عاشق تو کسی کا نام نہیں!

محمدظہیر

محفلین
میکس، رونی اور کینڈی، کتوں کے نام اچھے رکھے گئے تھے. خوب لکھا ہے.
ان مخلوقات میں بھی ہمدردی، ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے، پتا نہیں انسانوں میں سے یہ صفات کیوں غائب ہو گئے.
 

الشفاء

لائبریرین
واہ۔ بہت عمدہ لکھتے ہیں آپ راحیل بھائی۔۔۔ شگفتہ اور پُر لطف تحریر ، لیکن
ایک ہلکی سی کسک دل کے قریں ہے ساقی۔۔۔
 
تمام احباب اور جاسمن آپی، رانا بھائی، ابن رضا بھائی، الہلال اور الشفاء صاحبان کا آرا کے لیے بالخصوص شکریہ۔
اگر رونی زدہ ہونے کا احساس نہ ہوتا تو اس تحریر پر آپ کے ہاتھ چوم لئے جاتے ۔۔
مطلب رونی کی لاش اپنے ہاتھوں سے اٹھائی تھی نا
ادب دوست بھائی، ہم سے تو اس کے قریب جانے کا کشٹ بھی نہیں اٹھایا گیا تھا۔ جمعداروں اور ملازماؤں نے اس کی لاش اٹھا کر کہیں پھنکوا دی تھی۔
ہمارے ہاتھ بالکل صاف ہیں۔ چومنے کے لائق نہ سہی، سرکار کے گھٹنوں پر تو رکھے ہی جا سکتے ہیں!
بہت اچھے راحیل بھائی ! اچھی کہانی ہے !
میرے دل پر گزر گئی راحیلؔ
لوگ کہتے رہیں گے افسانے​
ظہیر بھائی، سچا واقعہ ہے۔ افسانے لکھنے کا دماغ نہیں مجھے۔
اگر انسانوں کے درمیان بھی آپس میں ایسا کلبی تعلق پیدا ہوجائے تو کیا بات ہے!
ایک کتا کہہ رہا تھا دوسرے کتے سے کل
بھاگ، ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا
(نامعلوم)​
 
دب دوست بھائی، ہم سے تو اس کے قریب جانے کا کشٹ بھی نہیں اٹھایا گیا تھا۔ جمعداروں اور ملازماؤں نے اس کی لاش اٹھا کر کہیں پھنکوا دی تھی۔
ہمارے ہاتھ بالکل صاف ہیں۔ چومنے کے لائق نہ سہی، سرکار کے گھٹنوں پر تو رکھے ہی جا سکتے ہیں

حضور آپ :redlips: آپ کے دست مبارک پر
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ظہیر بھائی، سچا واقعہ ہے۔ افسانے لکھنے کا دماغ نہیں مجھے۔
بھائی اس نادانستہ دل آزاری پر معذرت خواہ ہوں ۔ پڑھ کر تو میں اسے سچا واقعہ ہی سمجھا تھا لیکن پھر کچھ تبصرے اور ان پر آپ کے جوابی تبصرے پڑھ کر شک میں پڑ گیا کہ شاید یہ حقیقت پر مبنی افسانہ ہو کہ جسے انگریزی میں Realistic Fiction کہتے ہیں۔ امید ہے میری اس کم فہمی پر درگزر فرمائیں گے ۔ تحریر جاندار ہے ۔ ایک بار پھر داد و تحسین!
 

حسن ترمذی

محفلین
میں شاید عنوان دیکھ کر گزر جاتا جسے سرسری نظر بھی کہتے ہیں لیکن
کتوں کے ساتھ کلبی نہیں قلبی تعلق ہونے کی وجہ سے پوری تحریر پڑھی اور مجھے میرے ان دو کتوں کی بہت یاد آئی جن کے ساتھ میں نے ایسا پیار و شفقت کی جیسے اپنے بچوں کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ جدا ایسے ہوئے کے اس کے بعد کتا پالنے کا سوچتا بھی نہیں ۔۔ اس مخلوق کی محبت کی شدت دیوانگی سے بھی آگے کی ہوتی ہے کہ بندہ انہیں کتا نہیں کوئی مافوق الفطرت مخلوق سمجھنے لگتا ہے ۔ اور جو ان کی محبت سمجھ جائے وہ ایک در کا ہوجاتا ہے ۔
بہت ہی پیاری دل کو چھو لینے والی تحریر جس میں "سچ" کا خالص دیسی گھی جیسا تڑکا اس کا لطف دوبالا کرگیا
بہت شکریہ راحیل بھائی
 

اکمل زیدی

محفلین
ان مخلوقات میں بھی ہمدردی، ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے، پتا نہیں انسانوں میں سے یہ صفات کیوں غائب ہو گئے.
یہ صفات انسانوں میں سے کبھی غائب نہیں ہوتیں . . . ہاں آدمیوں میں ناپید ہوجاتی ہیں
اسی پر کہ گئے چچا غالب . . . آدمی کو بھی میسر نہیں . . . .
 
راحیل بھائی بہت عمدہ انداز تحریر۔۔۔۔ کیا ہی خوبصورتی سے آپ نے ایک کلب کے قلبی قصہ کو بیان کیا۔
کلاب کے لیے بہت رنجیدہ۔۔۔۔۔
کتے پالنے کے شوقین حضرات یہ تحریر ضرور پڑھیں۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
آج احمد بھائی نے دورانِ گفتگو اس تحریر کا ذکرکیا اور تعریف کی۔ اب راحیل کی تحریر ہو، احمد بھائی تعریف کرنے والے ہوں۔ تو کون کافر صبح تک کا انتظار کر سکتا ہے۔ سو ابھی کے ابھی ڈھونڈی اور پڑھی۔ بہت خوب راحیل بھائی۔۔۔ اتنی عمدہ و اعلیٰ نثر۔۔۔ لاجواب۔
 
Top