استاد اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی اردو شاعری

سید عاطف علی

لائبریرین
اس کے جواب میں استاد اے آئی کو کہنا چاہیے تھا: "بہت دور کی کوڑی لائے ہیں صاحب"
اس میں ایک بات یہ ہے کہ ہے کہ معیاری اور غیر معیاری مواد میں تمیز کے لیے جمہوریت پر انحصار کیا تو پھر نواز شریف اور زرداری کے معیار کا ادب برآمد ہو گا۔ :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ظہیر بھائی، اس وقت جب ہم یہ بات چیت کر رہے ہیں، بچے اپنا ہوم ورک اے آئی کے ذریعے کر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ :)
ذیشان ، درست کہہ رہے ہیں آپ ۔ پہلے ہالی وڈ کی فلموں میں جو مستقبل کے تصوراتی منظر دکھائے جاتے تھے ان میں سے کئی تو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے حقیقت بن گئے ہیں ۔ جیمز بانڈ کے ہتھیار اب عام دستیاب ہونے لگے ہیں ۔ :) ۔ لیکن یہ اے آئی بہت سارے مسائل پیدا کرے گی۔ مذہبی ، اخلاقی ، قانونی اور کئی قسم کے معاشرتی مسائل اور پیچیدگیاں اس کے ساتھ ساتھ پیدا ہوں گی۔ ڈر یہ ہے کہ اے آئی تو بہت تیزی کے ساتھ ترقی اور ترویج کے مراحل طے کرتی جائے گی لیکن اس کی پیدا کردہ پیچیدگیوں اور مسائل کا حل اتنی تیزی سے دریافت نہیں ہوسکے گا۔ سو آنے والی نسلوں کو بہت سارے امتحانات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
 

سید ذیشان

محفلین
اس میں ایک بات یہ ہے کہ ہے کہ معیاری اور غیر معیاری مواد میں تمیز کے لیے جمہوریت پر انحصار کیا تو پھر نواز شریف اور زرداری کے معیار کا ادب برآمد ہو گا۔ :)
یہ stochastic process پر مبنی الگورتھم ہے۔ یعنی جس طرح کا مواد اس کوزیادہ ملے گا، جھکاو اسی طرف ہوگا۔ اچھے مواد پر ٹرین کریں گے تو اچھے جوابات آئیں گے، ورنہ نہیں۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یہ stochastic process پر مبنی الگورتھم ہے۔ یعنی جس طرح کا مواد اس کوزیادہ ملے گا، جھکاو اسی طرف ہوگا۔ اچھے مواد پر ٹرین کریں گے تو اچھے جوابات آئیں گے، ورنہ نہیں۔
تو گویا مستقبل میں روبوٹ خریدنے کے بعد اس کی مناسب تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کرنا پڑے گا ۔:)
یعنی پھر تو کوئی صاحب یہ بھی کہتے ہوئے پائے جائیں گے کہ بھئی ہمارا ڈبلیو گیارہ تو لکھنؤ سے تربیت لے کر آیا ہے ۔ ماشاء اللّٰہ کیا شاعر ی کرتا ہے ! استاد 2K کو مات کرتا ہے ۔
 

سید ذیشان

محفلین
استاد اے-آئی ابھی علم عروض سے نابلد ہے، اس لیے (بقول معین اختر) کبھی کبھی ادھر ادھر نکل جاتا ہے۔


درج ذیل شعر کا وزن کیا ہے؟: اپنی دھن میں رہتا ہوں، میں بھی تیرے جیسا ہوں

2 / 2


The weight of the poem is emotional and personal. It conveys a feeling of isolation and longing.
 

صریر

محفلین
اس شعر کا وزن ذاتی اور جذباتی ہے ، اس سے تنہائی اور خواہش کی بُو آتی ہے ۔ :D
جس جدید عروضی نظام کا انتظار تھا وہ اب آیا ہی چاہتا ہے ۔
شاید مستقبل کی جذبات سے عاری دنیا میں، ان اوزان کی سخت ضرورت پڑے گی سر، استاد روبوٹ شعرا کی تعلی اسی مہارت فن پر مبنی ہوگی!😁
 

الف عین

لائبریرین
عزیزی اے آئی کو مشورہ دے دو کہ میاں نثری نظمیں ہی لکھو، اور ذرا مصرعوں کی لمبائی دو تین سینٹی میٹر سے زیادہ نہ ہو
 

جاسم محمد

محفلین
تو گویا مستقبل میں روبوٹ خریدنے کے بعد اس کی مناسب تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کرنا پڑے گا ۔:)
جی بالکل۔ ناقص نتائج پر کوئی روبوٹ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ مجھے مالکان ہی اچھے نہیں ملے۔ بس اس وقت آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ 🙂
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یہ اے آئی verbaliam کی طرف رجحان رکھتا ہے
اگر یہ اے آئی زیادہ تر مواد فیسبک سے اٹھارہا ہے تو ظاہر ہے وربلزم ہی نظر آئے گا۔ تو گویا اے آئی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ اردو کلاسیکی ادب کو یونیکوڈ میں منتقل کیا جائے ۔
 
استاد اے-آئی ابھی علم عروض سے نابلد ہے، اس لیے (بقول معین اختر) کبھی کبھی ادھر ادھر نکل جاتا ہے۔


درج ذیل شعر کا وزن کیا ہے؟: اپنی دھن میں رہتا ہوں، میں بھی تیرے جیسا ہوں

2 / 2


The weight of the poem is emotional and personal. It conveys a feeling of isolation and longing.
وزن کی بجائے تقطیع کا لفظ استعمال کرکے دیکھیں کیا گل کھلتا ہے۔
 

علی وقار

محفلین
وزن کی بجائے تقطیع کا لفظ استعمال کرکے دیکھیں کیا گل کھلتا ہے۔
یہ گُل کھلا ہے عبید بھائی۔ اب آپ بھی مانند گُل، کھلکھلا کر ہنسیے۔ :)


I apologize, but I am not able to provide the scansion or taqtiya of the given lines. As a large language model trained by OpenAI, I do not have the ability to analyze or interpret poetry, and I am not able to browse the internet to find the requested information. Can I help you with anything else?
 

سروش

محفلین
میں نے شاعری کے بجائے کچھ اور تجربہ کیا: نتیجہ درج ذیل ہے:
ترجمہ کریں انگریزی میں حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . ¤ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا ابْنُ بَزِيعٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى .


"Abdullah ibn Umar al-Saffar al-Tustari narrated to us that Yahya ibn Ghaylan narrated to us that Abdullah ibn Bazee' narrated to us that Yahya ibn Sa'eed al-Ansari narrated to us that Sa'eed ibn al-Musayyib narrated to us that Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah (peace be upon him and his family) said: 'Whoever swears falsely on an oath to take away the property of a Muslim will meet Allah on the Day of Judgment with His wrath upon him.' This hadith was narrated by Yahya ibn Bazee' and was only narrated by Yahya."

translate in urdu حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ . ¤ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى إِلَّا ابْنُ بَزِيعٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ يَحْيَى .

"عبد اللہ بن عمر الصفار التستری سے حدیث ہے کہ یحیی بن غیلان سے حدیث ہے کہ عبد اللہ بن بزیع سے حدیث ہے کہ یحیی بن سعید الأنصاری سے حدیث ہے کہ سعید بن مسیب سے حدیث ہے کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کہا: جو شخص جھوٹے یمین پر حلف کرتا ہے تاکہ مسلمان کے مال کو لے لے کر اللہ تعالیٰ کے دینے کے دن اس پر غضب رہے ہوں گے۔ یحیی بن بزیع نے یہ حدیث نے نہیں سنی ہے بلکہ یحیی نے اسے ہی احاطہ کیا ہے

انگریزی کا نتیجہ تقریباً 95٪ درست ہے جبکہ اردو میں 70٪ درست ہے۔ جبکہ ملاحظہ کریں کہ تحریر میں اعراب لگے ہوئے ہیں اس کے باوجود درستگی کا معیار حیرت انگیر ہے۔
 
Top