کاشفی

محفلین
لبوں کو تشبیہ دوں کلی سے، بدن کو کھلتا گلاب لکھوں
میں خوشبوؤں کی زباں سمجھ لوں تو اس کے خط کا جواب لکھوں

(اقبال اشہر)
 
آخری تدوین:

کاشفی

محفلین
اُس کی خوشبو میری غزلوں میں سمٹ آئی ہے
نام کا نام ہے، رسوائی کی رسوائی ہے

دل ہے اک اور دوعالم کا تمنائی ہے
دوست کا دوست ہے، ہرجائی کا ہرجائی ہے

ہجر کی رات ہے اور اُن کے تصوّر کا چراغ
بزم کی بزم ہے، تنہائی کی تنہائی ہے

کون سے نام سے تعبیر کروں اِس رُت کو
پھول مرجھائے ہیں، زخموں پہ بہار آئی ہے

کیسی ترتیب سے کاغذ پہ گرے ہیں آنسو
ایک بھولی ہوئی تصویر اُبھر آئی ہے

(اقبال اشہر)
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

مدّاحِ خالِ رُوئے بُتاں ہُوں مجھے خُدا
بخشے تو کیا عجب، کہ وہ نکتہ نواز ہے

شیخ محمد ابراہیم ذوق
 

طارق شاہ

محفلین

آہ و فُغاں نہ کر جو کھُلے ذوق دل کا حال
ہر نالہ اک کلیدِ درِگنجِ راز ہے

شیخ محمد ابراہیم ذوق
 

شعیب اصغر

محفلین
عمر جوں جوں بڑھتی ہے اور گھٹتی جاتی ہے
سانس جو بھی آتا ہے لاش بن کے جاتا ہے۔

شاعر کا نام معلوم نہیں اگر کسی صاحب کے علم میں ہو تو ضرور بتائیے گا۔
 

کاشفی

محفلین
وہ جو فاصلوں میں تھیں قربتیں، یہ جو قربتوں میں ہیں فاصلے
وہ محبتوں کا عروج تھا، یہ محبتوں کا زوال ہے
(اقبال اشہر)
 

کاشفی

محفلین
اس اعتبار سے کس درجہ مالا مال ہیں ہم
ہمیں نصیب ہے اُردو زبان کی خوشبو

(اقبال اشہر)
 

کاشفی

محفلین
سنو سمندر کی شوخ لہرو، ہوائیں ٹھہری ہیں تم بھی ٹھہرو
وہ دور ساحل پہ ایک بچہ ابھی گھروندے بنا رہا ہے

(اقبال اشہر)
 

کاشفی

محفلین
نئی ہواؤں کی صحبت بگاڑ دیتی ہے
کبوتروں کو کھلی چھت بگاڑ دیتی ہے

جو جرم کرتے ہیں، اتنے برے نہیں ہوتے
سزا نہ دے کے عدالت بگاڑ دیتی ہے

(راحت اندوری)
 

کاشفی

محفلین
غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا
غم یہ ہے قاتلوں میں تیرا نام آگیا


جگنو جلے بجھے میری پلکوں پہ صبح تک
جب بھی تیرا خیال سرِ شام آگیا

محسوس کر رہا ہوں میں خوشبو کی بازگشت
شاید تیرے لبوں پہ میرا نام آگیا

کچھ دوستوں نے پوچھا بتاؤ غزل ہے کیا
بےساختہ لبوں پہ تیرا نام آگیا

میں نے تو ایک لاش کی دی تھی خبر فراز
اُلٹا مجھ ہی پہ قتل کا الزام آگیا

(طاہر فراز)
 

کاشفی

محفلین
اپنی آنکھوں میں وہ برق و شرر رکھتے ہیں
ہم بھی سورج کو بجھانے کا ہُنر رکھتے ہیں

حادثے کیا ہوئے رستے میں مجھے یاد نہیں
آبلے پاؤں کے تفصیلِ سفر رکھتے ہیں

(طاہر فراز)
 

طارق شاہ

محفلین
غم اس کا کچھ نہیں ہے کہ میں کام آگیا
غم یہ ہے قاتلوں میں تِرا نام آگیا


جگنو جلے بجھے مِری پلکوں پہ صبح تک
جب بھی تِرا خیال سرِ شام آگیا

محسوس کر رہا ہوں میں خوشبو کی بازگشت
شاید تِرے لبوں پہ مِرا نام آگیا

کچھ دوستوں نے پوچھا بتاؤ غزل ہے کیا
بےساختہ لبوں پہ تِرا نام آگیا

میں نے تو ایک لاش کی دی تھی خبر فراز
اُلٹا مُجھی پہ قتل کا الزام آگیا

(طاہر فراز)

کچھ دوستوں نے پُوچھا بتاؤ غزل ہے کیا
بےساختہ لبوں پہ تِرا نام آگیا

:thumbsup2:
بہت ہی خُوب
 

کاشفی

محفلین
گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی
کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی

وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال
افسوس یہ ہے اُس نے میری بات کاٹ دی

حالانکہ ہم ملے تھے بڑی مدّتوں کے بعد
اوقات کی کمی نے ملاقات کاٹ دی

جب بھی ہمیں چراغ میسّر نہ آسکا
سورج کے ذکر سے شبِ ظلمات کاٹ دی

دل بھی لہو لہان ہے، آنکھیں بھی ہیں اُداس
شاید اَنا نے شہ رگِ جذبات کاٹ دی

جادوگری کا کھیل ادھورا ہی رہ گیا
درویش نے شبیہ طلسمات کاٹ دی

ٹھنڈی ہوائیں، مہکی فضا، نرم چاندنی
شب تو بس اک تھی، جو تیرے ساتھ کاٹ دی

(طاہر فراز)
 
آخری تدوین:

کاشفی

محفلین
ہاتھوں میں کشکول، زباں پر تالا ہے
اپنے جینے کا انداز نرالا ہے

آہٹ سی محسوس ہوئی ہے آنکھوں کو
شاید کوئی آنسو آنے والا ہے

چاند کو جب سے الجھایا ہے شاخوں نے
پیڑ کے نیچے بےترتیب اُجالا ہے

خوشبو نے دستک دی تو احساس ہوا
گھر کے در و دیوار پر کتنا جالا ہے

(طاہر فراز)
 

طارق شاہ

محفلین

لباسِ عطر میں ملبُوس ہے پری کوئی
جھڑی اُتار یہاں بادلوں بھری کوئی

دشا دشا سے کسی حُسن کا بُلاوا ہے
ادا ادا سے کھنکتی ہے دلبری کوئی

گُلِ جہاں کا علاقہ ہے دل کی بیعت ہو
کہ خاک زادی کا غمزہ ہے ساحری کوئی

اُسی تمنا کے ٹکڑے پہ شب کا بلوہ ہے
جسے اُجالنے آئی تھی شاعری کوئی

وہ بال کھول کے برآمدے میں ہنستی ہے
یہ پہر وہ ہے کہ لازم ہے بت گری کوئی

عامر سہیل

( کیا اچھا ہے، مجید امجد سا ہی خوب انداز اور رنگ نظر آیا، اِس میں مجھے :) )
 

کاشفی

محفلین
جدھر دیکھو ستمگر بولتے ہیں
میری چھت پر کبوتر بولتے ہیں

ذرا سے نام اور تشہیر پاکر
ہم اپنے قد سے بڑھ کر بولتے ہیں

کھنڈر میں بیٹھ کر ایک بار دیکھو
گئے وقتوں کے پتھر بولتے ہیں

سنبھل کر گفتگو کرنا بزرگو!
کہ
اب بچے پلٹ کر بولتے ہیں

کچھ اپنی زندگی میں مر چکے ہیں
کچھ ایسے ہیں جو مر کر بولتے ہیں

جو گھر میں بول دیں تو رہ نہ پائیں
جو ہم سب گھر کے باہر بولتے ہیں

(ملِک زادہ جاوید)
 
Top