مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس ۔ فاتح الدین بشیر

ظفری

لائبریرین
گر تُجھ کو ہے یقینِ اجابت ، دُعا نہ مانگ
یعنی بغیرِ یک دلِ بے مدعاص نہ مانگ
آتا ہے داغِ حسرتِ دل کا شمار یاد
مجھ سے مرے گنہ کا حساب، اے خدا نہ مانگ
 

جیہ

لائبریرین
بک رہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے، کوئی۔

بھئی فاتح بھائی ناراض نہ ہو جائے۔ اس یلغارِ اشعارِ بے جا پر۔۔۔ :)
 

ظفری

لائبریرین
بک رہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے، کوئی۔

بھئی فاتح بھائی ناراض نہ ہو جائے۔ اس یلغارِ اشعارِ بے جا پر۔۔۔ :)

نہ بندھے تشنگیِ ذوق کے مضموں، غالب
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

فاتح کو آنے دو میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔ :warzish:
 
ہے شعر گوئی پسِ لفظ جھانکنے کا عمل
اگرچہ لفظ ہی صورت گرِ معانی ہے
واہ واہ کیا کہنے !
تمام اشعار ہی لا جواب ہیں،خوبصورت غزل پر بہت داد قبول کیجیئے۔
 
Top