جاسمن

لائبریرین
اردو محفل میں عام طور پر شعر و شاعری سے متعلق اچھی خاصی سرگرمی پائی جاتی ہے اور شائقینِ شعر و ادب اکثر و بیشتر متعلقہ زمروں میں فعال نظر آتے ہیں۔ ایک طرف شاعر حضرات وقتاً فوقتاً شائقینِ سخن کو اپنے کلام سے نوازتے رہتے ہیں تو دوسری طرف متعدد نو آموز شعرا اصلاحِ سخن کے زمرے میں اساتذہ کے مشوروں اور اصلاح سے مستفید ہوتے نظر آتے ہیں۔ محفل پر موجود اساتذہ ہم سب کی توصیف و تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ بے غرضی کے ساتھ اپنا قیمتی وقت اور توانائی نو واردانِ بساطِ سخن کی اصلاح و تربیت پر صرف کرتے ہیں۔ آفرین ، صد آفرین !

یہ بات طے ہے کہ کسی بھی فن کی بہتری کے لئے صحت مند تنقید نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس کے بغیر فنی ارتقا کا تصور بھی محال ہے۔ شاعری کا ہنر بھی اس کلیے سے مستثنٰی نہیں۔ مثبت تنقید اور صائب مشورے شاعر کے لئے روشنی اور روشنائی کا کام دیتے ہیں۔ اردو محفل پر موجود کچھ ہم فکر دوستوں کا ایک عرصے سے یہ خیال ہے کہ زمرۂ سخن میں ایک باقاعدہ تنقیدی نشست بھی ہونی چاہئے۔ شاعری کے عروضی اور لسانی مسائل پر تو اکثر گفتگو رہتی ہے لیکن شاعری کے فکری اور موضوعاتی پہلوؤں پر بات چیت کم ہی نظر آتی ہے۔ نیز یہ گفتگو بھی عموماً مختصر نکات کی صورت میں متعدد دھاگوں میں بکھری ہوئی ہے۔ اس ساری صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس دھاگے میں ایک باقاعدہ تنقیدی فورم کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اس فورم میں ہر مہینے ایک شاعر یا شاعرہ کو دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنی ایک نظم یا غزل نقد و نظر کے لئے پیش کریں۔ شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے تمام اراکین ایک ماہ تک اس کلام پر اپنی تنقیدی رائے اور تبصرے پیش کریں گے۔ ایک ماہ کا دورانیہ پورا ہونے کے بعد ایک اور شاعر یا شاعرہ کو مدعو کیا جائے گا اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی سرگرمی شعر و ادب لکھنے اور پڑھنے والوں تمام اراکین کے لئے فیض بخش ثابت ہوگی۔ اصلاحِ سخن کے زمرے میں استادِ محترم اعجاز عبید صاحب المعروف بہ الف عین کی دیرینہ خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی غرض سے اس تنقیدی فورم کا نام "الف عین اسٹوڈیو" رکھا گیا ہے ۔ مدیرہ کی حیثیت سے میں اس اسٹوڈیو کی موڈریٹر یا ناظمہ کے فرائض انجام دوں گی۔

مناسب ہے کہ اس پہلے اور تعارفی مراسلے ہی میں اس تنقیدی نشست کے کچھ قواعد و ضوابط بیان کردیئے جائیں۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد نقد و نظر کرنے والے اراکین کے لئے رہنمائی اور تنقیدی نشست کی کارروائی کو بغیر کسی رکاوٹ اور بدمزگی کے خوش اسلوبی کے ساتھ آگے بڑھنے میں مدد دینا ہے۔ میں اپنا حقِ نظامت استعمال کرتے ہوئے ان قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بناؤں گی۔

(1) جو شعرا اپنا کلام تنقید کے لئے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی منظوم تخلیق مجھے ذاتی پیغام میں ارسال کردیں۔ موصول ہونے والے کلام کو پہلے آئیے ، پہلے پائیے کی بنیاد پر باری باری تنقید کے لئے پیش کیا جائے گا۔ نثری نظمیں شکریے کے ساتھ واپس بھیج دی جائیں گی ۔
(2) اس تنقیدی نشست کا بنیادی مقصد کلام کے فکری اور نظریاتی پہلوؤں پر تبصرہ آرائی اور تکنیکی پہلوؤں کا بلند تر سطح پرتجزیہ کرنا ہے۔ سو اس مقصد کے لئے اس اسٹوڈیو میں ان شعرا کو مدعو کیا جائے گا جو اپنا کلام عموماً پابند بحور کلام کے زمرے میں پیش کرتے ہیں۔ وہ مبتدی شعرا جن کا کلام ابھی تک عروضی اور فنی پختگی کے بنیادی مراحل سے گزر رہا ہے ان کے استفادہ کے لئے اصلاحِ سخن کا زمرہ موجود ہے۔ ان شعرائے کرام سے استدعا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات بدستور اصلاحِ سخن ہی میں ارسال کرتے رہیں۔
(3) کلام بھیجنے والے شعرا سے درخواست ہے کہ وہ اپنا ایسے فن پارے کا انتخاب کریں جو ان کی عمومی شاعری کی نمائندگی کرتا ہو۔ ایسے نمائندہ فن پارے پر تنقید ان کے کلام کے لئے بحیثیت مجموعی مفید ثابت ہوگی ۔
(4) تنقیدی نشست کے دوران شاعر کو مکالمے اور تبصروں میں کئے گئے سوالات کا جواب دینے کے لئے محفل پر پابندی سے موجود رہنا چاہئے تاکہ ایک ماہ کے دورانیے میں تمام بحث کو سمیٹا جاسکے اور گفتگو کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔
(5)اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ تبصرہ کرنے والے اراکین عام دستور کے مطابق شاعری پر صرف داد و تحسین بھرے مراسلے نہ لکھیں بلکہ پیش کردہ کلام کے فکری اور فنی پہلوؤں کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیں اور احسن انداز میں اپنی مثبت اور بے لاگ رائے پیش کریں تاکہ مبصرین کی طرف سے شاعر کو ایک صحت مند اور تعمیری فیڈ بیک مل سکے۔
(6) شاعر اور تمام شرکائے گفتگو کے لئے ضروری ہے کہ منفی تبصروں اور غیر صحت مندانہ رویے سے پرہیز کیا جائے۔ شائستگی اور تہذیب کا دامن کسی صورت ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے ورنہ اس تنقیدی نشست کا مقصد فوت ہوجائے گا۔

اب میں آخر میں اس تنقیدی فورم میں شرکت کے خواہشمند شعرائے کرام کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ اپنا نمائندہ کلام مجھے ارسال کریں تاکہ اس تعمیری فورم کا آغاز کیا جاسکے۔ اس فورم کے باقاعدہ آغاز کے لیے میں استادِ محترم جناب الف عین صاحب سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ہمیں اپنے افتتاحی کلمات سے نوازیں۔
 

الف عین

لائبریرین
اردو محفل کی جب ابتدا ہوئی تھی تو پیش نظر صرف اردو زبان و تحریر کا ارتقاء تھا، ہماری زبان رومن کے بڑھتے ہوئے استعمال سے غلط طریقے سے متاثر ہوتی جا رہی تھی۔ انٹر نیٹ اور موبائل کے ارتقاء کے ساتھ جب اردو والوں نے ان آلات کو اپنایا تو اپنی زبان میں استعمال کرنے کی فطری خواہش کے باعث انہوں نے اردو رسم الخط پر سمجھوتا کرنا چاہا کہ جب اردو زبان اردو تحریر کی طرح نہیں لکھی جا سکتی (کم از کم بیسویں صدی تک) تو اسے رومن حروف میں ہی لکھا جائے۔ چنانچہ ہمارا خواب (اور میں ’ہمارا‘ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بھی اس کے بانیوں میں شمار کرتا ہوں، اگرچہ اردو محفل کے قیام کی تکنیکیات سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا) محض یہی تھا کہ اردو یونی کوڈ جو اس وقت تک ابتدائی مراحل میں تھا، اس کا رواج عام کیا جائے۔ اس کے لئے ایسا ایڈیٹر فراہم کرنا جو انگریزی حروف کو ہی یونیکوڈ میں تبدیل کرتے ہوئے اردو حروف کو سکرین پر دکھائے اور ٹائپ کرنے والوں کو اردو زبان کو اس کے اپنے حروف میں تحریر کر پانے کے لئے فخر و انبساط عطا کرے۔
اتفاق سے اردو زبان ہی ہمیشہ اتنی مہذب رہی ہے کہ اردو زبان کی ترقی کو اردو شعر و ادب کی ترقی بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اردو محفل کو اردو تہذیب کی محفل بھی کہا گیا ہے۔ اور اپنی ابتدا سے ہی اردو محفل اور شعر و ادب ہم معنی سمجھی جانے لگے۔ یہ پہلا سوشل میڈیا تھا اردو والوں کے لئے، فیس بک اور وہاٹس ایپ وغیرہ تو بعد میں سامنے آئے۔ اردو محفل کے ارکان اتفاق سے شروع سے ہی اتنے مہذب رہے کہ آج کل کے دوسرے سوشل میڈیا کی طرح ’غیر معیاریت‘ یہاں کبھی قبول نہیں کی گئی۔ اگر کسی نے کوئی ایسی تخلیق پیش کر بھی دی تو فیس بک کی طرح اس پر داد کے ڈونگرے نہیں برسائے گئے بلکہ مناسب انداز میں مشورے دئے گئے اور تخلیق کی اصلاح کی گئی۔
یہی معیار بندی اردو محفل کی خصوصیت رہی ہے اور اب اسی معیار بندی کے اصولوں کے تحت ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک شعری تخلیق ہر ماہ پیش کی جائے گی، اور دوسرے اراکین اس پر تنقیدی رائے پیش کریں گے اور مفید مشوروں سے نوازیں گے۔ محض پسندیدگی یا نا پسندیدگی قبول نہیں کی جائے گی۔
اس تنقیدی محاکمے کے سلسلے کو اردو محفل کی ہر دلعزیز رکن جاسمن آگے بڑھائیں گی، وہی اس کی ماڈریٹر بھی ہوں گی اور اینکر بھی۔ امید ہے کہ ہر اچھے سلسلے کی طرح اس تنقیدی سلسلے کو بھی بطریق احسن چلایا جائے گا۔ مزید معلومات اور طریقۂ کار کے لئے میں جاسمن کو پھر دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس سلسلے میں مزید معلومات دیں، اگر کچھ باقی ہو تو۔
سب اہل قلم کی تخلیقات کا انتظار ہے
 

جاسمن

لائبریرین
جی استادِ محترم! میرا خیال ہے کہ تقریباً سب کچھ ہی بتا دیا گیا ہے۔ کچھ میں نے اور بہت کچھ آپ نے۔ :)
اب محفل کے شعراء کرام کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی شعری تخلیقات مجھے ذاتی مکالمے میں بھیجیں تاکہ ہم اس فورم کا آغاز کر سکیں۔
 
آخری تدوین:

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
آپ نہایت مفید سلسلہ شروع کرنے جا رہی ہیں میری دعا ہے کہ یہ سلسلہ اپنے مقصد کو بخوبی پورا کرتا رہے۔
اور ایک درخواست بھی ہے اور ایک حقیر سا مشورہ بھی، وہ یہ کہ اگر ایسا ہی سلسلہ نثر نگاری کے لیے بھی شروع کیا جائے تو ہمارے ہاں اچھے اچھے نثر نگار موجود ہیں جن کی نگارشات کو بھی تنقیدی نظر سے گزارا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مختلف فورمز اور مشاعروں میں "شعر" تو بہرحال پڑھا اور سنا جاتا ہے لیکن نثر کو بہت حد تک نظرانداز کیا جاتا ہے۔ شاید کوئی ایسی صورت نکلے جو نثر سے دور ہوتے ہوئے لوگوں کے لیے دلچسپی اور مقصدیت کے معیار پر پورا اتر سکے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
شعر ی تنقید کا عمل یوں تو اصلاح سخن میں بھی چلا آریا تھا لیکن ان تنقیدی نشستوں میں تخلیقات کو منظم انداز میں پیش کیا جائے گا جس کے لیے نشست کی میزبان محترمہ جاسمن نے کچھ اصول و ضوابط وضع کیے ہیں ۔ محض امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ نشست شائستہ اور مثبت انداز میں ادبی اقدار کو فروغ دے گی اور اشتراک کرنے والے محفلین وضع کردہ ضوابط کی پاسداری بدرجہء اتم کریں گے اور اس طرح سوشل میڈیا کے لگائے ہوئے انباروں سے ممتاز ایک معیاری نشست سامنے آئے گی ۔
جاسمن سے گزارش ہے کہ دھاگے پر تنقید سے متعلق ٹیگ آویزاں کر دیں تا کہ یاد داشتی حوالہ جات کے لیے سہولت سے رجوع کیا جا سکے ۔
 

یاسر شاہ

محفلین
ماشاء اللہ جاسمن بہن نہایت اہم اور بہت ضروری سلسلہ شروع کیا ہے۔میں اس میں ان شاء اللہ بساط بھر اوربھرپور شرکت کروں گا ۔
یادش بخیر ،میری اردو محفل میں آمد کا سبب بھی ایک ایسا ہی سلسلہ تھا جس میں یعقوب آسی مرحوم نے اپنی غزل برائے نقد و نظر پیش کر رکھی تھی اور میں نے وہیں اپنا پہلا مراسلہ داغ دیا۔یعنی آغاز ہی مرحوم کی غزل پر تنقید سے کیا ،اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے اور ان کی بے حساب مغفرت فرمائے۔آمین ۔
سرور صاحب بھی اردو انجمن میں رسمی واہ واہ سے بیزار ہو کر تنقید کی ترغیب دیا کرتے تھے اور اپنی غزل پیش کر کے بے لاگ لکھنے پہ ابھارتے،یوں تنقید کا مجھ میں بھی ذوق پیدا ہوا۔
جینین آرٹسٹ ہمیشہ تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں اور مجھ جیسے جگاڑو چاہتے ہیں کہ بس داد ہی بٹوری جائے خواہ اخلاقی ڈراما پیش کر کے ہی کیوں نہ ہو۔حالانکہ ادب ایک الگ آرٹ ہے اور ڈراما ایک الگ آرٹ۔

ویسے جاسمن بہن اردو آپ کی غضب ہوتی جا رہی ہے۔متاثر کن ماشاء اللہ۔
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
پہلے شعری اور نثری دونوں فن پاروں کے لیے الگ الگ یا ایک ہی فورم شروع کرنے کا ارادہ تھا لیکن پھر سوچا کہ میں ہوئی ادب میں طفل مکتب۔۔۔ تو بہتر ہے کہ پہلے ایک فورم تشکیل پاجائے۔ کچھ عرصے بعد ان شاءاللہ نثری فن پاروں کے لیے بھی فورم شروع کریں گے۔
آپ سب ادب سے وابسطہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ۔:)
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
محترمہ صابرہ امین صاحبہ کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ اپنی غزل اس فورم میں تنقید و تبصرے کے لیے پیش کریں۔
میرے خیال میں، اگر تو آپ معزز مدیران کے اختیار میں ہے تو ٹھیک، نہیں تو ناظم صاحب سے درخواست کر کے بزم سخن میں تنقید کے حوالے سے ایک الگ زمرہ بنوایا جائے تاکہ تنقیدی جائزے کے لیے بنائی گئی تمام لڑیاں وہیں پر موجود رہیں اور کسی کو بھی انہیں ڈھونڈنے یا ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے آسانی ہو ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یہ دھاگا شروع کرنے کے لیے محبانِ شاعری پر خواہرم جاسمن کا شکریہ واجب ہے۔ شعری تنقیدی نشست اردو شاعری کی ایک دیرینہ اور اہم روایت رہی ہے۔ دعا ہے کہ اس مرتی ہوئی روایت کو زندہ کرنے کی یہ کوشش بارآور ہو۔ اردو شعر و ادب کے ایک طالب علم اور قاری کی حیثیت سے مجھے اس تنقیدی نشست میں شامل سمجھیے۔ بس چائے کا ایک دور چلتا رہے۔ اگر پیچوان کا انتظام کرسکیں تو میں یہیں آرام کرسی ڈال کر بیٹھ جاؤں گا۔ :)
مزاح برطرف ، اتنا مفید اور تسکین بخش سلسلہ شروع کرنے پر آپ کا بیحد شکریہ!
 

جاسمن

لائبریرین
یہ دھاگا شروع کرنے کے لیے محبانِ شاعری پر خواہرم جاسمن کا شکریہ واجب ہے۔ شعری تنقیدی نشست اردو شاعری کی ایک دیرینہ اور اہم روایت رہی ہے۔ دعا ہے کہ اس مرتی ہوئی روایت کو زندہ کرنے کی یہ کوشش بارآور ہو۔ اردو شعر و ادب کے ایک طالب علم اور قاری کی حیثیت سے مجھے اس تنقیدی نشست میں شامل سمجھیے۔ بس چائے کا ایک دور چلتا رہے۔ اگر پیچوان کا انتظام کرسکیں تو میں یہیں آرام کرسی ڈال کر بیٹھ جاؤں گا۔ :)
مزاح برطرف ، اتنا مفید اور تسکین بخش سلسلہ شروع کرنے پر آپ کا بیحد شکریہ!
شاباش ہے بھئی! ہم تو بطور استاد آپ کو دعوت دینے والے تھے اور آپ بطور طالب علم اور قاری کے آ رہے ہیں۔ نہ جی نہ۔
چائے بھی ملتی رہی گی۔۔۔ پیچوان کا انتظام بھی ہے۔۔ اور یہاں فرشی نشست ہے محترم استاد صاحب! البتہ گاؤ تکیہ رکھوا دیتے ہیں ایک اور۔ :):):)
 

صابرہ امین

لائبریرین
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
محترمہ صابرہ امین صاحبہ کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ اپنی غزل اس فورم میں تنقید و تبصرے کے لیے پیش کریں۔
بہت شکریہ، نوازش۔ جیسے ہی یہ دھاگا کھلا اور میری نظر اس پر پڑی، تو پہلا کام جاسمن بہن سے مکالمے کے ذریعے رابطہ کیا-شاعری کے فکری اور موضوعاتی پہلوؤں پر بات چیت اور اصلاحی تنقید نے سیکھنے کے جذبے اور خواہش کو اور بڑھا دیا ہے۔ اسی جذبے کے تحت اپنی ایک غزل پیش کرنے کی جسارت کرتی ہوں اس امید کے ساتھ کہ شاعری کے حوالے سےاللہ میرے ذہن کی تمام گرہیں کھول دیں اور شاعری میرے لیے آسان بنا دیں۔ آمین

تو آپ سب معزز ین کے لیے یہ غزل حاضر ہے ۔ یہ اصلاحِ سخن سے ہو کر اس قابل ہوئی ہے کہ آپ کے سامنے پیش کر سکوں تاکہ آپ کی تنقید، بات چیت میری شاعری کے فکری خامیوں کا بھی احاطہ کر سکے۔ آپ کی گراں قدر رہنمائی کی منتظر ہوں۔

دردِ ہجراں سے جو سینے میں سسکتی ہے غزل
صورتِ اشک اِن آنکھوں سے ٹپکتی ہے غزل

مرے اشکوں کا سمندر بھی بجھا سکتا نہیں
آتشِ ہجر میں پیہم جو دہکتی ہے غزل

بیتے لمحات کی بارات گذرتی ہو کہیں
ایسے یادوں کے دریچوں سے جھلکتی ہے غزل

اس محبت میں جدائی کے عذابوں کو لیے
خوف کے سائے میں ہر شام ٹھٹھکتی ہے غزل

جس طرح روئے کوئی طفل کھلونے کے لئے
ایسے ناکامیِ الفت پہ بلکتی ہے غزل

دل کے تاروں سے نکلتے ہیں وہ نغمے جن پر
عشق کی راہوں میں بےباک تھرکتی ہے غزل

جیسے جذبات دھڑکتے ہوں مرے دل میں کہیں
یوں شبستان میں بے تاب دھڑکتی ہے غزل

عشق کی مے سے ہے لبریز مرا سارا وجود
بن پئے میرے رگ و پے میں بہکتی ہے غزل
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
صابرہ امین ، اس تنقیدی نشست میں اپنی غزل نظر نواز کرنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ! امید ہے کہ آپ نے ایک موٹا سا ہیلمٹ سر پر ضرور پہن رکھا ہوگا۔ :) مجھے نہیں معلوم کہ آپ کو پہلے کسی تنقیدی نشست میں شرکت کا موقع ملا ہے یا نہیں ۔ لیکن پھر بھی میں افادۂ عام کے لیے ایک دو عمومی نکات گوش گزار کرنا چاہوں گا۔
اگرچہ تنقیدی گفتگو آپ کی غزل کے اشعار پر ہوگی لیکن اس گفتگو کا مقصد زیرِ بحث اشعار کے توسط سے دیگر قلمکاروں کے لیے شاعری کے مختلف فنی اور فکری پہلوؤں پر سوالات کو اٹھانا ، تکنیکی نکات کو واضح کرنا اور تعمیری تجاویز کو سامنے لانا ہے۔ امید ہے کہ آپ تلخ و شیریں تمام تبصرہ جات اور مکالمات کو مثبت انداز میں لیں گی اور مناسب انداز میں اپنے شعری نقطۂ نظر اور تخلیقی پس منظر کو بھی واضح کریں گے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ایسی تنقیدی نشستوں میں شاعر کو ہر قسم کے تبصرے اور ہر زاویے سے رائے زنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ شاعر کے لیے ان تمام آرا کو سننا اور سمجھنا ضروری ہے لیکن ہر رائے اور تبصرے سے متفق ہونا یا نہ ہونا لازم نہیں ۔ کسی تجویز کو ماننا یا رد کرنا شاعر کی اپنی صوابدید پر ہے اور اپنی تخلیق میں کسی بھی قسم کا رد و بدل کرنا یا نہ کرنا اس کا ذاتی حق ہے۔ اسی طرح اپنے نقطۂ نظر کا دفاع کرنا بھی شاعر کا بنیادی حق ہے اور مثبت مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں جہاں مناسب ہو شاعر اپنے جوابی دلائل سے گفتگو کو آگے بڑھائے ۔

اس تمہید کے بعد میں سب سے پہلے میں مطلع پر اظہارِ خیال کی جسارت کروں گا۔ اس غزل کی زمین بتارہی ہے کہ ان اشعار میں آپ اپنی سخن گوئی کے محرکات اور اس میں پوشیدہ امکانات پر بات کریں گی۔ آپ کے نزدیک سخن کیا ہے اور کن جذبات و احساسات کی نمائندگی کرتا ہے اس بارے میں اشعار سامنے آئیں گے۔ اگرچہ قافیہ تنگ ہے لیکن مجموعی طور پر یہ اچھی زمین ہے اور اس میں اچھے شعر کے امکانات ہیں۔

دردِ ہجراں سے جو سینے میں سسکتی ہے غزل
صورتِ اشک اِن آنکھوں سے ٹپکتی ہے غزل

مطلع پڑھ کر ایک بات جو فوراً سامنے آتی ہے وہ یہ کہ یہاں شعر گوئی کا محرک دردِ ہجراں کو بتایا گیا ہے۔ دوسرا مصرع خوبصورت ہے لیکن مصرعِ اول میں خیال کو محدود کردیا گیا ہے۔ شعر گوئی کا محرک صرف ہجر ہی کیوں؟!
ہجر کے علاوہ بھی تو ایسے حالات ہوسکتے ہیں کہ شاعر اظہارِ خیال نہ کرسکتا ہو اور اس کے احساسات اندر ہی اندر گھٹ رہے ہوں ۔ اور اس کے پاس صرف بے بسی کے آنسو ہی اظہارِ جذبات کا ذریعہ رہ گئے ہوں ۔ میری ناقص رائے میں شاعر ( اور قاری) کے لیے ایسی کسی صورتحال کا پیش آنا ہجر کی نسبت زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ شعری خیال کو وسعت دینے کی خاطر اگر مصرعِ اول کو ہجر کی محدودیت سے باہر نکال لیا جائے تو بہتر ہوگا۔
دلِ مجبور میں چپ چاپ سسکتی ہے غزل
۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔
دلِ مجبور میں خاموش سسکتی ہے غزل
ایسا کہنے سے محدودیت ختم ہوجاتی ہے اور مصرع ایک عام کیفیت کو بیان کرتا ہے جو بہت سارے قارئین کے لیے حسبِ حال ہوسکتی ہے اور یوں دوسرے مصرع سے مل کر یہ شعر اپنے تاثر میں ہمہ گیر ہوجاتا ہے۔

باقی اشعار پر تبصرہ بشرِ فرصت ۔ اگلے چار ہفتوں تک ہیلمٹ مت اتاریئے گا۔ :)
 

جاسمن

لائبریرین
مرحوم یعقوب آسی صاحب یاد آ گئے۔ کمال استاد تھے۔ پنجابی میں بھی اس طرح کی روایت شروع کی جا سکتی تھی، وہ اگر ہوتے۔
اللہ جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ آمین!
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اردو غزل پر ایک الزام جو اکثر لگایا جاتا ہے وہ یہ کہ یہ غم و حزن کی شاعری ہے۔ اس پر یاسیت اور اداسی کی ایک کیفیت طاری رہتی ہے۔ مایوسی اور گریزپائی جابجا نظر آتے ہیں۔ صابرہ امین صاحبہ ، آپ کی اس زیرِ بحث غزل کو دیکھا جائے تو شروع کے کئی اشعار انہی کیفیات اور تاثرات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ کے ذاتی تجربے میں وہ کون سی کیفیات اور احساسات ہیں کہ جن کے خمیر سے سخن گوئی کی تحریک اٹھتی ہے؟ اور شاعر اس تحریکِ کو ایک سمت دینے پر کس حد تک اختیار رکھتا ہے؟ کیا غم و حزن کی شاعری بذاتِ خود رد کیے جانے کے قابل ہے یا ادب کے منظر نامے پر اس کی کوئی جگہ بنتی ہے؟ امید ہے کہ میں اپنے سوالات واضح طور پر بیان کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں۔ پھر بھی کوئی سوال وضاحت طلب ہو تو میں حاضر ہوں۔آپ کو جب وقت اور فرصت ملے تو ان نکات پر اپنی آرا شریکِ محفل کیجیے گا۔آپ اپنے جوابات اس غزل کے پس منظر میں یا اس سے ہٹ کر بھی دینا چاہیں تو مناسب ہوگا۔
دیگر شرکائے محفل سے بھی اظہارِ خیال کی استدعا ہے ۔
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
کیا غم و حزن کی شاعری بذاتِ خود رد کیے جانے کے قابل ہے یا ادب کے منظر نامے پر اس کی کوئی جگہ بنتی ہے؟
غم و حزن کی شاعری بالکل بھی رد کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ غم کا احساس، چاہے وہ غم ہستی ہو یا غم دنیا، انسانی زندگی کا لازمی جزو ہے۔ ان احساسات کا شعری و نثری سطح پر اظہار ہر بڑے شاعر و ادیب کے ہاں مل جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ شاعر و ادیب ہمہ وقت اسی ایک کیفیت کا اظہار کرتا رہے وگرنہ قنوطیت کا رنگ گہرا ہو جائے گا۔

چچا غالب کا ایک شعر یاد آ گیا۔
غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
دیگر شرکائے محفل سے بھی اظہارِ خیال کی استدعا ہے ۔
غزل کا موضوعاتی احاطہ
غزل اور اردو غزل کے موضوع پر اتنا سوچا سمجھا لکھا اور پڑھا جا چکا ہے کہ اب ہمیں اس کے موضوعاتی احاطے پر کچھ کہنا اور زیر بحث لانا اتنا اہم سا معلوم ہوتا ہے ۔ اردو غزل کی ابتدائی شکلوں میں تو شعراء کی توجہ کا مرکز انہی مثالی تغزلی درد و سرور ،غم و انبساط فراق و وصال اور عشق و رقابت کے پہلؤوں تک رہا ۔ اس ماحول میں البتہ عشق حقیقی اور متصوفانہ شاعری کے موضوعات بھی غزل کے ساتھ آفاقی مضامین کا احاطہ کرتی رہی لیکن بنیادی اور مرکزی حیثیت ان روایتوں تک رہی جو عشق مجازی سے وابستہ تھیں ۔ چنانچہ میر ، سودا ، درد وغیرہ جیسے اساتذہ کے ساتھ ساتھ مصحفی انشا آتش ناسخ وغیرہ ان روایتوں کے ستون نظر آتے ہیں ۔

وقت کے ساتھ ساتھ زبان کا لہجہ جو اببھی کسی حد تک تک زیر تعمیر تھا پختہ اور مستحکم ہوتا گیا ۔ اس دور میں سر سید حالی شبلی اور اردو شاعری کے لیے جدید معیاری اسلوب واضح ہوتا گیا ۔مرور ایام کے ہاتھوں عمرانی اور سیاسی عوامل کے تحت بدلتے ہوئے احوال کے زیر اثر جہاں مجموعی ادب نے مختلف مزاحمتی اور ترقی پسند اور دیگر تحریکوں کا اثر قبول کیا وہاں کسی شاعر کے لیے ممکن نہ تھا کہ قلم کے ہاتھوں میں موجود روایتوں کی امانت کے باوجود ان کیفیات کے نفوذ و انجذاب سے اپنے آپ کو باز رکھ پاتا۔ اس دور میں مومنو ذوق کے زبان و بیان کے ساتھ غالب اکبر کی غزلیات میں جدت اور انفرادیت نظر آتی ہے ۔

معاشروں میں برپا ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے دوران جدیدیت کے سائے میں ادب برائے ادب ، ادب برائے زندگی اور اس طرح کی بحثوں نے جنم لیا جو دیگر زبانوں کے ترجموں اور ان زبانوں کی ثقافتی رنگ لے کر اردو ادب کا حصہ بنی، تو رفتہ رفتہ رو نما ہوتی اس طرح کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ شاعر کے لیے نیا میدان سامنے آتا گیا اور روایتی عشقیہ داستانوں میں ان جدتوں کے اثرات کا عکس بھی جھلکنے لگا۔ اس طرح شاعری میں جو غزل کبھی مذکورہ کیفیات اور بیانات تک مقید رہی اب ہمہ گیر معاشرتی تنوع سے روشناس ہوتی گئی اور دیگر اصناف شعر کی مانند ان ہمہ جہت موضوعات کا احاطہ کرنے لگی ۔


غزل کی صنف اس طویل سفر طے کرنے کے بعد اب زندگی کی تمام ذاتی اور اجتماعی اقدار کی عکاس بن چکی ہے ۔اردو غزل میں البتہ سب سے نمایاں خوبی اور اور خامی یہ ہے یہ اس میں شاعر کے پاس اپنے تخیل کو اس کی نزاکت کے ساتھ رعایتِ لفظی کے تقاضوں اور اسلوب و بیان کی تاثیر سے مزین کرنے میں محض دو مصرعوں کی قید ہو تی ہے،اور اس پر طرہ یہ کہ عروضی حد میں ردیف قافیوں کا بوجھ بھی سہارنا پڑتا ہے ۔ یوں شاعر کے اوپر ان تمام عناصر کو اپنے خیال سے موافق رکھنا یقینا ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔
 
آخری تدوین:
Top