استاد اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی اردو شاعری

سید ذیشان

محفلین
کل کو یہ آپشن بھی شامل ہو سکتی ہے کہ فلاں موضوع پر فلاں شاعر جیسا کلام لکھ دو۔

یہ کام تو کر سکتا ہے، لیکن خاص کامیابی کیساتھ نہیں۔

Write a poem on Tiger in the style of William Blake
2 / 2
Once upon a time, in a jungle so wild
Lived a tiger, fierce and mild
With stripes of orange and black
He roamed the land, with a fierce attack
His roar could be heard far and wide
As he prowled the forest, with graceful stride
A symbol of power and might
The tiger stood tall, with all his might
But sadly, his days were numbered
As man encroached on his land, his freedom encumbered
Now he must fight for his survival
Against the forces of man, and their brutal rival
But still he stands, majestic and bold
A reminder of the wild, never to be tamed or controlled
Oh, tiger of the jungle, you are a sight to behold
Your strength and grace, a story to be told
May your spirit never be broken
For you are the king of the
jungle, unspoken.

اب اگر اصل نظم کو دیکھیں، تو فرق صاف ظاہر ہوتا ہے:

WILLIAM BLAKE
Tyger Tyger, burning bright,
In the forests of the night;
What immortal hand or eye,
Could frame thy fearful symmetry?

In what distant deeps or skies.
Burnt the fire of thine eyes?
On what wings dare he aspire?
What the hand, dare seize the fire?

And what shoulder, & what art,
Could twist the sinews of thy heart?
And when thy heart began to beat.
What dread hand? & what dread feet?

What the hammer? what the chain,
In what furnace was thy brain?
What the anvil? what dread grasp.
Dare its deadly terrors clasp?

When the stars threw down their spears
And water'd heaven with their tears:
Did he smile his work to see?
Did he who made the Lamb make thee?

Tyger Tyger burning bright,
In the forests of the night:
What immortal hand or eye,
Dare frame thy fearful symmetry?
 
آخری تدوین:

نبیل

تکنیکی معاون
چیٹ جی پی ٹی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال اس کا استعمال مفت ہے۔ بعد میں یقینا اسے سبسکرپشن ماڈل پر منتقل کر دیا جائے گا۔ اردو کے لیے ابھی یہ فی الحال کارآمد نہیں ہے۔ اس کےساتھ اردو میں بات چیت ابھی طنز و مزاح کی لڑیوں میں پیش کیے جانے کے قابل ہی ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر چیٹ جی پی ٹی کو استعمال کرکے اس کے نتائج کو فورم پر ضرور شئیر کیا جانا چاہیے۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میں نے شاعری کے بجائے کچھ اور تجربہ کیا: نتیجہ درج ذیل ہے:
ترجمہ کریں انگریزی میں حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . ¤ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا ابْنُ بَزِيعٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى .


"Abdullah ibn Umar al-Saffar al-Tustari narrated to us that Yahya ibn Ghaylan narrated to us that Abdullah ibn Bazee' narrated to us that Yahya ibn Sa'eed al-Ansari narrated to us that Sa'eed ibn al-Musayyib narrated to us that Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) said: 'Whoever swears falsely on an oath to take away the property of a Muslim will meet Allah on the Day of Judgment with His wrath upon him.' This hadith was narrated by Yahya ibn Bazee' and was only narrated by Yahya."

translate in urdu حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . ¤ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا ابْنُ بَزِيعٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى .

"عبد اللہ بن عمر الصفار التستری سے حدیث ہے کہ یحیی بن غیلان سے حدیث ہے کہ عبد اللہ بن بزیع سے حدیث ہے کہ یحیی بن سعید الأنصاری سے حدیث ہے کہ سعید بن مسیب سے حدیث ہے کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کہا: جو شخص جھوٹے یمین پر حلف کرتا ہے تاکہ مسلمان کے مال کو لے لے کر اللہ تعالیٰ کے دینے کے دن اس پر غضب رہے ہوں گے۔ یحیی بن بزیع نے یہ حدیث نے نہیں سنی ہے بلکہ یحیی نے اسے ہی احاطہ کیا ہے

انگریزی کا نتیجہ تقریباً 95٪ درست ہے جبکہ اردو میں 70٪ درست ہے۔ جبکہ ملاحظہ کریں کہ تحریر میں اعراب لگے ہوئے ہیں اس کے باوجود درستگی کا معیار حیرت انگیر ہے۔
میں نے یہ عربی عبارت گوگل ٹرانسلیٹ پر ڈالی تو یہ نتیجہ نکلا:

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ جھوٹی قسم کھانے سے مسلمان کے مال میں کٹوتی کرنے والا قیامت کے دن خدا سے اس وقت ملے گا جب وہ اس سے ناراض ہو گا۔ ¤ اسے یحییٰ کی سند سے ابن باز کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور اسے اکیلے یحییٰ نے روایت کیا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ A person who detracts from a Muslim's wealth by swearing falsely will meet God on the Day of Judgment when He is displeased with him. ¤ No one narrated it on the authority of Yahya except Ibn Baz and it was narrated by Yahya alone.

کیا اس بات سے یہ مطلب نکالا جائے کہ اے آئی عربی سے اردو اور انگریزی ترجمے کے لیے گوگل ٹرانسلیٹ کے علاوہ کوئی اور ذریعہ استعمال کرتا ہے؟ لگتا ہے گوگل ٹرانسلیٹ کو عربی نام ترجمہ کرنے میں دقت ہورہی ہے۔
 

سروش

محفلین

جی میل کے خالق ڈیولپر نے گوگل سرچ انجن کی اجارہ داری کے خاتمے کا عندیہ دے دیا​



فوٹو:فائل
فوٹو:فائل

جی میل بنانے والے ڈیولپر پاؤل بوہائیٹ (Paul Buchheit) نے کہا ہے کہ گوگل کے سرچ انجن کی جگہ لینے کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرنے والے چیٹ بوٹ (Chatbot) آنے کے بعد گوگل کے پاس مکمل خاتمے (Total Disruption) سے قبل شاید باقی دو تین سال رہ گئے ہیں۔
309252_9725260_updates.jpg


گوگل کی جی میل کی تخلیق کار ڈیولپر پاؤل بوہائیٹ کا خیال ہے کہ گوگل سرچ انجنز کی اجارہ داری جلد ٹوٹتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سرچ انجن کے نتائج والے صفحات کو ہی ختم کر دے گی جہاں سے سرچ انجنز پیسے بناتے ہیں۔
پاؤل بوہائیٹ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ اگرچہ یہ لوگ بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام کر رہے ہیں لیکن یہ اپنے کاروبار کے اہم ترین جزو کو پوری طرح تباہ کر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو لاگو نہیں کرسکیں گے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ شاید گوگل سرچ انجن اپنے خاتمے سے دو تین سال دور ہے، گوگل کی کمائی کا اہم ذریعہ اس کی ایڈورٹائزمنٹ ہیں جہاں ایڈورٹائزر سرچ انجن رزلٹ کے صفحات پر اپنی ایڈورٹائزمنٹ چھاپنے کیلئے اس امید پر ادائگی کرتے ہیں کہ صارفین ان کے لنک پر کلک کریں گے۔
پاؤل بوہائیٹ نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پرانے سرچ انجنز اور لکنس کو استعمال کرکے صارفین کے سامنے نتائج ظاہر کرے گی، یہ بلکل ایسا ہی ہے جیسے کسی تحقیقدان انسان سے کام لیا جائے، تاہم آرٹیفیشل انٹیلیجنس وہ کام کسی انسان کے مقابلے میں بہت تیزی سے کر لے گی۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو ایک بات یاد ہوگی کہ انٹرنیٹ سے قبل ییلو پیجز ہوا کرتے تھے جسے گوگل نے قتل کر دیا تھا، ایک زمانے میں ییلو پیجز ایک بہت بڑا کاروبار ہوا کرتے تھے لیکن بعد میں گوگل سب کیلئے ایک بہترین ذریعہ بن گیا جس کے بعد لوگوں نے ییلو پیجز کا استعمال ترک کردیا تھا، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بلکل یہی کام گوگل سرچ انجن کے ساتھ کرنے جا رہی ہے۔
جی میل کے خالق ڈیولپر پاؤل بوہائیٹ نے کہا کہ گوگل خود بھی اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر کام کر رہا ہے اور کمپنی کی جانب سے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی سے کنورزیشنل اور وائیس سرچ کیلئے ڈیپ مائینڈ ٹیکنالاجی کی خریداری عمل میں لائی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تو مسلسل اسی بارے میں سوچ رہا ہوں اور سب سے دلچسپ بات یہ دیکھنا ہوگی کہ یہ سب کچھ کس طرح ہوگا ہے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کس طرح سرچ انجنز کا باب بند کرتی ہے اور سوچ رہا ہوں کہ سرچ انجنز کی جگہ سرچنگ کیلئے کیا کوئی بلکل ہی نیا انٹرفیس آتا ہے یا کچھ اور چیز سامنے آنے والی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےایلون مسک کی کمپنی اوپن اے آی (OpenAI) کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کا اجراء کیا گیا جو کہ صارفین کی جانب سے دی گئی تحریری ہدایات پر عمل کرتا ہے، اس سے مضمون لکھوایا جا سکتا ہے، گانوں کے بول، کہانیاں، مارکیٹنگ پچز، اسکرپٹ خطوط یہاں تک کہ شاعری بھی لکھوائی جا سکتی ہے۔
چیٹ جی پی ٹی کی پیچیدہ سوالات حل کرنے کی صلاحیت اسے سرچ انجن سے منفرد بنا دیتی ہے اور وہ گوگل کی سرچ انجن کی اجارہ داری کو چیلینج کر سکتی ہے۔

بشکریہ جیو نیوز
 
استاد اے آئی کی درد کے موضوع پر ایک دردناک نظم

درد ہے سر سے آزار
جگر کی بیداد سے ڈوبا ہے
دولت کی درد کے احساس
جب ہوتی ہے تو سخت نہیں ہوتا

درد کی یہ وجع کیوں ہوتی ہے
جہاں بھی جاتا ہے وہ ہر جگہ ہوتی ہے
جب بھی ہوتی ہے تو سخت ہوتی ہے
دل کی درد ہے جو دماغ کے پاس ہوتی ہے

درد سے نجات کی سرگرمی ہے
دوا کی سہارا جو ہے اس سے نجات
جب بھی ہوتی ہے تو دوا کی ضرورت
درد سے نجات کی جدوجہد ہے

درد کے احساس کیوں ہوتے ہیں
جب بھی ہوتی ہے تو اداس ہوتی ہے
درد کے احساس کیوں دیکھتے ہیں
جب بھی ہوتی ہے تو درد کے چیزیں ہوتی ہیں

درد کی وجع ہے یہ کیوں
درد کے احساس کیوں ہوتی ہیں
جب بھی ہوتی ہے تو یہ درد کی وجع
درد کی وجع کیوں ہوتی ہے
درد
 

سروش

محفلین
محمد تابش صدیقی بھائی اس موضوع پر ایک سنجیدہ لڑی بھی بنا دیجئے تاکہ وہاں اس کے سنجیدہ نتائج اور مستقبل کی ڈیولپنمنٹ کے حوالے سے بات چیت ہوسکے جیسا کہ اوپر نبیل بھائی نے کہا۔
 

زیک

مسافر
اگر یہ اے آئی زیادہ تر مواد فیسبک سے اٹھارہا ہے تو ظاہر ہے وربلزم ہی نظر آئے گا۔ تو گویا اے آئی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ اردو کلاسیکی ادب کو یونیکوڈ میں منتقل کیا جائے ۔
انگریزی میں مواد کافی ہے اور انٹرنیٹ کے علاوہ بھی گوگل کے پاس کتب سکین موجود ہیں۔ لیکن وہاں بھی یہ اے آئی ایسا لگتا ہے کہ نیا نیا کالج سٹوڈنٹ ہے جس نے کچھ کچھ پڑھ لیا ہے لیکن سمجھا کم ہی ہے۔ سطحی طور پر درست لیکن سمجھ صحیح نہیں۔ یہ اے آئی کے لیئے ایک دلچسپ صورتحال ہے۔
 

سید ذیشان

محفلین
انگریزی میں مواد کافی ہے اور انٹرنیٹ کے علاوہ بھی گوگل کے پاس کتب سکین موجود ہیں۔ لیکن وہاں بھی یہ اے آئی ایسا لگتا ہے کہ نیا نیا کالج سٹوڈنٹ ہے جس نے کچھ کچھ پڑھ لیا ہے لیکن سمجھا کم ہی ہے۔ سطحی طور پر درست لیکن سمجھ صحیح نہیں۔ یہ اے آئی کے لیئے ایک دلچسپ صورتحال ہے۔
لیکن جس کانفیڈنس سے جواب دیتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے جیسے علامہ ہو۔
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
استاد اے آئی کی درد کے موضوع پر ایک دردناک نظم

درد ہے سر سے آزار
جگر کی بیداد سے ڈوبا ہے
دولت کی درد کے احساس
جب ہوتی ہے تو سخت نہیں ہوتا

درد کی یہ وجع کیوں ہوتی ہے
جہاں بھی جاتا ہے وہ ہر جگہ ہوتی ہے
جب بھی ہوتی ہے تو سخت ہوتی ہے
دل کی درد ہے جو دماغ کے پاس ہوتی ہے

درد سے نجات کی سرگرمی ہے
دوا کی سہارا جو ہے اس سے نجات
جب بھی ہوتی ہے تو دوا کی ضرورت
درد سے نجات کی جدوجہد ہے

درد کے احساس کیوں ہوتے ہیں
جب بھی ہوتی ہے تو اداس ہوتی ہے
درد کے احساس کیوں دیکھتے ہیں
جب بھی ہوتی ہے تو درد کے چیزیں ہوتی ہیں

درد کی وجع ہے یہ کیوں
درد کے احساس کیوں ہوتی ہیں
جب بھی ہوتی ہے تو یہ درد کی وجع
درد کی وجع کیوں ہوتی ہے
درد
وجع عربی میں درد کو کہتے ہیں ۔ اردو میں جوڑوں کے درد کے لیے وجع المفاصل تو طبی کتب میں ملتا ہے لیکن مفرد وجع تو کہیں مستعمل نہیں ۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اے آئی نے یہ لفظ کہاں سے لیا ہوگا؟ کیا استاد اے آئی شاعری لکھتے وقت اردو اور عربی مواد دونوں سے بیک وقت استفادہ کررہا ہے؟!
 
وجع عربی میں درد کو کہتے ہیں ۔ اردو میں جوڑوں کے درد کے لیے وجع المفاصل تو طبی کتب میں ملتا ہے لیکن مفرد وجع تو کہیں مستعمل نہیں ۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اے آئی نے یہ لفظ کہاں سے لیا ہوگا؟ کیا استاد اے آئی شاعری لکھتے وقت اردو اور عربی مواد دونوں سے بیک وقت استفادہ کررہا ہے؟!
مجھے تو لگتا ہے کہ لفظ وجع اے آئی نے عربی سے نہیں بلکہ اردو سے ہی لیا۔ یعنی "وجہ" کو وجع کردیا۔ درد کی وجع یعنی وجہ۔ :) بہت سے علامے املا میں اس قسم کی غلطیاں کرتے ہیں۔ اگر واقعی گوگل کسی ذخیرہ سے الفاظ اٹھا رہا ہے تو ایسی غلطی قرین قیاس ہے۔
اس قسم کی املا کی بہت سی غلطیاں وائس ٹائپنگ میں نظر آتی ہیں، میں کئی ہزار صفحات وائس ٹائپ کرچکا ہوں اور ہر مرتبہ پروف درست کرتا ہوں لیکن بعض املائی غلطیاں جوں کی توں برقرار ہیں۔
اسی طرح گوگل بہت سے الفاظ کی غلط املا suggestion میں بھی دیتا ہے۔ واللہ اعلم
 

سید ذیشان

محفلین
میں نے اس سے پوچھا کہ چند مشہور اردو شاعروں کے نام لکھیں، تو جواب کچھ ایسا تھا:



ہم آپ کو چند مشہور اردو شاعروں کے نام دے رہے ہیں:

ولی انشاء اللہ
شاہد خان
رامت انجم
فیض احمد جمیل
ڈاکٹر فیض احمد احمدی
ابو بکر اشتر
شیخ بلال
محمد یحیٰ
گوہرشاہ
بہت سے دیگر مشہور اور عظیم شاعروں کی بھی نمونہ گئی ہے.
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
استاد اے آئی تو ایک مستقل لطیفہ گر ثابت ہورہے ہیں ۔ جب کبھی بوریت ہونے لگے تو استاد سے کوئی ٹیڑھا سا سوال پوچھ لیا جائے اور پھر جواب کے مزے لیے جائیں ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
میں اس وقت صرف محفل میں جھانکنے آیا تھا لیکن اس لڑی نے پکڑ لیا بلکہ جکڑ لیا۔ ایک دفعہ تو بس پڑھتا گیا اور ہنستا گیا اور حیران بھی ہوتا رہا۔ :)

پھر سوچا کہ لگے ہاتھ سب کو ریٹنگ ہی دے دی جائے تو پھر سب مراسلے پڑھے۔ :) :)
 

محمداحمد

لائبریرین
حیران کن نتائج ہیں۔ ابتدائی مراحل کو مدِ نظر رکھا جائے تو بھی پیشرفت بہت اچھی ہے۔

ایک زمانے مجھے ایک ایسی ایپلیکیشن سے واسطہ پڑھا تھا جو سوالوں کے جواب دیتی تھی۔ اس کا انٹرفیس کچھ ایسا تھا جیسے ڈوس پرومپٹ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اے آئی بیسڈ نہیں تھی۔ بلکہ فکس آپشنز تھے۔ اس میں عمومی سوالات کے اچھے جواب موجود تھے۔ اور غیر روایتی سوالوں کے لئے کچھ مخصوص جنرل ایکسپریشن تھے جو زیادہ تر صورتحال میں کھپتے محسوس ہوتے تھے۔ بار بار سوال ری فریز کرنے کا بھی کہتا رہتا تھا۔ بہرکیف اُس زمانے کے اعتبار سے دلچسپ چیز تھی۔
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ چیٹ جی ٹی پی اشعار کی تشریح تو کافی بہتر کر رہا ہے۔ لیکن کیا یہ اردو اشعار کی تشریح اردو میں نہیں کر سکتا؟

شاعری میں البتہ اسے وقت لگے گا اور ابھی تک تو یہ ہماری طرح محض قافیہ پیمائی بلکہ سطر بھرائی ہی کر رہا ہے۔ :) :)
 
Top