فاتح

لائبریرین
جناب فاتح صاحب سے پوچھتے ہیں۔
فارسی میں سنبوسہ ہی ہے جس کا تلفظ سمبوسہ ہے اور اردو میں بھی پہلے سنبوسہ ہی مستعمل تھا مثلاً امیر خسرو کی دو سخنی پہلییوں میں سے ایک ہے:
جوتا کیوں نہ پہنا؟
سنبوسہ کیوں نہ کھایا؟
تلا نہ تھا
لیکن بعد ازاں ادائیگی میں سمبوسہ میں سے ب غائب ہوتی چلی گئی اور محض سموسہ رہ گیا
حوالہ فارسی لغت
 
فارسی میں سنبوسہ ہی ہے جس کا تلفظ سمبوسہ ہے اور اردو میں بھی پہلے سنبوسہ ہی مستعمل تھا مثلاً امیر خسرو کی دو سخنی پہلییوں میں سے ایک ہے:
جوتا کیوں نہ پہنا؟
سنبوسہ کیوں نہ کھایا؟
تلا نہ تھا
لیکن بعد ازاں ادائیگی میں سمبوسہ میں سے ب غائب ہوتی چلی گئی اور محض سموسہ رہ گیا
حوالہ فارسی لغت
فاتح بھائی وضاحت کرنے کا بہت شکریہ۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 
Top