شاد عظیم آبادی ‫اسیرِ جسم ہوں، معیادِ قید لا معلوم ۔ شاد عظیم آبادی

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 31, 2012

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ‫اسیرِ جسم ہوں، معیادِ قید لا معلوم
    یہ کس گناہ کی پاداش ہے خدا معلوم

    تری گلی بھی مجھے یوں تو کھینچتی ہے بہت
    دراصل ہے مری مٹی کہاں کی کیا معلوم

    تعلقات کا الجھاؤ ہر طرح ظاہر
    گرہ کشائیِ تقدیرِ نارسا معلوم

    سفر ضرور ہے اور عذر کی مجال نہیں
    مزا تو یہ ہے نہ منزل، نہ راستا معلوم

    دعا کروں نہ کروں سوچ ہے یہی کہ تجھے
    دعا کے قبل مرے دل کا مُدّعا معلوم

    سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی
    نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم

    کچھ اپنے پاؤں کی ہمت بھی چاہیے اے پیر
    یہی نہیں تو مددگاریِ عصا معلوم

    طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ
    ہمیں کو آپ نہیں اپنا مُدّعا معلوم

    (شادؔ عظیم آبادی‬)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
    • زبردست زبردست × 4
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    تعلقات کا الجھاؤ ہر طرح ظاہر
    گرہ کشائیِ تقدیرِ نارسا معلوم

    زبردست غزل ہے۔ بہت شکریہ فرخ صاحب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,935
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی

    نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم


    کمال انتخاب سر :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت نوازش شیزان صاحب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ ذوالقرنین صاحب!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    نہایت ہی عمدہ کلام۔ ایک ایک شعر موتی ہے جناب!!
    ایک 'اوکھی' سی طلب ہے۔ جس کی احباب سے گذارش کررہا ہوں۔
    چند سال پہلے ایک غزل نظر سے گزری تھی جس کا مقطع تھا ۔'میں کیا جانوں' ۔ تھوڑا تھوڑا یاد پڑتا ہے کہ شاعر کا نام غالباً عرفان صدیقی تھا۔ اگر محفل کے با ذوق احباب کے علم میں ہو تو یہاں درج کر کے ممنون فرمائیں اورخاکسار کو ٹیگ کرنا نہ بھولیں۔
    حسان خان صاحب ،جناب سید زبیر صاحب ، عاطف بٹ صاحب ، التباس صاحب، نیرنگ خیال صاحب خصوصی توجہ فرمائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,065
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خوب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    واہہہہہہہہہہہہہہ
    کیا خوب کہا ہے
    سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی

    نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. عاطف بٹ

    عاطف بٹ محفلین

    مراسلے:
    5,525
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    واہ، بہت ہی عمدہ انتخاب ہے۔
    ہر شعر ہی بہت خوب اور لاجواب ہے۔
    سر، شیئر کرنے کے لئے بہت شکریہ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    انتخاب پسند فرمانے کے لئے بہت شکریہ تلمیذ صاحب!
     
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    انتخاب کی پذیرائی کے لئے بہت شکریہ!
     
  13. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ بٹ صاحب، آپ کو پسند آیا کلام، ہماری محنت وصول ہوئی۔ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    تلمیذ ...........
    غزل پیش خدمت ہے........عرفان صدیقی بدایوں کے نامی شاعر اور صاحب طرز غزل گو تھے.......ذاتی طور پہ اِس فقیر کو وہ انتہا درجہ میں محبوب ہیں.........اور اُن کی شاعری ....سبحان اللہ ........بہرحال آپ کی مطلوبہ غزل پیش ہے
    میں تو اک بکھری ہوئی صف کا پیادہ ٹھہرا​
    کون اس فوج کا سالار ہے، میں کیا جانوں​
    تو فرستادہ سرکار نہیں ہے ، نہ سہی​
    ہاتھ میں محضرِ سرکار ہے، میں کیا جانوں​
    شحنہء شہر کی خدمت میں لگے ہیں سب لوگ​
    کون غالب کا طرفدار ہے، میں کیا جانوں​
    اک نیا رنگ ہویدا ہے میری آنکھوں میں​
    آج کیا سرخیء اخبار ہے، میں کیا جانوں​
    تجھ کو سیلاب کے آنے کی خبر دے دی ہے​
    تیرا در ہے تیری دیوار ہے، میں کیا جانوں​
    میں نمو کرنے پہ راضی نہیں بے موجِ بہار​
    موسمِ درہم و دینار ہے، میں کیا جانوں​
    سرِ پندار تو مجھ کو بھی نظر آتا ہے​
    اور کیا کیا تہِ دستار ہے، میں کیا جانوں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. تلمیذ

    تلمیذ لائبریرین

    مراسلے:
    3,914
    موڈ:
    Cool
    واہ کیا بات ہے چیمہ صاحب۔ آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔ قائل ہوں آپ کے حسن مطالعہ کا۔ جزاک اللہ!!
     
  16. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بھائی تلمیذ..........آپ کی محبت........ :rainbow:
     
  17. عمراعظم

    عمراعظم محفلین

    مراسلے:
    1,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دونوں غزلیں نہایت عمدہ ہیں۔ دونوں حضرات کا شکریہ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر