مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس ۔ فاتح الدین بشیر

گل بانو

محفلین
ایک غزل آپ احباب کی بصارتوں کی نذر
عالم ہے ہُو کا قبرِ سکندر کے آس پاس
مجمع لگا ہوا ہے قلندر کے آس پاس

خوابوں کو عاق کر کے نکالا ہی تھا ابھی
بازار لگ گیا ہے مرے گھر کے آس پاس

شاید اسی میں حسرتیں دفنا رہا ہوں میں
سگرٹ کی راکھ بکھری ہے بستر کے آس پاس

ابھرا ستارۂ سحَری ڈوب بھی گیا
سوتا رہا میں لوحِ مقدر کے آس پاس

تصویر ہاتھ میں تھی تصور دماغ میں
منظر تھا مجھ میں اور میں منظر کے آس پاس
فاتح الدین بشیرؔ​
:)
واہ بہت عمدہ خوش رہیے
 

منصور آفاق

محفلین
بہت خوبصورت غزل ہے

شاید اسی میں حسرتیں دفنا رہا ہوں میں
سگرٹ کی راکھ بکھری ہے بستر کے آس پاس

ابھرا ستارۂ سحَری ڈوب بھی گیا
سوتا رہا میں لوحِ مقدر کے آس پاس
 

جیہ

لائبریرین
آج مجھے قتیل غالب یاد آ رہے ہیں ۔ اشعار غالب کی بوچھار کرنے والے ایک جارح مزاج دوست۔۔۔ :)
 

جیہ

لائبریرین
وفا کیسی کہان کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو
 
Top