حسان خان

لائبریرین
اساطیری ایرانی پادشاہ «جمشید» بھی ایک پُرشُکوہ سلطنت و حُکومت کا مالک تھا، اور جِنّات اُس کے فرمان میں تھے، اور باد اُس پر مُسخّر تھی، لہٰذا اِن مذکورہ مُشترکاتِ زندگی کے باعث گُذشتہ ادوار میں کئی اشخاص «جمشید» کو، اور یہودی-اسلامی پیغمبر «حضرتِ سُلیمان» کو ایک ہی فرد سمجھتے تھے۔ «سُلطان محمود غزنوی» کی مدح میں کہی ایک بیت میں جنابِ «فرُّخی سیستانی» کہتے ہیں:
خُسرَو نِشَسته تاجِ شهِ هند پیشِ او
چونانکه تختِ گوهرِ بِلقیس پیشِ جم

(فرُّخی سیستانی)
پادشاہ بیٹھا ہوا ہے، اور شاہِ ہِند کا [اُترا ہوا] تاج اُس کے پیش میں ہے۔۔۔ [ویسے ہی] جیسے «بِلقیس» کا تختِ گوہر «جمشید» (یعنی حضرتِ سُلیمان) کے پیش میں [تھا]۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
«سُلطان محمود غزنوی» کے برادر «امیر ابویعقوب یوسف بن سبُکتَگین» کی مدح میں ایک بیت:
به دستِ اوست همه عِلمِ حیدرِ کرّار
به نزدِ اوست همه عدلِ عُمّرِ خطّاب

(فرُّخی سیستانی)
حضرتِ حیدرِ کرّار کا تمام عِلم اُس کے دست میں ہے۔۔۔ حضرتِ عُمَرِ خطّاب کا تمام عدل اُس کے نزد (پاس) ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
پری نُهُفته رُخ و دیو در کرشمهٔ حُسن
بِسوخت دیده ز حَیرت که این چه بوالعَجَبی‌ست

(حافظ شیرازی)
پری نے [اپنا] چہرہ چُھپا لیا ہے، جبکہ دیو (شیطان) نازِ حُسن [دِکھاتا پِھر رہا ہے]۔۔۔ حَیرت سے [میری] چشم جل گئی کہ [یا رب!] یہ کیسی بوالْعَجَبی ہے؟!
 

حسان خان

لائبریرین
الا ای ابرِ گِریَنده به نوروز
بِیا گِریه ز چشمِ من بِیاموز

(فخرالدین اسعد گُرگانی)
اے نَوروز کے وقت رونے (برسنے) والے ابر!۔۔۔ آؤ، میری چشم سے گِریہ سیکھو۔۔۔
 

حسان خان

لائبریرین
ای یوسُف آخر سُویِ این یعقوبِ نابینا بِیا
ای عیسیِ پِنهان‌شُده بر طارَمِ مینا بِیا

(مولانا جلال‌الدین رومی)
اے [میرے] یوسُف! بِالآخر اِس نابینا یعقوب کی جانب آ جاؤ۔۔۔ اے [میرے] مخفی‌شُدہ عیسیٰ! گُنبدِ نِیلگُوں (آسمان) پر آ جاؤ (ظاہر ہو جاؤ)!
 
آخری تدوین:
نه شبم نه شب پرستم كه حديث خواب گويم
چو غلام آفتابم همه
زآفتاب گويم


ترجمہ کی اصلاح مقصود ہے:
نہ شب ہوں نہ شب پرست ہوں کہ خواب کی باتیں کروں۔
میں تو آفتاب کے غلام کی طرح ہوں، جو کہتا ہوں اسی کے بارے میں کہتا ہوں۔

"ز" کا ترجمہ"سے" کرنا چاہیے یا "بارے میں"؟
اور "خواب" کا معنی "نیند" یا "خواب"؟

حسان خان
محمد وارث
سید عاطف علی
 
آخری تدوین:
نوبت بلب نمی رسد از ساغرم دریغ
کز من سفال پارۂ من تشنه تر شدست


افسوس کہ (آب یا شراب) کے لب تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آتی؛ میرا سفال پارہ (ٹوٹا ہوا ساغر) مجھ سے زیادہ پیاسا ہو گیا ہے۔

طالب آملی
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
نه شبم نه شب پرستم كه حديث خواب گويم
چو غلام آفتابم همه
زآفتاب گويم


ترجمہ کی اصلاح مقصود ہے:
نہ شب ہوں نہ شب پرست ہوں کہ خواب کی باتیں کروں۔
میں تو آفتاب کے غلام کی طرح ہوں، جو کہتا ہوں اسی کے بارے میں کہتا ہوں۔

"ز" کا ترجمہ"سے" کرنا چاہیے یا "بارے میں"؟
اور "خواب" کا معنی "نیند" یا "خواب"؟

حسان خان
محمد وارث
سید عاطف علی
جی ترجمہ آپ کا درست ہے۔ جیسا کہ قریشی صاحب نے لکھا، خواب کا ترجمہ نیند بہتر ہے بلکہ چونکہ یہ لفظ 'آفتاب' کے مقابل ہے تو میں اس کا ترجمہ "۔۔۔۔۔کہ نیند اور تاریکی کی باتیں کروں" کرتا۔ ز کا ترجمہ "بارے میں" بہتر ہے۔
 
خواب کا بہتر ترجمہ نیند ہوگا شاید۔

'بارے میں' ہی بہتر معلوم ہوتا ہے۔

جی ترجمہ آپ کا درست ہے۔ جیسا کہ قریشی صاحب نے لکھا، خواب کا ترجمہ نیند بہتر ہے بلکہ چونکہ یہ لفظ 'آفتاب' کے مقابل ہے تو میں اس کا ترجمہ "۔۔۔۔۔کہ نیند اور تاریکی کی باتیں کروں" کرتا۔ ز کا ترجمہ "بارے میں" بہتر ہے۔
دونوں حضرات کا بہت شکریہ۔
 

حسان خان

لائبریرین
«سُلطان محمود غزنوی» کی سِتائش میں ایک بیت:
ایا به مردی و پیروزی از مُلوک پدید
چُنان که بود به هنگامِ مُصطفیٰ حیدر

(فرُّخی سیستانی)
اے [تم کہ جو] مردانگی و فتح‌مندی کے لحاظ سے پادشاہوں میں مُمتاز و نُمایا‌ں [ہو]۔۔۔ [ویسے ہی] جیسے کہ حضرتِ مُصطفیٰ کے زمانے میں [اِس لحاظ سے] حضرتِ حَیدر [نُمایا‌ں] تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
از هجر روزم قیر شد دل چون کمان بُد تیر شد
یعقوبِ مسکین پیر شد ای یوسفِ برنا بِیا
(مولانا جلال‌الدین رومی)

ہجر سے میرا روز تاریک ہو گیا۔۔۔ [میرا] دل کمان کی مانند تھا، تِیر [کی مانند] ہو گیا۔۔۔۔ یعقوبِ مِسکین پِیر (بوڑھا) ہو گیا، اے [میرے] یوسُفِ جوان، آ جاؤ!
 

حسان خان

لائبریرین
چندان کزین دو دیدهٔ من رفت روز و شب
هرگز نرفت خونِ شهیدانِ کربلا
(مسعود سعد سلمان لاهوری)

جس قدر [خُون] روز و شب میری اِ‌ن دو چشموں سے بہا ہے، [اُس قدر] شہیدانِ کربلا کا خُون [بھی] ہرگز نہ بہا تھا۔
 

حسان خان

لائبریرین
«جمشید» کی پادشاہی کا ذکر کرتے ہوئے ایک بیت میں جنابِ «فردوسی طوسی» کہتے ہیں:
کمر بست با فرِّ شاهنشهی
جهان سر به سر گشت او را رهی
(فردوسی طوسی)

اُس نے جلال و شُکوہِ شاہنشاہی کے ساتھ کمر باندھی۔۔۔ کُل کا کُل جہان اُس کا چاکَر [و فرمان‌بردار] ہو گیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
«سُلطان محمود غزنوی» کے لیے جنابِ «فرُّخی سیستانی» کی ایک دُعائیہ بیت:
ایزد کامِ تو به حاصل کُناد
ما رهِیان را شب و روز این دُعاست
(فرُّخی سیستانی)

ہم غُلاموں کی شب و روز یہ دُعا ہے کہ خُدا تمہاری مُراد و آرزو کو برآوردہ کرے!
 

حسان خان

لائبریرین
ای موسیِ عمران که در سینه چه سیناهاستت
گاوی خُدایی می‌کند از سینهٔ سینا بِیا

(مولانا جلال‌الدین رومی)
اے موسیٰ بن عِمران، کہ تمہارے سینے میں کِتنے ہی کوہِ سِینا [موجود] ہیں!۔۔۔ اِک گائے خُدائی کر رہی ہے (کرنا شُروع ہو گئی ہے)، کوہِ سینا کے سینے سے [یہاں] آ جاؤ!
 

منہاج علی

محفلین
ای موسیِ عمران که در سینه چه سیناهاستت
گاوی خُدایی می‌کند از سینهٔ سینا بِیا

(مولانا جلال‌الدین رومی)
اے موسیٰ بن عِمران، کہ تمہارے سینے میں کِتنے ہی کوہِ سِینا [موجود] ہیں!۔۔۔ اِک گائے خُدائی کر رہی ہے (کرنا شُروع ہو گئی ہے)، کوہِ سینا کے سینے سے [یہاں] آ جاؤ!
بھائی کیا شعر سنا دیاآپ نے! کیا کہنے!!! کمال ہے
 

حسان خان

لائبریرین
«سُلطان محمود غزنوی» کی مدح میں ایک بیت:
خُدایگانی کاندر جهان به دین و به داد

شِناخته‌ست چو بوبکر و عُمّر و عُثمان
(فرُّخی سیستانی)
[یہ] وہ پادشاہ [ہے] کہ جو جہان کے اندر دین و عدل کے لِحاظ سے حضراتِ ابوبکر و عُمَر و عُثمان کی مانند معروف ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
جانِ فرسوده شد به راهِ تو خاک
وَمِنَ الْقَلبِ لا يَزُولُ هَواك

(عبدالرحمٰن جامی)
[میری] جانِ فرسودہ تمہاری راہ میں خاک ہو گئی، [لیکن میرے] دل سے تمہارا عشق زائل نہیں ہوتا۔
 
Top