے وہ پُر اثر باتیں دل سے جو کی تھیں رات بھر باتیں بے اثر کب ہے تری خاموشی کر رہی ہے تری نظر باتیں کوئی سمجھائے آ کے ناصح کو سُن سکے کون اسقدر باتیں اُس کے افسانے بن گئے لاکھوں میں نے جو کیں تھیں عمر بھر باتیں دم اُلٹ جائے گا عزیز عزیز رہ نہ...
  3. کاشفی

    فنا اُسی رنگ پر ہے قائم، فلک وہی چال چل رہا ہے - جلال الدین اکبر

    غزل (جلال الدین اکبر) فنا اُسی رنگ پر ہے قائم، فلک وہی چال چل رہا ہے شکستہ و منتشر ہے وہ کل، جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے یہ دیکھتے ہو جو کاسہء سر، غرور و غفلت سے کل تھا مملو یہی بدن ناز سے پلا تھا، جو آج مٹی میں گَل رہا ہے سمجھ ہو جسکی بلیغ سمجھے، نظر ہو جس کی وسیع دیکھے کبھی یہاں خاک بھی...
  4. کاشفی

    مصطفیٰ زیدی سینے میں خزاں، آنکھوں میں برسات رہی ہے - مصطفیٰ زیدی

    غزل (مصطفیٰ زیدی) سینے میں خزاں، آنکھوں میں برسات رہی ہے اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اُس سے ہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے صُوفی کا خدا اور تھا ، شاعر کا خدا اور تم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے ہم کچھ نہیں بولے تو...
  5. کاشفی

    آوَازہء حَق - جوش ملیح آبادی

    آوَازہء حَق ( جوش ملیح آبادی)
  6. کاشفی

    عدم بنائے دشمنی معلوم، فیضِ تنگدستی ہے - عدم

    غزل (عدم) بنائے دشمنی معلوم، فیضِ تنگدستی ہے زبردستوں کے غصّے کی گھٹا، ہم پر برستی ہے بساطِ قطرہء خون ِشہیداں پوچھنے والے ہے لرزاں موت جس سے وہ آتش زارِ ہستی ہے محبّت کی شرر انگیزیاں جینے کا ساماں ہیں ہے دل زندہ وہی جو آتشیں جذبوں کی بستی ہے بہارِ حسن سے لبریز ہے ہر گوشہء عالم حریمِ...
  7. کاشفی

    ساغر نظامی بلبل باغ حسن ہوں، نغمے کو ناز کیوں نہ ہو - ساغر نظامی

    غزل (ساغر نظامی) بلبل باغ حسن ہوں، نغمے کو ناز کیوں نہ ہو میری نوائے عیش میں ساز ہی ساز کیوں نہ ہو دل ہے جہانِ عاشقی، درد ہے کائناتِ حسن دل کا ہر ایک اضطراب درد نواز کیوں نہ ہو آپ جہانِ حُسن میں حُسن کے بادشاہ بھی ہیں ناز بجا ہے آپ کا، آپ کو ناز کیوں نہ ہو سجدہء مے پرست پر ہوتی ہے بارشِ...
  8. کاشفی

    کرتا ہوں برقِ قہر کا خوگر جگر کو میں- رسا

    غزل (رسا) کرتا ہوں برقِ قہر کا خوگر ،جگر کو میں چھُپ چھُپ کے دیکھتا ہوں ،کسی کی نظر کو میں کردے اگر گداز اسے ،گرمیء سجود کرلوں جبیں میں جذب ، ترے سنگِ در کو میں اُن کو یہ ڈر، نہ آئے کہیں آستاں پہ حرف مجھ کو یہ ضد کہ رکھ کے اُٹھاؤں نہ سر کو میں اللہ! اپنی نعمتِ اعظمٰی کو پھیر لے ذوقِ نظر...
  9. کاشفی

    چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں- حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں گھٹاہے، پھواریں ہیں، میخواریاں ہیں ستم کوشیاں ہیں، جفاکاریاں ہیں یہ کس کے مٹانے کی تیاریاں ہیں بتو! تم خدا جانے کیسے خدا ہو کہ ستاریاں ہیں، نہ غفاریاں ہیں جو اب کوئی پرساں نہیں ہے تو کیا غم غمِ دوست ہے اور غم خواریاں ہیں اگر تم...
  10. کاشفی

    گناہ لذّت آشنا، ترانہ زا رباب ہے - سروش بھوپالی

    غزل (سروش بھوپالی) گناہ لذّت آشنا، ترانہ زا رباب ہے ابھی فضا میں کیف ہے، ابھی ترا شباب ہے نہ داغِ قلب درد زار ہے، نہ آفتاب ہے کسی کے بحر ِ حسن کا یہ مشتعل حباب ہے تجلّیوں کی شوخیاں سمٹ کے حسن بن گئیں ہزار سادگی سہی، شباب پھر شباب ہے وہی حیاتِ مضطرب، وہی وفورِ بیخودی! مجھے نشاط جلوہ کی نہ...
  11. کاشفی

    نہیں دیکھے گئے وہ بھی نگاہِ برقِ مضطر سے- لکشمی نرائن جوہر بدایونی

    غزل (لکشمی نرائن جوہر بدایونی) نہیں دیکھے گئے وہ بھی نگاہِ برقِ مضطر سے جو تنکے بچ رہےتھے آشیاں میں بادِ صرصر سے ارے صیاد مجبوری اسی کا نام ہے شاید نشیمن جل رہا ہے دیکھتے ہیں ہم ترے گھر سے بہارِ صحن گلشن ہے اگر اپنے مقدر میں قفس کی تیلیاں سرسبز ہوں گی دیدہء تر سے ہمارے دل کے زخموں کی یہ...
  12. کاشفی

    سرمستیوں میں روحِ جوانی کچل گئی!- اختر انصاری دہلوی

    غزل (اختر انصاری دہلوی) سرمستیوں میں روحِ جوانی کچل گئی! یعنی بہار، سوزِ بہاریں سے جل گئی کیا یاد کر کےعشرتِ رفتہ کو رویئے اک لہر تھی جو ناچتی گاتی نکل گئی وہ اک لمحہ جس میں ہوئی تھی نظر دوچار اُس ایک لمحے میں مری دنیا بدل گئی تھی نکہتوں میں لپٹی ہوئی ایک یاد، آہ موجِ نسیم آج کلیجہ مسل...
  13. کاشفی

    عدم اے عشق! وہ بُت رونقِ بُت خانہ بنا دے- عدم

    غزل (عدم) اے عشق! وہ بُت رونقِ بُت خانہ بنا دے جو ہستیء یزداں کو بھی افسانہ بنادے ہے عشرتِ دیوانگیء عشق عجب چیز دیوانہ بنا دے، مجھے دیوانہ بنا دے ہر فکرِ جگر سوز کی بنیاد خرد ہے اے دوست مجھے عقل سے بیگانہ بنا دے گمنام ہوں، ناپید ہوں، گویا کہ نہیں ہوں کیا دیکھ رہا ہے؟ مجھے افسانہ بنادے...
  14. کاشفی

    کسی مستِ شباب کی دنیا - امجد حیدر آبادی

    غزل (امجد حیدر آبادی) کسی مستِ شباب کی دنیا ایسی ہے، جیسے خواب کی دنیا ہائے ظالم کی مست آنکھوں میں بس رہی ہے شراب کی دنیا حُسن اس شوخ کا، خدا کی پناہ ہے مہ و آفتاب کی دنیا چین دم بھر، اسے نصیب نہیں دل ہے، یا انقلاب کی دنیا؟ محو غفلت ہے کائنات تمام ساری دنیا ہے خواب کی دنیا موت میں دو...
  15. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری غم دینے والا شاد رہے، پہلو میں ہجومِ غم ہی سہی - حفیظ ہوشیار پوری

    غزل (حفیظ ہوشیار پوری) غم دینے والا شاد رہے، پہلو میں ہجومِ غم ہی سہی لب اُن کے تبسّم ریز رہیں، آنکھیں میری پُرنم ہی سہی گر جذبِ عشق سلامت ہے ، یہ فرق بھی مٹنے والا ہے وہ حُسن کی اک دنیا ہی سہی، میں حیرت کا عالم ہی سہی ان مست نگاہوں کے آگے، پینے کا ذکر نہ کر ساقی میخانہ ترا جنّت ہی سہی،...
  16. کاشفی

    بہت اغماض بھی اچھا نہیں ہے- حکیم آزاد انصاری

    غزل (حکیم آزاد انصاری) بہت اغماض بھی اچھا نہیں ہے ہمارا کوئی حق ہے یا نہیں ہے؟ ضرورت تھی کہ تو غافل نہ ہوتا مگر تقدیر سے ایسا نہیں ہے مٹانا ہے تو کوتاہی نہ فرما سِسکتا چھوڑنا اچھا نہیں ہے کسی کو تیری نسبت کیا بتا دوں یہ دیکھا ہے کہ کچھ دیکھا نہیں ہے کبھی اپنے سلوکوں پر نظر کر شکایت ہو...
  17. کاشفی

    فراق ایک آنکھوں کا اثر، تاثیر اک رفتار کی- فراق گورکھ پوری

    نوائے فراق (فراق گورکھ پوری) ایک آنکھوں کا اثر، تاثیر اک رفتار کی موجِ مَے کا لڑکھڑانا، بے خودی میخوار کی پارسا کی پارسائی، مستیاں مَےخوار کی وہ فقط حسرت، یہ شان و کیفیت دیدار کی کنجِ زنداں میں تو مجھ کو وسعت صحرا کی یاد حسرتیں صحرا میں زنداں کے درودیوار کی بن چکے ہیں وصل و فرقت اک پیامِ...
  18. کاشفی

    حفیظ ہوشیارپوری تو وہ عہدِ رفتہ کی یاد ہے کہ نہ جس کو دل سے بھلا سکوں- حفیظ ہوشیار پوری

    غزل (حفیظ ہوشیار پوری) تو وہ عہدِ رفتہ کی یاد ہے کہ نہ جس کو دل سے بھلا سکوں میں وہ بھولا بسرا سا خواب ہوں کہ کسی کو یاد نہ آسکوں کوئی پوچھتا ہے جو حالِ دل تو میں سوچتا ہوں کہ کیا کہوں ترا احترام ہے اس قدر کہ زبان تک نہ ہلا سکوں یہ تری جفا کی ہے اتنہا کہ تو مجھ کو یاد نہ کر سکے یہ مری وفا...
  19. کاشفی

    تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں- کیفی اعظمی

    غزل (سید اظہر حسین رضوی کیفی اعظمی) تقدیر بگڑتی جاتی ہے ،گو بات بنائے جاتے ہیں وہ اُتنے ہی روٹھےجاتے ہیں، ہم جتنا منائے جاتے ہیں وہ جا کے نہیں اب آنے والے، طور یہ پائے جاتے ہیں ہنستے ہیں تسلّی دینے کو ، پر اشک بھی آئے جاتے ہیں صد شکر کہ فرقِ حُسن و عشق، اعجازِ وفا نے مٹا دیا میں جلوؤں...
  20. کاشفی

    جگر اب کہاں زمانے میں دوسرا جواب اُن کا - جگر مُراد آبادی

    غزل (جگر مُراد آبادی) اب کہاں زمانے میں دوسرا جواب اُن کا فصلِ حسن ہے اُن کی، موسمِ شباب اُن کا ہم سے پوچھ اے ناصح دل گرفتگی اُن کی ہم نے چھپ کے دیکھا ہے عالمِ پُرآب اُن کا کیا اسی کو کہتے ہیں ربط و ضبطِ حسن و عشق شوقِ نارسا اپنا، نازِ کامیاب اُن کا یوں ہی کھلتے جاتے ہیں حسن و عشق کے...
Top