حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھایا گیا یا ۔۔۔۔

رانا نے 'تاریخ کا مطالعہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 14, 2011

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    اپ نے درست فرمایا ۔۔۔۔ صرف تکفیر ہی نہیں بلکہ "کی" بھی قرآن میں نہیں استعمال ہوا۔۔ ابھی بتایا کہ یہ ترکیب اردو زبان میں بات سمجھانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اور اس کے مثال بھی دے دی ۔۔

    آُپ کی باتوں سے غیر ذمہ داری اور چونچال پن کا اظہار ہو رہا ہے۔ میں بھی غیر سنجیدہ ہوجاتا ہوں اور "اہم" معاملات پہلے طے کرتا ہوں ۔ "ام نور العین" کی ترکیب بھی قرآن مٰں استعمال نہیں ہوئی۔ کیا وجہ ہے کہ قرآں جن کا سٹینڈرڈ ہے ، وہ ایسی غیر قرآنی ترکیب استعمال کریں؟


    اگر آپ کو دلچسپی ہے تو سنجیدہ بات کرتے ہیں ۔۔۔ ورنہ "الف" کے معانی دریافت کرتے ہیں :)

    اور اگر اجازت ہو تو ان آیات کی طرف آجاتے ہیں جو آپ نے پیش کیں۔۔۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    جناب ربط كام نہيں كر رہا
    يعنى كہ eytomology not found!
    جناب اس عام استعمال شدہ تركيب كے استعمال کنندگان ، تاريخ ، شواہد ہی كا سوال ہے۔ كيا عنايت ہو سکتے ہیں؟ گستاخى معاف ۔ :)
    ميرے انتہائى سنجيدہ سوالات كا جواب ابھی باقى ہے۔ بس اس آخرى سنجيدہ سوال پر ہنسی چھوٹ گئی ۔ اور اب وضاحت ديكھ كر تو مزيد لطف آيا ۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    خانہ ساز قران حکیم؟
    قرآن حکیم کے تمام ریفرنس میں ، قرآن حکیم ، اس کے معانی اور اس تصریف کے ساتھ پیش کروں گا۔ آپ کو کوئی فرق ملے تو ضرور مطلع فرمائیے۔

    لنک یہ ہے http://openburhan.net/

    الحمد للہ ، اللہ تعالی کے شکر کے ساتھ، یہ اسی معمولی طالب علم قرآن کی عاجزانہ کاوش ہے۔

    والسلام
    والسلام
     
  4. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    مجھے اندازہ ہے کہ مناسب مخالفت، بذلہ سنجی اور لفاظی میں کھو جاتی ہے :) آپ لطف اٹھائیے اور اس مسخرے پن سے لطف اٹھانے کا دوسروں کو موقع دیجئے :)

    میں اس دوران نکات پر زور دیتا ہوں :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    4:155 فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بَآيَاتِ اللّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِيلاً
    پس (انہیں جو سزائیں ملیں وہ) ان کی اپنی عہد شکنی پر اور آیاتِ الٰہی سے انکار (کے سبب) اور انبیاء کو ان کے ناحق قتل کر ڈالنے (کے باعث)، نیز ان کی اس بات (کے سبب) سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف (چڑھے ہوئے) ہیں، (حقیقت میں ایسا نہ تھا) بلکہ اﷲ نے ان کے کفر کے باعث ان کے دلوں پر مُہر لگا دی ہے، سو وہ چند ایک کے سوا ایمان نہیں لائیں گے

    اس آیت 4:155 میں ہم کو کہیں بھی یہ معلومات نہیں ملتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان میں چلے گئے اور آسمانوں میں زندہ ہیں۔


    4:156 وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا
    اور (مزید یہ کہ) ان کے (اس) کفر اور قول کے باعث جو انہوں نے مریم (علیہا السلام) پر زبردست بہتان لگایا

    یہ آیت مریم علیھا السلام پر لگائے گئے بہتان کے بارے میں ہے ، اس آیت میں بھی کہیں یہ نہیں بتایا جارہا ہے کہ عیسی ابن مریم زندہ ہیں اور آسمانوں میں ہیں۔

    4:157 وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَ۔كِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
    اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے مسیح عیسی ابن مریم کو جو رسول ہیں اللہ کے حالانکہ نہیں قتل کیا انہوں نے اس کو اور نہ سولی پر چڑھایا اسے بلکہ معاملہ مشتبہ کردیا گیا ان کے لیے اور بے شک وہ لوگ جنہوں نے اختلاف کیا اس معاملہ میں ضرور مبتلا ہیں شک میں اس بارے میںَ اور نہیں ہے انہیں اس واقع کا کچھ بھی علم سوائے گمان کی پیروی کے اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقینا!۔

    یہاں ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کے قتل کے دعوے کرتے ہیں وہ نا تو ان کو سولی پر چڑھا سکے اور نا ہی ان کو قتل کرسکے ۔۔ یہ بات میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ ان کا قتل ہی نہیں ہوا نا کہ سولی پر چڑھا سکیں۔ کچھ لوگوں نے ان کے قتل یا سولی پر چڑھائے جانے کے بارے میں جو بھی سمجھا اپنے گمان کی پیروی کی ۔۔۔۔ مسیح یقیناً قتل نہیں ہوئے۔

    اب تک کوئی اختلاف نہیں ہے میرا یا کسی دوسرے کا۔

    پچھلی آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مسیح نا تو قتل کئے گئے اور نا ہی مصلوب ہوئے یعنی ان کی بے عزتی نہیں ہوئی۔ "بلکہ" ان کو عزت سے اللہ تعالی نے اپنی طرف اٹھا لیا۔

    4:158 بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
    بلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے

    اس آیت میں بھی اللہ تعالی زندہ اٹھانے یا موت کے بعد اٹھانے کی بات نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ یہ بتارہے ہیں کہ وہ زمیں سے اٹھائے جاچکے ہیں ۔۔۔ زندہ یا موت کے بعد؟ اس سوال کو واضح جواب اس آیت میں موجود نہیں ہے۔

    اب آتے ہیں 4:159 پر ۔۔۔ آیت درج کررہا ہوں۔۔ 4:158 تک ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کی طرف کس طور اٹھائے گئے۔ یہاں تک اثبات ظاہر کیجئے تو آگے بڑھتے ہیں اور 4:159 کو دیکھتے ہیں۔ کہ اس کے معانی کیا ہیں۔

    4:159 وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
    شبیر احمد: اور نہیں کوئی اہلِ کتاب میں سے مگر ضرور ایمان لائے گا مسیح پر اس کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا میسح ان پر گواہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ميرا سوال نمبر 1 اسی آخرى حصے کے متعلق تھا جس كى كوئى توضيح جناب نے ذكر نہيں فرمائى ۔

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    خواہر محترم السلام علیکم۔

    آُپ کے سوال کا شکریہ ۔ ہم اب 4:159 پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں اور باقاعدہ تصریف کرکے درست معانی لکھتے ہیں۔ فی الحال ہمارا مقصد صرف اور صرف درست معانی اخذ کرنا ہے۔ آُپ کے تینوں سوالات کے جوابات ہمارا اتفاق ہوجانے کے بعد۔ آُپ اس تصریف کو دوسرے اساتذہ کی مدد سے تصدیق بھی کرلیجئے۔ ذہن میں رکھئے کہ سوالات کے جوابات ہمارا ترجمے پر اتفاق ہوجانے کے بعد۔


    عربی نا میری پہلی زبان ہے اور نا ہی مادری زبان بلکہ میری عربی بہت کمزور ہے، جیسا کہ آُپ نے فرمایا کہ "عربی زبان کے اسالیب سے ناواقف ہوں"۔ میرا اس سے کامل اتفاق ہے ۔۔۔ اس آیت کا حرف بہ حرف تجزیہ اپنی کم علمی کے ساتھ کررہا ہوں۔ اگر کسی احباب یا اصحاب کو کوئی غلطی نظر آئے تو درستگی فرمادیں۔

    اس تجزیہ میں ہر لفظ کی عربی grammer اور انگریزی گرامر morphology ، ہر لفظ کے اردو اور انگریزی معانی اور آخر میں اس آٰیت کے انگریزی اور اردو معانی دئے گئے ہیں۔

    4:159 وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

    وَإِن --- الواو عاطفہ و حرف - اور نہیں کوئی And (there is) not
    prefixed conjunction wa (and) PART – particle

    مِّنْ --- حرف جر --- میں -- سے from
    preposition

    أَهْلِ --- اسم مجرور --- لوگوں the People
    genitive masculine noun

    الْكِتَابِ --- اسم مجرور -- کتاب والے of the book
    genitive masculine noun

    إِلاَّ --- حرف -- لیکن - ماسوائے - مگر but
    particle

    لَيُؤْمِنَنَّ -- اللام لام التوكيد ، فعل مضارع -- یقیناً وہ ایمان رکھتا ہے surely he believes
    prefixed emphatic particle lām and – 3rd person masculine singular - imperfect verb

    بِهِ -- جار ومجرور -- اس (شخص ) میں In him
    prefixed preposition bi and – 3rd person masculine singular personal pronoun

    قَبْلَ --- ظرف زمان منصوب --- قبل یا اس سے پہلے before
    accusative time adverb

    مَوْتِهِ --- اسم مجرور والھاء ضمير متصل في محل جر بالاضافہ --- اس (شخص) کی موت His Death
    genitive masculine noun --- 3rd person masculine singular possessive pronoun

    وَيَوْمَ --- الواو عاطفۃ -- اسم منصوب --- اور اُس دن and (on) the day
    prefixed conjunction wa (and) – accusative masculine noun

    الْقِيَامَةِ -- اسم مجرور --- اٹھائے جانے کے / قائم ہونے کے / قیامت (کے دن) of the Resurrection
    genitive feminine plural noun

    يَكُونُ --- فعل مضارع --- وہ ہوگا He will be
    3rd person masculine singular imperfect verb

    عَلَيْهِمْ --- جار ومجرور --- ان کے لئے یا ان کے سامنے - Against them
    preposition – 3rd person masculine plural object pronoun

    شَهِيدًا --- اسم منصوب --- گواہ a witness
    accusative masculine singular indefinite noun


    اس آیت کے ممکنہ اردو تراجم میری محدو د عربی زبان کی معلومات کے مطابق:
    اور نہیں کوئی کتاب والے لوگوں میں سے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اِس (عیسی علیہ السلام کے بارے)‌ میں اُس ( عیسی علیہ السلام)‌ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام)‌ ہونگے اِس کا گواہ۔
    اور نہیں کوئی اہل کتاب میں‌سے مگر یقینا وہ ایمان رکھتا ہو اُس (عیسی علیہ السلام)‌ پر اُس ( عیسی علیہ السلام)‌ کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن وہ (عیسی علیہ السلام)‌ ہونگے اُن کے گواہ۔

    And there is not from the people of book but surely he believes in him before his death and on the day of the resurrection, he will be a witness for them.

    اس آیت میں یہ کہیں‌نہیں‌ملتا کہ عیسی علیہ السلام مستقبل میں زندہ آئیں گے بلکہ پچھلی دو آیات کے واقعات کی تصدیق میں‌یہ بتایا جارہا ہے کہ جو اہل کتاب ان کے ساتھ تھے وہ ان کی موت سے قبل اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ نہ وہ مصلوب کئے گئے اور نہ ہی ان کا قتل ہوا -- یہ ایمان ان کا حضرت عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے تھا۔ اسی لئے یہ اہل کتاب مومن کہلائے۔ خود ان اہل کتاب لوگوں پر حضرت عیسی علیہ السلام گواہ ہونگے۔

    تو کیا کہ ان کو وفات دے کر اللہ تعالی نے اوپر اٹھا لیا ۔ یا زندہ اوپر اٹھا لیا ۔۔ اس کا کوئی تذکرہ اس آیت میں‌ہے نہیں۔

    لیکن یہ واضح ہے کہ ان کی موت واقع ہوئی ۔ اہل کتاب میں سے ایسا کوئی نہیں ہوا جس کا ان کی موت سے پہلے اس بات پر (کہ نا تو ان کو مصلوب کیا گیا اور نا ہی وہ قتل ہوئے) ایمان نہیں ہوا۔ اسی لئے وہ مومن اہل کتاب کہلائے۔

    جیسا کہ میں نے عرض‌کیا کہ میں طالب علم قرآن ہوں ، عربی میری پہلی یا مادری زبان نہیں ہے اس لئے قواعد و گرامر میں کمزور ہوں۔ جو حضرات بہتر عربی جانتے ہیں اس آیت کے تجزیہ میں اگر کوئی خامی پاتے ہیں‌ تو ہم سب کے علم میں اضافہ فرمائیں۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    میں یہ سمجھ رہا ہوں‌کہ یہاں‌ کسی کے پاس قرآن حکیم سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ اوپر اٹھائے گئے اور زندہ واپس آئیں‌گے۔ ان آیات کی کھوج و استدعا بارہا کرچکا ہوں جو اس طرح کا فرمان الہی رکھتی ہوں۔ لیکن ہر بار اصحاب و احباب تاویلات سے کچھ روایات سے ان مصدقہ آیات کی نفی کی کوشش میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

    آپ کی آسانی کے لئے موت والی آیات ایک بار پھر:
    وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
    اہلِ کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو یقیناً ایمان نہ لایا ہواس (مصلوب نہ ہونے اور قتل نہ ہونے )‌ پر اس (مسیح) کی موت سے پہلے اور قیامت کے دن ہوگا (مسیح) ان پر گواہ۔

    اس آیت میں بھی نہ زندہ اٹھانے اور نہ ہی زندہ واپس آنے کا کوئی تذکرہ ہے۔

    بنیادی طور پر اس آیت میں یہ کہا جارہا ہے کہ

    قیامت کے دن ، عیسی علیہ السلام ان اہل کتاب لوگوں پر گواہ ہوں گے جو عیسی علیہ السلام کی (طبعی)‌ موت سے پہلے عیسی علیہ السلام پر اور اس بات پر ایمان لائے جو اس سے پہلے کی آیات میں بیان کی گئی ہے ‌( کہ نہ ان کا قتل ہوا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا)۔

    جب کہ روایات پر یقین رکھنے والے فرقہ اس آیت کو مستقبل میں حضرت عیسی علیہ السلام کی زندہ آمد کے بعد ہونے والی موت سے مراد لیتے ہیں۔ اس آیت میں‌کہیں بھی یہ نہیں‌کہا گیا کہ وہ زندہ آئیں گے بھی۔

    یہ کہنا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں‌ہوگا جو عیسی کی موت سے پہلے ان پر اور اس حقیت پر ایمان نہ لے آیا ہو کہ ان کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ان کو مصلوب کیا گیا -------- ہم کو یہ بتاتا ہے کہ کہا جارہا ہے کہ اہل کتاب کو ایسا یقین ان کی موت سے پہلے ہوا، یہ نہیں‌کہا جا رہا کہ ان کی موت ان کے زندہ نازل ہونے کے بعد ہوگی۔

    صاف بات ہے کہ جو اہل کتاب مومنین اس وقت زندہ تھے، اس بات کو جانتے تھے کہ نہ عیسی علیہ السلام قتل ہوئے اور نہ ہی مصلوب ، اس لئے کے یہ اہل کتاب عیسی علیہ السلام کے ساتھ اس واقعے کے بعد بھی تھے ۔ لہذا عیسی علیہ السلام کی طبعی موت سے پہلے ان پر ایمان لائے اوران امور (نہ قتل ہونے اور نہ مصلوب ہونے ) کے گواہ رہے۔

    1۔ ایسا کہنا کہ اس آیت میں درج ہے کہ عیسی علیہ السلام دوبارا زندہ آسمان سے نازل ہونگے ، اس آئت میں کہیں‌ نہیں‌ لکھا۔
    2۔ ایسا کہنا کہ "اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا"، جو عیسی علیہ السلام کی مستقبل میں‌ہونے والی موت پر ایمان نہ لے آئے ، بھی درست نہیں
    اس لئے کہ بہت سے اہل کتاب (مومن نہیں) آج بھی عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اسی حالت میں‌مر جاتے ہیں۔ ان کا شمار کس طرف ہوگا؟

    لہذا اس بات کو تسلیم کر لینے میں کوئی برائی نہیں کہ عیسی علیہ السلام کی وفات یعنی موت واقع ہوئی اور اس کی وجہ نہ قتل تھی اور نہ ہی مصلوب ہونا۔

    ان کی وفات کی تفصیل ان دو آیات (المائیدہ 115 اور 116 ) میں مزید دی گئی ہے جہاں‌ ان کی وفات کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ پہلے فراہم کی جاچکی ہیں۔۔ اس آیت (النساء 159) بھی لفظ "موتہ" سے یہ بتایا جارہا ہے کہ مسیح کی موت واقع ہوچکی ہے۔ اور قیامت کے دن مسیح ان لوگوں‌ پر گواہ ہونگے جو ان پر اور ان سے متعلق اس بات کو جانتے اور ایمان رکھتے تھے کہ ان کی موت نہ قتل سے ہوئی اور نہ مصلوب ہونے سے ۔

    آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات ، انشاء اللہ تعالی آیندہ مراسلے میں ۔۔۔
    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    -قرآن كريم كہتا ہے: اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لاچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے۔۔۔۔
    اس آيت كا كيا مطلب ہے؟ اہل كتاب يہ ايمان لائيں گے يا لا چکے؟ اگر بقول آپ کے عيسى عليہ السلام وفات پا چکے ہيں تو كيا نصارى ان پر ايمان لا چکے؟ تاريخ كيا كہتی ہے؟


    اس آیت سے یہ معانی اخذ کرنے میں کہ -- عیسی علیہ السلام آئیں گے اور کوئی بھی اہل کتاب ایسا نہیں ہوگا کہ وہ ان پر ایمان نا لایا ہو ---اس میں کچھ قباحتیں ہیں۔ پہلی قباحت یہ ہے کہ حضرت عیسی کی موت پر یقین رکھنے والے اہل کتاب موجود ہیں، دوسری قباحت یہ کہ اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کے آسمان میں جانے پر یقین رکھتے ہیں اور ان کو خدا کا بیٹا بھی مانتے ہیں اور ایسی ہی حالت میں مر بھی جاتے ہیں۔ ان کو ہم کس گنتی میں ڈالیں؟ پھر ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی اور ان کی والدہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اور ایسے اہل کتاب مر بھی گئے ہیں۔ تو " کوئی بھی ایسا اہل کتاب نہیں ہوگا" اس تناظر میں درست نہیں رہتا۔ کیوں کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسے اہل کتاب مردہ ہو چکے ہیں جو ایمان نہیں لائے۔


    2-اگر بقول آپ کے عيسى عليہ السلام وفات پا چکے ہيں تو كيا وہ بوڑھے ہو كر فوت ہوئے تھے يا جوانى ميں؟
    نا ان کو قتل کیا گیا اور نا ہی ان کو مصلوب کیا گیا۔ قرآں حکیم گواہی دیتا ہے کہ جناب بوڑھی عمر میں بھی دعوت دیں گے۔۔۔ لہذا جناب کی وفات اس عمر کے بعد ہی ممکن ہے۔ اس بارے میں معلومات فراہم کرنے والی آیات بعد میں۔

    3-اگر بقول آپ کے عيسى عليہ السلام وفات پا چکے ہيں تو قرآن كريم ان كو قيامت كى نشانى كيوں کہہ رہا ہے؟ زمانى اعتبار سے تو وہ نبي آخر الزماں حضرت محمد مصطفى صلى الله عليه وسلم سے پہلے آئے تھے ؟ پھر وہ قيامت كى نشانى كيسے ہوئے؟

    اس سوال کا جواب جاننے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وقت کے فاصلے کے سنگ میل "واقعات" کی شکل میں ہوتے ہیں۔ یہ "ایونٹس" یا واقعات وقت کے فاصلے کا تعین کرتے ہیں۔ اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ السلام کو قیامت کی نشانی ڈیکلئر کرتے ہیں۔ یہ نشانی آچکی ہے ۔۔۔
    قرآن حکیم کے بیانات اور نشانیوں کے بعد قیامت کی کسی مزید نشانی کا کسی انسان کو پتہ ہے؟؟؟۔ اس بارے میں قرآن کی آیات کے حوالے بعد میں ۔ کہ قیامت کی آنے والی نشانیوں کے بارے میں قرآن حکیم کیا تعین کرتا ہے ۔؟؟؟ اس سے موضوع تبدیل ہوجائے گا۔ لہذا کوئی ریفرنس فراہم کرنے سے احتراز کررہا ہوں۔

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  10. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ميرے سوالات كے جوابات مرحمت فرمانے كا شكريہ ، ناگوار خاطر نہ ہو تو ذرا مزيد زحمت فرمائيے :
    1-"تكفير" كے متعلق جو ربط عنايت فرمايا تھا اس پر كلك كرنے سے نتيجہ آتا ہے
    برائے مہربانى متبادل ربط فراہم كر ديجیے۔
    2- تازہ مراسلے میں جناب نے آيت قرآنى کا جو ترجمہ بزبان اردو و انگريزى درج فرمايا ہے وہ كس مترجم كا ہے؟ جيسا كہ اس سے قبل ايك مراسلے میں اسى آيت كريمہ كا ترجمہ "شبير احمد آف فلوريڈا " كا درج فرمايا تھا؟
    3- جناب كے نزديك Eytomology تصريف ہے تو morphologyكيا ہے ؟

    باذن اللہ مزید گفتگو ان نكات كى توضيح كے بعد .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  11. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    جواب
    یہ ترجمہ قرآن آسان تحریک کے مولانا شبیر احمد کا تھا۔ ڈاکٹر شبیر احمد فلوریڈا کا نہیں.

    جواب
    یہ ترجمہ عربی زبان کی گرامر کے لحاظ سے میں نے خود کیا ہے، اس ترجمے میں کیا خامی ہے اس پر روشنی ڈالئے۔

    جواب
    اللہ تعالی کے فرمان قرآن کی آٰیات کی تکذیب کو اللہ تعالی کفر قرآر دیتے ہیں۔ اس پر کیا اعتراض ہے؟

    جواب :

    آپ بتائیے کہ آیت کے اس حصے میں --- إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ --- میں مستقبل کا صیغہ ہے یا حال کا صیغہ ہے؟ اگر حال کا صیغہ ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کا ترجمہ مستقبل میں کیا جائے؟

    مستقبل کے صیغے کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسئلے کو بھی واضح کیا ہے کہ ان لوگوں کا کیا ہوگا جو مصلوب ہونے اور قتل پر ایمان رکھتے رہے ۔ ان کو کس گنتی میں شمار کیا جائے گا؟

    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    3,128
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    اب تک قرآن حکیم سے کوئی حوالہ ایسا نہیں ملا ہے جس کی بنیاد پر صاف صاف یہ کہا جاسکے کہ حضت عیسی کو زندہ آسمان میں اٹھا لیا گیا ہے۔۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے مسلمانوں کا یہ ایمان ہے جو کہ سنی سنائی بات پر ہے۔ میں خود بھی اسی کہانی پر ایمان رکھتا تھا۔ کہ عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے نازل ہوں گے۔ جب تک کہ میں نے خود قرآن حکیم نہیں پڑھا۔
    اوپن برہان مرتب کرنے کی صرف ایک وجہ تھی کہ قرآن حکیم سمجھنے میں آسانی ہو۔ سب سے پہلے ہم نے تمام مترجمیں کے تراجم جمع کئے۔ پھر قرآن کے روٹ الفاظ کا انڈیکس بنایا۔ اور پھر قرآن کے ہر لفظ کی گرامر لکھی۔ یہ کام طویل اور صبر آزما تھا لیکن اس کام کے نتیجے میں ایک بات تو یہ سامنے آئی کہ میری محدود معلومات اور محدود علم کے مطابق، قرآن حکیم میں ایک بھی ڈیفیکٹ نہیں ملا کوئی آیات ایک دوسرے کی تردید نہیں کرتی۔ کوئی جھول اتنے بڑے متن میں نہیں ملتا۔۔ آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ 28 تراجم کو باریک بینی سے پروف ریڈ کیا ۔۔۔ کچھ برادران اس کے گواہ ہیں۔ آج کل جناب مودودی صاحب کا ترجمہ شامل کرنے پر کام کررہا ہوں۔ تراجم میں سقم موجود ہے۔ لیکن قرآں کے متن میں نہیں۔

    دوسری بات یہ سامنے آئی کہ قرآن کچھ نظریات کی توثیق نہیں کرتا۔ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کے زندہ اللہ تعالی کی طرف جانے کی یا زندہ واپس آنے کی۔ جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات بہت ہی واضح طریقے سے بیان ہوئی ہے ۔ لگتا یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اپنے عقائید مسلمان ہونے کے بعد بھی جاری رکھے اور یہ قرآن کے بعد کی کتب میں مسلمانوں میں رائج ہوگئے۔


    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  13. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,736
    موڈ:
    Cheerful
    خوب جڑ پکڑی ہے صاحب ! :)
    نزول مسیح اور دجال کہانی تو قرآن کریم کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔ عیسائیت کے لٹریچر کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ کہانیوں کا کُھرا کہاں واقع ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بے حد شكريہ ، مجھے یہی جاننا تھا كہ يہ ترجمہ كس كا ہے۔ كيا آپ كا مكمل ترجمہ قرآن موجود ہے ؟ اگر ہاں تو مجھے اس كا مطالعہ كر كے خوشى ہوگی ۔ ازراہ كرم ايك نسخہ عنايت فرمائيے۔

    اب سوال نمبر ايك كے متعلق ذيلى تساؤلات :
    يہ فرما ديجئے کہ لفظ " ليؤمنن " كے معانى آپ کے نزديك حال كے ہيں مستقبل کے نہیں۔۔۔
    A-قواعد زبان وادب كى رو سے وہ كيا اسباب ہيں کہ جناب اس لفظ كو علمى لحاظ سے صرف حال پر محمول كرنا درست سمجھتے ہیں مستقبل پر نہیں؟
    B-اور جن مترجمين نے اس كو مستقبل پر محمول كيا ہے ان كا ترجمہ زبان وادب كے كن قواعد كى بنا پر غلط ہے؟؟؟؟

    جناب آپ سے متبادل ربط كا سوال كيا تھا جس پر بقول آپ کے "قرآن كى تكفير" :) سے متعلق مواد تھا۔
    فى الوقت تو مجھے جناب كا موقف سمجھنے کے ليے اپنے طالب علمانہ سوالات کے جوابات كا انتظار ہے۔ (جن ميں سے ايك یہ تھا :
    3- جناب كے نزديك Eytomology تصريف ہے تو morphologyكيا ہے ؟ :) )

    آپ کے سوالات كے جوابات باذن اللہ تعالى بحث سميٹتے ہوئے دے دیے جائيں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    شاكر صاحب كے اس كمنٹ میں شافى جواب موجود ہے۔ مرضِ انكار حديث میں مبتلا افراد كو قرآن كريم سے نماز پنجگانہ كا ذكر بھی نہیں مل سكا تھا اس ليے بے چاروں نے كافى مشقت اٹھائى ۔ :) اس كا ذكر كبھی فرصت سے علمى لطائف ميں.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,736
    موڈ:
    Cheerful
    سنت اور حدیث ، بلکہ سنت جاریہ اور خبر واحدہ میں فرق سے قاصر افراد کے پلے لطائف ہی ہوسکتے ہیں ، علم اور دلائل کہاں۔ ;) ۔ نماز پنجگانہ کتب حدیث کے مصنفین کی پیدائش سے پہلے سے جاری ہے۔ اس معروف موضوع پر کیا بحث کرنی۔ بھینس کے آگے بین بجانے کا شوق نہیں۔
    آپ کی موضوع سے ادھر ادھر بھاگنے کی لت سے میں خوب واقف ہوں۔ مجھے چھوڑیے ، خان صاحب کی طرف توجہ کیجئے جو ابھی تک موضوع پر آپ کے "دلائل" کے منتظر ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  17. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    معزرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ آپکا کیا ہوا ترجمہ بالکل غیرفطری ہے۔۔۔بار بار پڑھنے کے باوجود کچھ پلے نہیں پڑتا کہ کیا کہا جارہا ہے۔ براہ کرم اس ترجمے کو بامحاورہ کردیجئے تاکہ مفہوم واضح ہوسکے۔
    کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ “ اھل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو ان پر انکی موت سے پہلے ایمان نہ رکھتا ہو اور وہ(حضرت عیسی علیہ السلام) قیامت کے دن انکے اس ایمان کی گواہی دیں گے“۔۔۔؟؟؟
    اگر یہی بات ہے تو یہ ترجمہ کہیں زیادہ منطقی اور تاریخی اعتراضات کا محل ہے۔۔۔۔اہل کتاب میں یہودی اور عیسائی دونوں شامل ہیں یعنی توریت والے اور انجیل والے۔۔۔بتائے اگر آپکے دعوے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں تو یقینا یہودی ان پر ایمان لاچکے ہونگے۔۔۔لیکن مجھے تو ایسا کوئی یہودی نظر نہیں آیا ابھی تک۔
    اصل بات یہی ہے کہ اس آیت کا وہ ترجمہ ہی درست ہے جو تمام مفسرین اور علمائے کرام نے ہر دور میں کیا ہے یعنی مستقبل کے حوالے سے۔۔اور یہ بات انہوں نے اپنی طرف سے اختراع نہیں کی بلکہ عربی زبان کے قواعد اسکے گواہ ہیں، آیت کا قرینہ اسکا گواہ ہے کیونکہ مستقبل کے معنی کرنے سے ہی آیت کی سینس بنتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس ترجمے کی صحت پر سینکڑوں احادیث رفع و نزولٰ مسیح کی گواہ ہیں۔۔۔اگر بفرضٰ محال یہ احادیث نہ ہوتیں تو پھر آپکی بات پر غور کرنے کیلئے کچھ وقت نکالا جاسکتا تھا لیکن آپکے ترجمے کی تائید نہ کسی تفسیر و ترجمہ میں ہے، نہ کسی حدیث میں ہے، نہ منطق اور تاریخ سے ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی آپکی اپنی ویب سائیٹ پر ایسا ترجمہ ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. ابن حسن

    ابن حسن معطل

    مراسلے:
    587
    اس پوسٹ میں میری شرکت بنیادی طور پر اس وجہ سے ہوئی تھی کہ ایک قادیانی صاحب حضرت عیسیٰ کے حوالے سے یہ دعوہ کر رہے تھے کہ حضرت عیسیٰ کی وفات ہو چکی ہے اور پھر یہی خدشہ تھا کہ وہ اگلے مرحلے پر مرزا کو حضرت عیسیٰ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔اس بات کا سد باب میری اولین خواہش تھی حالانکہ اب میرے پاس اتنا وقت ہے ہی نہیں کہ میں آن لائن کسی لمبی چوڑی بحث میں حصہ لے سکوں ۔
    جناب فاروق سرور خاں صاحب نے جو، اب یہ موضؤع دوبارہ چھیڑا تو اس میں کوئی ایسی انوکھی بات نہیں وہ انٹرنیٹ کی دنیا کے غلام احمد پرویز ہیں نیٹ پر مختلف فورمز پر ان کی شناخت سے سب واقف ہیں انکار حدیث کا نتیجہ یہ نہیں نکلے گا تو اور کیا نکلے گا؟
    بہر حال ان سے کوئی نیا مباحہ چھیڑنا مقصد نہیں بلکہ میں تو شاید یہ پوسٹ بھی نہ کرتا اگر ایک چیز یاد نہ آ جاتی۔

    جون 2008 میں راہب صاحب نے اسی فورم پر ایک تھریڈ شروع کیا تھا عنوان تھا حضرت مہدی کون؟ اس پوسٹ میں ایک بڑی بحث محترم فاروق
    سرور خان صاحب اور محترمہ مہوش علی صاحبہ کے درمیان ہوئی تھی اور حضرت مہدی کے ساتھ ساتھ حضرت عیسیٰ کے نزول کا مسئلہ بھی ابھر کر سامنے آیا تھا اس وقت مہوش کا موقف یہ تھا کہ اگر حضرت مہدی کا ذکر قرآن میں نہیں آیا تو حضرت عیسیٰ کے دوبارہ نزول کا ذکر بھی تو قرآن میں کھل کر بیان نہیں ہوا ہے، اس کے بر عکس جو موقف جناب خان صاحب نے اپنایا وہ آپ اس تھریڈ پر جا کر دیکھ سکتے ہین

    http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?12815-حضرت-مہدی-کون؟/page8
    پوسٹ نمبر 74 سے اس بحث کا آغاز ہوتا ہے اس کا پہلا جواب میں یہاں نقل کر دوں

    اب یہ پوری تھریڈ آپ پڑھ لیجے اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں یا تو مہوش کے ساتھ خان صاحب بحث برائے بحث کرتے ہوئے وقت کا زیاں کر رہے تھے اور علمی بددیانتی کے مرتکب ہو رہے تھے یا وہ یہی اپنا عقیدہ بیان کر رہے تھے کہ حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی ہو گی۔یہ بات اس لیے کہ رہا ہوں کہ جناب خان صاحب کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ ایسے مقامات پر جہاں ان کی گوٹ دبتی ہو گول مول انداز اپنانے کے بھی ماہر ہیہں۔

    اس پھریڈ پر اب میری طرف سے بس۔ جس کو جو دل چاہے وہ عقیدہ اپنا لے ایک عقیدہ حضرت عیسیٰ کی آمدثانی و نزول آسمانی کا ہے جو چودہ سو سال سےا مت محمدیہ کا ہے اور جس کو جناب خان صاحب بھی اکثریت کا عقیدہ قرار دے چکے ہیں اور دوسرا اس کے بر عکس جس کے سرخیل اس وقت قادیانی اور منکر احادیث ہیں۔
    ایک آخری بات یہ کہ اگر کسی کے پاس ٹائم ہو تو جناب خان صاحب کی وہ پوسٹ جس میں انہوں نے پوری نماز کی تفاصیل قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ ذرا ڈھونڈ کر یہاں دیں تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ خان صاحب اپنے مقاصد کے لیے قرآن کی “من مانی تشریح“ و اخذ نتائج کس طرح کرتے ہیں۔

    فاعتبرو یا اولی الابصار
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  19. ام نور العين

    ام نور العين معطل

    مراسلے:
    2,026
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اب تك ميرى جانب سے فاروق سرور خان صاحب كى خواہش کے مطابق " صرف قرآن كريم كى رو سے نزول سيدنا عيسى (عليه ازكى السلام )" پر بات ہوئی ہے۔ كسى حديث شريف كسى صحيح يا صعيف روايت كا حوالہ ميرى جانب سے نہيں دیا گيا ، ليكن اب جناب خان صاحب يكايك خاموش ہيں ۔ كہاں تو دن بھر ميں چار چار مراسلوں ميں ايك ہی رٹ تھی كہ نزول مسيح عليہ السلام كا ذكر قرآن كريم ميں کہیں نہیں اور كہاں يہ عالم ہے كہ صرف ايك قرآنى لفظ "ليؤمنن " كے "فاروق سرور خانى ترجمے" کے متعلق دو آسان سے سوالات كا جواب اب تك ندارد:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    وفات مسیح محض قرآن ہی نہیں بلکہ غیر یہودی و عیسائی سورسز سے بھی ثابت ہے۔ جب حضرت عیسیٰؑ کو صلیب دی گئی، اسوقت وہاں مقامی یہودیوں کے علاوہ رومی غیر ابراہیمی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے، اور ان سے حاصل شدہ تاریخی مواد کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی وفات صلیب پر یا بعد میں صلیب سے اتارے جانے کے بعد ہوئی:
    http://en.wikipedia.org/wiki/Historical_Jesus#Trial_and_execution
    ہو سکتا ہے حضرت مسیح علیہلسلم کے پیروکار انکے کے صلیب دئے جانے کے بعد اس صدمہ کے باعث ایک فرضی کہانی گھڑ کر بیٹھ گئے ہوں کہ حضرت عیسیٰؑ کو جسمانی موت نہیں ہوئی بلکہ خدا نے انکو آسمان پر اٹھا لیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ صلیب سے زخمی حالت میں اتار لئے گئے ہوں اور بعد میں رومیوں سے بچتے ہوئے کسی ایسے مقام کی طرف ہجرت کرگئے ہوں جہاں پر رومیوں کی حکومت نہ ہو۔ بعض عیسائی، نبی یوز آصف جنکی قبر سری نگر کشمیر میں ہے کو حضرت عیسیٰؑ کی قبر مانتے ہیں۔
    http://www.tombofjesus.com/

    چونکہ یہ تاریخی دھاگہ ہے اسلئے میرا کمنٹ تاریخ کے دائرہ تک محدود ہے۔ جن اسلامی افراد کو غیر مرئی عیسیٰ پر "ایمان" لانا ہو وہ اپنی یہ کہانیاں اسلامی سیکشن میں جاکر بیان کر سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر