حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھایا گیا یا ۔۔۔۔

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

arifkarim

معطل
اس عظیم الشان دھاگہ کے 160 پیغامات ٹٹولنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ لادینیت ایک بہترین مذہب ہے۔ کم از کم اس مذہب کے ماننے والے لاتعداد مختلف فرقوں، مسلکوں، وغیرہ میں نظر نہیں آتے بلکہ اپنی تمام قدرتی قوتوں کو ایسے کاموں پر صرف کرتے ہیں جن سے انسانیت کم از کم مادی سطح پر ترقی کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ ہم سے اگر اسرائیل کیخلاف لکھنے کو کہا جائے دو ٹن کتابیں کتابیں کتب خانوں میں دستیاب ہوں گی۔ لیکن اس بات کا ادراک کرنا کہ اسرائیل پوری دنیا میں سب سے زیادہ بجٹ کا حصہ سائنس اور ٹیکنالوجی ریسرچ پر صرف کرتا ہے، ہمارے لئے ناممکن ہوگا۔ اسرائیل کی ترقی اور بغیر تیل والے اسلامی ممالک کی ترقی کا موازنہ کرتے ہوئے ایک مسلمان تو کیا غیر مسلمانوں کے بھی رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں:
http://plancksconstant.org/blog1/2007/01/oil_and_islam_dont_m.html

آج اگر ہم اپنے کمپیوٹرز پر اسلامی جہاد میں مصروف ہیں تو وہ بھی محض ان کافرین کی دن رات کی محنتوں کا ثمر ہے۔ اور جہاں تک تیل کی بات ہے تو وہ بھی کسی اسلامی ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ مغربی ٹیکنالوجی ہی سے نکل رہا ہے۔ یہ تو ہوا آف ٹاپ۔ آن ٹاک آپ سب کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہلسلم کی قبر والا عقیدہ محض مسلمانوں ہی میں نے نہیں بلکہ بعض عیسائی عقیدوں میں بھی موجود ہے:
http://www.tombofjesus.com/
حقیقت کو محض دینی نظر سے ہی دیکھنا کافی نہیں۔ حقائق کو سائنسی نظر یعنی علم الآثار سے بھی دیکھنا چاہئے۔ اور بعض حقائق مندرجہ بالا عقیدہ کے شاہد ہیں۔
 
سلام
میں اس دھاگے میں داخل ہونے کی اجازت چاہوں گا، درج ذیل نکات کے ساتھ۔ تاکہ طے شدہ نکات پر بار بار بحث کی ضرورت نا رہے۔
1۔ میں نے اس دھاگے کا ہر مراسلہ بغور پڑھا ہے۔ آیات کے ریفرنس کو چیک کیا ہے اور اس سے نکلنے والے معانی پر غور کیا ہے۔
2۔ میں مرزا غلام احمد قادیان کے نبی ہونے پر ایمان نہیں رکھتا۔ مسلمان ہوں۔ برادر ابن حسن ، اور برادر غزنوی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی محنت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
3۔ میں کبھی قادیانی نہیں تھا، اور نا ہی قادیانی ہوں، نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر کامل ایمان رکھتا ہوں۔
4۔ نبی اکرم حضرت عیسی علیہ السلام کی موت سولی پر نہیں ہوئی ۔ اور نا ہی یہود جناب حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرسکے۔
5۔ میں دوبارہ توجہ دلانا چاہتا ہو ں ان آیات کی طرف جو برادر رانا نے پیش کیں اور برادر ابن حسن نے ان پر تبصرہ کیا۔ جن سے وفات بمعنی موت کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن ان آیات کا ایک پہلو دونوں برادران نے نظر اناز کردیا۔
انشاء اللہ آئندہ مراسلے میں اس بارے میں لکھوں گا۔ اس وقت اس لئے نہیں لکھ رہا کہ آپ کو -- حضرت عیسی کی وفات کے علاوہ --- میرے مؤقف کا اندازا ہوسکے۔ تاکہ ہم صرف اور صرف حضرت عیسی کی ممکنہ وفات بمعنی موت کے بارے میں سوالات کرسکیں اور قادیانیت کی بحث میں نا پڑیں۔


والسلام
 
آئیے سورۃ المائیدہ کی درج ذیل آیات کو دوبارہ دیکھتے ہیں۔

المائیدہ 117
اور (یاد کرو) جب اللہ عیسیٰ ابنِ مریم سے کہے گا کہ کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا پاک ہے تُو۔ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہ ہو۔ اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تو ضرور تُو اسے جان لیتا۔ تُو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے۔ یقیناً تُو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ (117)

المائیدہ 118
میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تُو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے۔ اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پس جب تُو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تُو ہی ان پر نگران رہا اور تُو ہر چیز پر گواہ ہے۔ (118 )

سوال نمبر 1: یہ مکالمہ کب ہوگا؟
اب تک میں نے یہ اتفاق دیکھا ہے کہ یہ مکالمہ اللہ تعالی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان قیامت کے بعد ہوگا۔

سوال نمبر 2: کیا یہ مکالمہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ اٹھائے جانے پر ہوگا یا پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے دوسری بار دنیا میں نازل ہرنے پر؟
جواب: یہ مکالمہ کسی نے بھی منسوب نہیں کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نزول پر ہوگا۔ بعد از قیامت یہ مکالمہ صرف دوبارہ اٹھائے جانے پر ہی ہوسکتا ہے۔

سوال نمبر 3:
کیا اپنی "وفات" سے قیامت تک حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئے ؟
یہاں ہم قیامت سے الٹٰ طرف دیکھ رہے ہیں ، لیکن اس وفات سے (جو بقول کچھ حضرات ممکنہ طور پر موت نہیں ہے) قیامت تک عیسی علیہ السلام کی واپسی اس آیت میں نہیں ملتی ۔۔۔ یعنی یہ بات اس آیت میں کہیں نہیں ہے کہ وہ اپنی "وفات" سے قیامت تک زمین پر نہیں آئے۔ جبکہ یہ ایت قیامت کے بعد کے مکالمے کی ہے ۔ ( یہ بات میں علماء اور مفسریں کے متفق علیہ ہونے کے بعد کہہ رہا ہوں)

سوال نمبر 4: کیا حضرت عیسی علیہ السلام کو علم ہے کہ عیسائی ، جناب کی اور جناب کی والدہ محترمہ کی عبادت کرتے ہیں ؟
اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسا حضرت عیسی کے علم میں نہیں ہے ۔ وہ فرمائیں گے کہ جب تک وہ ان کے درمیان تھے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیتے رہے اور ان کی وفات کے بعد سے قیامت تک صرف اللہ تعالی اس بارے میں جانتے ہیں ۔۔۔۔

سوال نمبر 5: کیا حضرت عیسی ۔۔۔ قیامت سے الٹی طرف دیکھتے ہوئے یہ کہتے ہیں کۃ جب میں دوبارہ ان کے درمیان گیا؟
نہیں ،،،،ن حضرت عیسی یہ کہتے ہیں کہ ان کی "وفات" سے قیامت تک کوئی دوبارہ نزول نہیں ہوا بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں کہ ان کی اور ان کی ماں کی پوجا شروع ہوگئی ۔


کیا قیامت سے دیکھنے پر ، "وفات " کے بعد کسی دوبارہ نزول کا کوئی شبہ بھی ملتا ہے ؟
قیامت سے پیچھ دیکھنے سے ، "وفات" سے شروع ہونے والی "موت" تک دوبارہ نزول کا کوئی شبہ بھی نہیں ملتا ہے ۔


سوال نمبر 6؛ قادیانیت کی بنیاد کیا ہے ؟
قادناینیت کی بنیاد ہے کہ ان کا نبی وہی مسیح ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ نظریہ اہلسنت کا ہے ۔ اس نظریہ کے بغیر قادیانیت ختم۔ لہذا تمام کا تمام قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے "حضرت عیسی کے نزول " کو ہوا دی۔ اور نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو کفر میں مبتلا کیا۔

قرآن حکیم کہیں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کی خبر نہیں دیتا۔

والسلام
 
آئی

المائیدہ 117
اور (یاد کرو) جب اللہ عیسیٰ ابنِ مریم سے کہے گا کہ کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا پاک ہے تُو۔ مجھ سے ہو نہیں سکتا کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہ ہو۔ اگر میں نے وہ بات کہی ہوتی تو ضرور تُو اسے جان لیتا۔ تُو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے۔ یقیناً تُو تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے۔ (117)

المائیدہ 118
میں نے تو انہیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جو تُو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے۔ اور میں ان پر نگران تھا جب تک میں ان میں رہا۔ پس جب تُو نے مجھے وفات دے دی، فقط ایک تُو ہی ان پر نگران رہا اور تُو ہر چیز پر گواہ ہے۔ (118 )



سوال نمبر 4: کیا حضرت عیسی علیہ السلام کو علم ہے کہ عیسائی ، جناب کی اور جناب کی والدہ محترمہ کی عبادت کرتے ہیں ؟
اس آیت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسا حضرت عیسی کے علم میں نہیں ہے ۔ وہ فرمائیں گے کہ جب تک وہ ان کے درمیان تھے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیتے رہے اور ان کی وفات کے بعد سے قیامت تک صرف اللہ تعالی اس بارے میں جانتے ہیں ۔۔۔۔

سوال نمبر 5: کیا حضرت عیسی ۔۔۔ قیامت سے الٹی طرف دیکھتے ہوئے یہ کہتے ہیں کۃ جب میں دوبارہ ان کے درمیان گیا؟
نہیں ،،،،ن حضرت عیسی یہ کہتے ہیں کہ ان کی "وفات" سے قیامت تک کوئی دوبارہ نزول نہیں ہوا بلکہ وہ تو اس سے بھی بے خبر ہیں کہ ان کی اور ان کی ماں کی پوجا شروع ہوگئی ۔


کیا قیامت سے دیکھنے پر ، "وفات " کے بعد کسی دوبارہ نزول کا کوئی شبہ بھی ملتا ہے ؟
قیامت سے پیچھ دیکھنے سے ، "وفات" سے شروع ہونے والی "موت" تک دوبارہ نزول کا کوئی شبہ بھی نہیں ملتا ہے ۔


سوال نمبر 6؛ قادیانیت کی بنیاد کیا ہے ؟
قادناینیت کی بنیاد ہے کہ ان کا نبی وہی مسیح ہے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ نظریہ اہلسنت کا ہے ۔ اس نظریہ کے بغیر قادیانیت ختم۔ لہذا تمام کا تمام قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے "حضرت عیسی کے نزول " کو ہوا دی۔ اور نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو کفر میں مبتلا کیا۔

قرآن حکیم کہیں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کی خبر نہیں دیتا۔

والسلام

فاروق صاحب۔۔۔آپ نے آیت سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے، معزرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ میں اس سے متفق نہیں ہوں۔۔۔آیت میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ انکی قوم انکے بعد گمراہ ہوگئی اور انکی اور انکی والدہ کی پوجا کرنے لگی۔۔۔آیت میں تو محض یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیّ حضرت عیسی علیہ السلام سے (انکی قوم پر اتمام حجت کی خاطر) پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ نے اپنی قوم کو اس قسم کی تعلیمات دی تھیں کہ میری اور میری والدہ کی پوجا کرنا۔۔۔جواب میں آپ نے جو جواب عرض کیا ہے وہ ایسا ہے کہ صرف انبیاءکرام ہی ایسے ادب و تہذیب اور شائستگی سے مزین جواب دے سکتے ہیں۔۔یعنی انہوں نے نہایت بلیغ انداز میں جواب بھی دے دیا اور اللہ کے ساتح مکالمے میں تمام عجز و تواضع کو بھی ملحوظ رکھا۔۔۔یعنی یہ کہا کہ یہ سب آپکے علم میں ہے کہ جب تک میں ان کے درمیان میں تھا میں نے ان سے کیا کیا کہا۔۔یہ سب آپ بخوبی جانتے ہیں کیونکہ آپ علیم بذات الصدور ہیں کیونکہ میں جو کچھ عرض کروں گا وہ اپنے مھدود علم کے ساتھ عرض کروں گا جبکہ آپکا علم میرے علم پر محیط ہے۔
اس آیت کو بغور پڑھءیے۔۔تو آپ یقینا متفق ہونگے کہ سوال یہ نہیں تھا کہ اے عیسی تمہیں پتہ ہے تمہاری قوم نے تمہارے بعد کیا کیا؟۔۔۔نہیں سوال تو یہ ہے کہ اے عیسی کیا آپ نے انکو یہ تعلیم دی تھی ایسا کرنے کی؟۔۔۔ظاہر ہے کہ یہ سوال حضرت عیسی کی قوم کو سنانے کیلءے ہے تاکہ ان پر اتمام حجت ہوجائے۔۔عقلٰ سلیم تو یہی کہتی ہے ورنہ آپ اعتراض کرنے والا یہ بھی نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ اللہ کو خود پتہ نہیں ہے کہ حضرت عیسی نے اپنی قوم کو کیا تعلیم دی اسی لئے حضرت عیسی سے پوچھا جارہا ہے۔۔۔ظاہر ہے کہ یہ بات نہیں ہے;)
 

ساجد

محفلین
لہذا تمام کا تمام قصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے "حضرت عیسی کے نزول " کو ہوا دی۔ اور نتیجے میں ہزاروں لوگوں کو کفر میں مبتلا کیا۔
فاروق سرور خان صاحب ، اس دھاگے میں بہت سے اہل علم نے اپنی اپنی آراء پیش کیں اور مجھ جیسے کم علم نے انہیں بڑی دلچسپی سے پڑھا ، بہت اچھی بات ہے کہ آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور ہم آپ کو بھی پڑھیں گے۔ ایک بات کی وضاحت فرما دیں کہ حضرت عیسی کے نزول ہونے یا ان کی موت کے معاملہ میں اختلاف کا کوئی تعلق بعد از مرگ ہمارے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کرے گا؟۔ مجے یہ اس لئیے بھی پوچھنا ہے کہ آپ نے ان کے نزول کے نظریہ کو کفر کہا ہے اور ظاہر ہے کافروں کا ٹھکانہ جنت نہیں ہے۔ اگر کوئی مومن "نزول عیسی" کا قائل ہے تو کیا اس کا ایمان باطل ہے اور وہ کافروں کے حکم میں ہے؟۔ امید ہے تشفی آمیز جواب مرحمت فرمائیں گے۔
 

دوست

محفلین
فاروق صاحب نے احادیث سے دلائل کو ماننا نہیں۔ انہوں نے بس قرآنی آیات کے مختلف تراجم سے بات ثابت کرنی ہے۔ جس کی وجہ سے مسئلہ ذرا ٹیڑھا ہوجانا ہے۔
 
فاروق صاحب نے احادیث سے دلائل کو ماننا نہیں۔ انہوں نے بس قرآنی آیات کے مختلف تراجم سے بات ثابت کرنی ہے۔ جس کی وجہ سے مسئلہ ذرا ٹیڑھا ہوجانا ہے۔

دوست بہت ہی شکریہ۔ قرآن نہیں تو مسلمان نہیں۔ اس امر کے ثبوت صرف اور صرف اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم سے ہی قابل قبول ہیں۔ کیا کوئی وجہ ہے کہ ہم قرآن حکیم سے واضح ثبوت کو نا مانیں؟

والسلام
 
فاروق سرور خان صاحب ، اس دھاگے میں بہت سے اہل علم نے اپنی اپنی آراء پیش کیں اور مجھ جیسے کم علم نے انہیں بڑی دلچسپی سے پڑھا ، بہت اچھی بات ہے کہ آپ بھی اس میں شریک ہوئے اور ہم آپ کو بھی پڑھیں گے۔

توجہ دینے کا بہت ہی شکریہ ۔
ایک بات کی وضاحت فرما دیں کہ حضرت عیسی کے نزول ہونے یا ان کی موت کے معاملہ میں اختلاف کا کوئی تعلق بعد از مرگ ہمارے جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کرے گا؟۔
میرا خیال ہے کہ یہاں موضوع ہے کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے یا نہیں۔ اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ وفات ہوچکی ہے تو اس کو نا ماننا ، قرآن کریم کی تکفیر ہے۔ قرآن کریم کی تکفیر ، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گی۔ کیا یہ بہتر نا ہوگا کہ ہم قرآن کریم سے ثبوت دیکھیں؟ جنت یا جہنم کا فیصلہ اللہ تعالی پر چھوڑ دیں۔؟
مجھے یہ اس لئیے بھی پوچھنا ہے کہ آپ نے ان کے نزول کے نظریہ کو کفر کہا ہے اور ظاہر ہے کافروں کا ٹھکانہ جنت نہیں ہے۔ اگر کوئی مومن "نزول عیسی" کا قائل ہے تو کیا اس کا ایمان باطل ہے اور وہ کافروں کے حکم میں ہے؟۔ امید ہے تشفی آمیز جواب مرحمت فرمائیں گے۔
آپ نے درست سمجھا کہ کافر یعنی اللہ تعالی کو جھٹلانے والا کافر قرار پاتا ہے۔ اگر قرآن حکیم واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ حضرت عیسی کی وفات قیامت تک کے لئے ہے تو پھر اس تو پھر اس کو جھٹلانے والا کافر ہوگا اور اگر قرآن حکیم واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ وہ زندہ آسمانوں میں چلے گئے ہیں اور واپس آئیں گے تو پھر اس کو جحٹلانے والا کافر ہوگا۔

لہذا آئیے یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کا فرمان ہم کو کیا بتاتا ہے ؟ کیا قیامت تک کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے یا نہیں ، آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

والسلام
 

ساجد

محفلین
میرا خیال ہے کہ یہاں موضوع ہے کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے یا نہیں۔ اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ وفات ہوچکی ہے تو اس کو نا ماننا ، قرآن کریم کی تکفیر ہے۔ قرآن کریم کی تکفیر ، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گی۔ کیا یہ بہتر نا ہوگا کہ ہم قرآن کریم سے ثبوت دیکھیں؟ جنت یا جہنم کا فیصلہ اللہ تعالی پر چھوڑ دیں۔؟
میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ ایسے اختلافی مسائل کو مکمل طور پہ ہی اللہ کے حوالے کردیں۔ تکفیر قرآن یہاں ،میرے خیال، میں لاگو نہیں کی جا سکتی۔ جو محکم احکام قرآن میں موجود ہیں ان کی مکمل طور پہ پابندی نہ کرنے کے باوجود بھی ہم کسی مسلمان کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ رمضان کے روزوں کی مثال ہے کہ اگر کوئی مسلمان پورے تیس نہیں رکھتا تب بھی ہم اسے کافر قرار نہیں دے سکتے ہاں گناہ گار ہے۔ ماں باپ کی فرماں برداری کے بڑے محکم احکام ہیں لیکن اگر کوئی مسلمان نا فرمان ہے تو بھی اسے گناہ کبیرہ کا مرتکب کہا جائے گا کافر نہیں۔ نماز باقاعدگی سے نہ پڑھنے والا کافر نہیں کہلا سکتا اور اگر نماز کی شرط ہی کسوٹی بنا لی جائے تو ہم میں سے کوئی بھی کفر کے فتوی سے بچ نہیں سکتا۔
میرا خیال ہے آپ نے نزول عیسی علیہ السلام کے حوالے سے ایک بہت بڑی بات کہہ دی ہے جو نہیں کہنا چاہئیے تھی اسے تکفیر قرآن کے ساتھ نتھی نہیں کیا جا سکتا۔ تکفیر محکم احکام کے مکمل انکار کا نام ہے ۔ یعنی نماز روزے کے فرضیت سے انکار یا پھر اللہ کی وحدانیت سے انکار یا انبیاء میں سے سب کا یا کسی ایک کی نبوت سے انکار۔ یہاں عیسی علیہ السلام کی نبوت سے انکار نہیں کیا جا رہا بلکہ ایک اختلافی مسئلہ پہ نقاط اٹھائے جا رہے ہیں اور اس پہ کفر کا فتوی لگانا شاید مناسب نہیں ہے۔
بہر حال آپ اپنی بات جاری رکھئیے۔
 

شاکر

محفلین
قرآن حکیم کہیں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کی خبر نہیں دیتا۔
سادہ سا اصول ہے کہ عدم ذکر نفی ذکر کو مستلزم نہیں ہوتا۔ اگر قرآن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نزول کی خبر نہیں بھی دی، تو کیا اس خبر کا ہی انکار کر دیا جائے؟ ایسی ہی بات ہے تو قرآن تو جنازہ کے ذکر سے بھی خاموش ہے۔ وصیت کر جائیے گا کہ بغیر جنازہ ہی تدفین ہو تاکہ قرآنی حکم پر پورا پورا عمل ہو جائے۔

قرآن نہیں تو مسلمان نہیں۔ اس امر کے ثبوت صرف اور صرف اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم سے ہی قابل قبول ہیں۔ کیا کوئی وجہ ہے کہ ہم قرآن حکیم سے واضح ثبوت کو نا مانیں؟
جی بالکل کوئی وجہ نہیں کہ قرآن حکیم سے واضح ثبوت کو نہ مانا جائے۔ کچھ لوگ قرآن کریم سے اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح آیات کو نہیں مانتے۔ حالانکہ یہی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ قرآن کی کسی آیت کی تشریح میں سوالات اٹھائیں، آیات کی وضاحت دیگر آیات سے اور عقل (نا) سلیم کی روشنی میں کریں تو اسے قرآن ہی کا درجہ دیا جائے۔ لیکن رسول قرآن کی تشریحات کو قبول کرنے سے انہیں انکار ہے۔ تو یہ قرآن نہیں تو مسلمان نہیں والی بات ان پر بھی چسپاں ہوتی ہے، یا نہیں؟

میرا خیال ہے کہ یہاں موضوع ہے کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے یا نہیں۔ اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ وفات ہوچکی ہے تو اس کو نا ماننا ، قرآن کریم کی تکفیر ہے۔ قرآن کریم کی تکفیر ، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گی۔ آپ نے درست سمجھا کہ کافر یعنی اللہ تعالی کو جھٹلانے والا کافر قرار پاتا ہے۔

اگر قرآن حکیم واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ حضرت عیسی کی وفات قیامت تک کے لئے ہے تو پھر اس تو پھر اس کو جھٹلانے والا کافر ہوگا اور اگر قرآن حکیم واضح ثبوت فراہم کرتا ہے کہ وہ زندہ آسمانوں میں چلے گئے ہیں اور واپس آئیں گے تو پھر اس کو جحٹلانے والا کافر ہوگا۔
بھائی کفر کے فتوے کو اتنی بے دردی سے استعمال نہ کیجئے۔اگر حیات و وفات عیسیٰ پر واضح ثبوت قرآن میں موجود ہی نہ ہو اور شارح قرآن صلی اللہ علیہ وسلم یہ فیصلہ صادر فرما دیں، تو کیا یہ فتویٰ ان پر بھی لگانا شروع کر دیں گے؟ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جمیع تعداد پر؟
قرآن کی واضح دو ٹوک آیات سے بھی بعض اوقات لوگ تاویل کرتے ہوئے گمراہی اختیار کر لیتے ہیں۔ تکفیر کے اصول و ضوابط ہیں، ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات کے ثبوت پر صرف قرآن کی روشنی میں بات کرنے پر زور دینے والوں سے اگر کوئی پلٹ کر یہ سوال کر لے کہ جنازہ کا ثبوت بھی قرآن کی روشنی میں طے کر لیں۔ اگر واضح ثبوت مل جائے تو جنازہ نہ ماننے والے کافر، اور اگر جنازہ کا ثبوت نہ ملے تو جنازہ پڑھنے پڑھانے والے کافر، تو معلوم نہیں ان کا کیا جواب ہوگا؟
 
قرآن حکیم کہیں بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کی خبر نہیں دیتا۔

والسلام

جناب خان صاحب برائے مہربانى ان آيات كريمہ كا مطلب سمجھا ديجیے۔

[ARABIC]فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّ۔هِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللَّ۔هُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ۔۔۔۔۔۔وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا [/ARABIC]۔ سورة النساء : آيات 155 تا 159
ترجمہ : (یہ سزا تھی) بہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے، اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حالانکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے، اس لئے یہ قدر قلیل ہی ایمان لاتے ہیں (١٥٥) اور ان کے کفر کے باعث اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث (١٥٦) اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے ان (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا۔ یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا (١٥٧) بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے (١٥٨) اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لاچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے (١٥٩)

ان آيات كريمہ ميں یہود كو سزا ملنے كے جو اسباب بتائے گئے ہیں ان ميں سے ايك جرم يہ بھی ہے کہ وہ دعوى كرتے تھے كہ انہوں نے حضرت عيسى عليہ السلام كو قتل كر ديا تھا جب كہ قرآن كريم وضاحت سے بيان كرتا ہے کہ اللہ تعالى نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ آخرى آيت ميں دليل ہے کہ قيامت سے پہلے وہ دنيا ميں تشريف لائیں گے اور تمام اہل كتاب ان پر ان كى موت سے قبل ايمان لائيں گے۔ مستقبل كا صيغہ واضح دلالت كرتا ہے کہ ايسا نزول قرآن كريم كے بعد ہوگا۔ يعنى ابھی حضرت عيسى عليہ السلام حيات ہیں اور زندہ شخص كا مقبرہ دريافت كرنا كوئى معنى نہیں رکھتا۔

قرآن كريم كہتا ہے: اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لاچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے۔۔۔۔
اس آيت كا كيا مطلب ہے؟ اہل كتاب يہ ايمان لائيں گے يا لا چکے؟ اگر بقول آپ کے عيسى عليہ السلام وفات پا چکے ہيں تو كيا نصارى ان پر ايمان لا چکے؟ تاريخ كيا كہتی ہے؟

ايك دوسرى جگہ حضرت عيسى عليہ السلام كى ولادت سے پیشتر اللہ تعالى كا وعدہ يوں مذكور ہے:
[ARABIC]إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّ۔هَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ﴿٤٥﴾وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ﴿٤٦﴾[/ARABIC]
جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے (٤٥)وه لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وه نیک لوگوں میں سے ہوگا (٤٦)

اس آيت كريمہ ميں وعدہ ہے كہ سيدتنا مريم عليها السلام كا لڑكا گہوارے كى عمر اور ادھیڑ عمر ميں لوگوں سے خطاب كرے گا ۔ حضرت عيسى عليہ السلام نوجوانى كے عالم ميں اٹھا لیے گئے جب دوبارہ تشريف لائيں گے تو حسب وعدہ ء ربانى ادھیڑ عمر كو پہنچیں گے۔ ومن أصدق من اللہ قيلا ؟ یہ محض اشارے نہیں واضح آيات ہیں۔

اگر بقول آپ کے عيسى عليہ السلام وفات پا چکے ہيں تو كيا وہ بوڑھے ہو كر فوت ہوئے تھے يا جوانى ميں؟
آیت:
وَ اِنَّہ لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ فَلاَ تَمْتَرُنَّ بِھَاوَاتَّبِعُوْنِ،ھٰذَا صِرَاطُ مُّسْتَقِیْمُ"
اور یقیناَ وہ (عیسٰی) قیامت کی علامت ہے پس تم قیامت کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔
(سورہ الزخرف:٤٣ ، آیت٦١)
اس آیت میں عیسٰی علیہ اسلام کے بارے میں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ قیامت کی علامت ہیں اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس سے قول منقول ہے (لَعِلْمُ لِّلسَّاعَۃِ)یعنی علامتِ قیامت سے مرا د نزول عیسٰی علی اسلام ہیں ،
اگر بقول آپ کے عيسى عليہ السلام وفات پا چکے ہيں تو قرآن كريم ان كو قيامت كى نشانى كيوں کہہ رہا ہے؟ زمانى اعتبار سے تو وہ نبي آخر الزماں حضرت محمد مصطفى صلى الله عليه وسلم سے پہلے آئے تھے ؟ پھر وہ قيامت كى نشانى كيسے ہوئے؟

اميد ہے ايك طالبہ علم كو قرآن فہمى ميں مدد دينے ميں بخل نہ كريں گے۔

والسلام
 
میرا خیال ہے کہ یہاں موضوع ہے کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے یا نہیں۔ اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ وفات ہوچکی ہے تو اس کو نا ماننا ، قرآن کریم کی تکفیر ہے۔ قرآن کریم کی تکفیر ، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گی۔ کیا یہ بہتر نا ہوگا کہ ہم قرآن کریم سے ثبوت دیکھیں؟ جنت یا جہنم کا فیصلہ اللہ تعالی پر چھوڑ دیں۔؟

والسلام

فاروق صاحب نے احادیث سے دلائل کو ماننا نہیں۔ انہوں نے بس قرآنی آیات کے مختلف تراجم سے بات ثابت کرنی ہے۔ جس کی وجہ سے مسئلہ ذرا ٹیڑھا ہوجانا ہے۔

بھائى آپ نے بجا نشان دہی فرمائى كہ جناب خان صاحب تراجم كى مدد سے قرآن كريم كو سمجھنے كى كوشش كرتے ہیں۔ اس بحث كو ديكھنے والے مجھ جيسے طفل مكتب بھی اس بات كو سمجھ سكتے ہیں كہ خان صاحب عربى زبان و ادب كے اساليب سے ناواقفيت کے سبب " قرآن كى تكفير" جيسى مضحكہ خيز تركيب استعمال كر گئے ہیں ۔ :)
نستغفر الله ونتوب إليه ونعوذ به من فشو الجهل . اللہ سبحانہ وتعالى ہمیں بغير علم كے بولنے سے محفوظ رکھے۔
برسبيل تذكرہ قرآن مجيد اور احاديث مباركہ بغير علم كے بولنے والوں کے متعلق كيا كہتے ہیں ؟ ملاحظہ فرمائيے :
[ARABIC]قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ[/ARABIC]
ترجمہ: آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیده ہیں اور ہر گناه کی بات کو، اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو، اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ، اور اس بات کو کہ تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات لگادو جس کو تم جانتے نہیں۔ سورت اعراف ، آيت نمبر 33، ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی

ہم احاديث مباركہ پر ايمان ركھنے والے اہل سنت والجماعت كے ليے حبيب مكرم حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم فداہ روحى كا ايك ارشاد مبارك مشعل براہ ہے:
[ARABIC]عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قال في القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار۔ وفي رواية من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعده من النار۔( رواه الترمذي، مشكوة، كتاب العلم ص 37)[/ARABIC]
حضرت ابن عباس رضي اللہ عنہ سے روايت ہے كہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا : " جس نے قرآن ميں اپنی رائے سے بات كى وہ اپنا ٹھكانہ جہنم میں بنالے۔ اور ايك دوسرى روايت ميں ہے جس نے قرآن ميں علم كے بغير گفتگو كى وہ اپنا ٹھكانہ جہنم میں بنا لے۔"
 
میرا خیال ہے کہ یہاں موضوع ہے کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو چکی ہے یا نہیں۔ اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہے کہ وفات ہوچکی ہے تو اس کو نا ماننا ، قرآن کریم کی تکفیر ہے۔ قرآن کریم کی تکفیر ، جنت یا جہنم کا فیصلہ کرے گی۔ کیا یہ بہتر نا ہوگا کہ ہم قرآن کریم سے ثبوت دیکھیں؟ جنت یا جہنم کا فیصلہ اللہ تعالی پر چھوڑ دیں۔؟
میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ ایسے اختلافی مسائل کو مکمل طور پہ ہی اللہ کے حوالے کردیں۔ تکفیر قرآن یہاں ،میرے خیال، میں لاگو نہیں کی جا سکتی۔ جو محکم احکام قرآن میں موجود ہیں ان کی مکمل طور پہ پابندی نہ کرنے کے باوجود بھی ہم کسی مسلمان کو کافر نہیں کہہ سکتے۔

يہ قرآن كريم كى تكفير يا تكفير قرآن ہے كيا چیز ؟ :confused:
اس تركيب/ اصطلاح كى كوئى تاريخ ؟ يا يہ بھی " جديد قرآن فہمى" كا نتيجہ ہے؟ :)
 
ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہم اس پر متفق ہوں۔ بحیثیت مسلمان، قرآن حکیم کو ماننا فرض ہے اور قران حکیم کو جھٹلانا قران حکیم کی تکفیر ہے۔ میری کوشش ہے کہ وہ حقیقت سامنے لائی جائے اور قراں حکیم کی مدد سے سامنے لائی جائے جو حقیقت میں قرآن کی آیات کا واضح پیغام ہے۔

اس بات میں اور یہ کہنے میں کہ "وہ شخص" کافر ہے بہت بڑا فرق ہے۔ پہلا امر ایمان کا ایک اصول ہے ۔ جبکہ دوسرا امر کفر کا فتوی ہے۔ میں نے پہلی بات ضرور کہی ہے لیکن اس کا بالکل مطلب دوسری بات نہیں ہے نا ہی میں کسی کو کافر قرار دے رہا ہوں۔ لہذا میں بھی احتیاط کروں گا اور آپ سے بھی استدعا ہے کہ احتیاط سے بات کیجئے کہ کوئی کسی پر کفر کا فتوی نہیں لگا رہا ۔۔۔ کوشش کیجئے کہ اصول کے بارے میں بات کیجئے ۔ کسی کی بھی شخصیت کے بارے میں کچھ نہیں کہئیے، نا ہی میں کہہ رہا ہوں۔ ایک معاملہ ہے جس پر اختلاف ہے ۔ ضرورت یہ ہے کہ اس پر سکون سے بات کی جائے ۔۔۔۔ اور یہ اصول مد نظر رکھا جائے کہ ہم کسی ایک فرد کو کافر نہیں قرار دے رہے بلکہ اس اصول پر اتفاق کررہے ہیں کہ واضح اور صریح قرآنی بیان کو جھٹلائیں گے نہیں ۔

اصول: قران کو جھٹلانا ، کفر ہے ۔۔۔
اس اصول کی وجہ سے ہم قرآن حکیم سے ہدایت لے رہے ہیں۔

احادیث :
کیا ہم اس معاملے کو صرف اور صرف قرآں حکیم سے ہدایت تک محدود رکھ سکتے ہیں ؟ آخرکا بہن ام نور العین نے بہترین سوالات صرف اور صرف قرآن حکیم سے کئے ہیں؟ قرآں کی بہت ساری آیات اس معاملے کو واضح کرتی ہیں ایک ایک کرکے ان کو دیکھتے ہیں۔

تجزیہ کی ترتیب:
اول ۔۔۔ سورۃ المائیدہ کی ایات 116 اور 117 -- جناب غزنوی صاحب کے اعتراضات کا جواب
دوم ---- سورۃ النساء کی آٰیات 155 تا 159 کا تجزیہ ، سورۃ الزخرف کی ایت 61 اور سورۃ آل عمران کی آیات 45 تا 46 کا تجزیہ -- محترمہ ام نور العین کے اعتراجات کے جوابات۔

سوم: باقی لوگوں نے کفر و ایمان وغیرہ پر اعتراض کیا ہے ، یا پر اتباع رسول کی ہدایت کو احادیث کی کتب کو مان لینے سے ربط کیا ہے۔ کیا میں استدعا کرسکتا ہوں کہ پہلے قران حکیم کے بیانات کا احاطہ و تجزیہ کرلیں اور ایک معانی پر کوشش کرکے اتفاق کرلیں اس کے بعد کتب روایات سے گواہیوں کے بارے میں بات کرستے ہیں؟ میں کوشش کروں گا کہ کفر و ایمان کے بارے مٰن کچھ نا کہوں بلکہ تجزیہ کو معانی اور ترجمے تک محدود رکھوں۔ اب تک ترجمے اور اس کی تفصیل کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کو ںظر میں رکھئیے۔ باقی الفاظ و جملے غیر ضروری ہیں ۔ آُپ ان کو حذف شدہ سمجھئے۔

میری کوشش ہے کہ اس اختلاف کا تجزیہ کیا جائے کہ آیا کہ قرآن حکیم واضح طور پر رسول اکرم حضرت عیسی علیہ السلام کی خبر دیتا ہے یا نہیں ؟ آُپ سب سے اس معاملے کے قرآں حکیم سے تجزئے مین میں ساتھ دینے کی استدعا ہے ۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس موضوع پر بات نا کی جائے۔ ان سے عرض ہے کہ اس موضوع میں شرکت نا کیجئے۔ اور نا پڑھئیے۔ پلیز۔۔۔۔

اب تک بہترین اعتراضات محترمہ ام نور العین اور جناب غزنوی صاحب کے ہیں ۔۔ اگلے مراسلے میں ان دونوں کے اعتراضات کے جوابات۔ انشاء اللہ

والسلام
 
يہ قرآن كريم كى تكفير يا تكفير قرآن ہے كيا چیز ؟ :confused:
اس تركيب/ اصطلاح كى كوئى تاريخ ؟ يا يہ بھی " جديد قرآن فہمى" كا نتيجہ ہے؟ :)

قرآن کریم کو ماننا ، ایمان کا ایک حصہ ہے ۔ قراں حکیم کو نا ماننا قرآن کریم کو جھٹلانا اور اس کی تکفیر ہے۔ قرآن حکیم سے حوالہ یعنی ریفرنس بعد میں ۔


استدعا ہے کہ آپ موضوع تک محدود رہئیے ِ؟ تاکہ مناسب بات ہوسکے؟

میری کوشش ہے کہ اس اختلاف کا تجزیہ کیا جائے کہ آیا کہ قرآن حکیم واضح طور پر رسول اکرم حضرت عیسی علیہ السلام کی خبر دیتا ہے یا نہیں ؟ آُپ سب سے اس معاملے کے قرآں حکیم سے تجزئے میں ساتھ دینے کی استدعا ہے ۔


والسلام
 

امید ہے کہ یہ آیات اس معاملے میں مدد کریں گی:

5:10 وَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا أُوْلَ۔ئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ (میں جلنے) والے ہیں

57:19 وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں

64:10 وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں (جو) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے



والسلام
 
جى خان صاحب موضوع كے عين متعلق سوال ہے کہ يہ قرآن كى تكفير كيا چيز ہے۔ يہ تركيب يا اصطلاح كس كى ہے؟ اس كى كوئى تاريخ كوئى etymology وغيرہ ؟ معذرت خواہ ہوں اگر يہ سوال گستاخانہ معلوم ہو تو ۔
 
امید ہے کہ یہ آیات اس معاملے میں مدد کریں گی:

5:10 وَالَّذِينَ كَفَرُواْ وَكَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا أُوْلَ۔ئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ (میں جلنے) والے ہیں

57:19 وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لئے اُن کا اجر (بھی) ہے اور ان کا نور (بھی) ہے، اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں

64:10 وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ خَالِدِينَ فِيهَا وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں (جو) اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے



والسلام

ليكن جناب اس ميں" قرآن كى تكفير" تو كہيں نہيں۔ ميرے ناقص علم كے مطابق يہ تركيب قرآن حكيم ميں استعمال نہيں ہوئى ۔ ايك وضاحت : اس سے مراد ہم اہل سنت والجماعت كا سٹينڈرڈ قرآن كريم ہے ۔ اس دھاگے ميں پہلےبھی كسى خانہ ساز قرآن كا حوالہ ديا جا رہا تھا ۔
 
قرآں حکیم اللہ تعالی کی آیات کا مجموعہ ہے، ان آیات کو جھٹلانا ، قرآن حکیم کو جھٹلانا ہے۔ جو لوگ قران کی آیات کو جھٹلاتے ہیں ان لوگوں نے کفر کیا۔ اللہ تعالی کی آیات کی تکذیب کو ، میں نے اردو میں لکھا ----- قرآں کی تکفیر ----

اس نکتہ پر آیات پیش کرچکا ہوں۔۔۔ "تکفیر" کی ترکیب پر یہ لنک دیکھ لیجئے :)

آپ نے شائید "چینی" زبان میں سمجھنے کی کوشش کی۔ اردو زبان میں ایسی ترکیب عام استعمال ہوتی ہے ۔ کوشش کیجئے کہ اس موضوع پر رہئیے ۔ etymology یا تصریف پھر سمجھ لیجئے گا۔ اس طرف میں آنے والا ہوں تھوڑی دیر بعد۔

اور اگر ایسا ہی غیر سنجیدہ کھیل کھیلنا ہے تو خواہر محترم میں بھی غیر سنجیدگی اختیار کرلیتا ہوں ۔۔۔

والسلام
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top