بات تو پھر لفظ کے صوتی استعمال پر آگئی نا۔۔ الف کہاں کہاں گرائ جاسکتی ہے معذرت چاہتا ہوں اس فہرست میں اب کی الف کا میں نے کہیں نہیں پڑھا عروض میں۔اور جس جگہ کی بات کر رہے ہیں وہاں ظفراقبال کا جو مصرع طرح دیا گیاہے


گرا پڑآ کوئی منظر بچا لیا گیا ہے
اس کی تقطیع آپ نے یوں کی ہے

مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن یعنی فعلن عین متحرک کے ساتھ

معذرت کے ساتھ " گیا" کی الف گرانے کا اختیار کس نے دیا ہے

یہاں یہ مصرع اس وزن پر ہے
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعولن

آپ اپنا عروض اپنے پاس رکھیں۔ لہذا مشورہ ہے کہ لفظوں کے صوتی نظام کا مطالعہ بھی ضرور کریں۔
اللہ حافظ
 
بات تو پھر صوت کی آگئ نا ۔ میں نے کہیں نہیں پڑھا جہاں الف گرانے کی اجازت ہے اس لسٹ میں اب کی الف گرانے کی بھی اجازت ہو۔اور جس جگہ کی بات کر رہے ہیں ظفر اقبال کا طرحی مصرع

گرا پڑآ کوئی منظر بچا لیا گیا ہے

آپ نے اس کی تقطیع یوں کی ہے

مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن یعنی فعلن عین متحرک کے ساتھ

" گیا" کی الف گرانے کی اجازت کس نے دی ہے؟ خواہ مخواہ اپنے وزن فعِلن پر گھسیٹ رہے ہیں اسے
اس کا درست وزن یوں ہے

گرا پڑا کوئی منظر بچا لیاگیا ہے

مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعولن

مشورہ ہے صرف عروضی کانٹ چھانٹ نہ کیا کریں لفظوں کے صوتی نظام کا بھی ضرور مطالعہ کریں اور ہاں یہ اپنا عروض اپنے پاس رکھیں۔
 
چلتے چلتےظفر اقبال کی غزل بھی لگا دوں جسے آپ باوزن سمجھتے ہیں

گرا پڑا کوئی منظر بچا لیا گیا ہے
وگرنہ کھیل تو سارا دکھا لیا گیا ہے

کسی کو دھیان کہاں چور کے پکڑنے کا
یہاں پہ شور ہی اتنا مچا لیا گیا ہے

بچا ہے نالہ و شیون کا وقت ہی ، ورنہ
جو گیت آخری تھا وہ بھی گا لیا گیا ہے

کسی شکستہ پرائے چراغ پر ہے نظر
کہ اپنی ذات کا سورج بجھا لیا گیا ہے

وہ کھو دیا گیا ہے اپنے پاس تھا جو بھی
کہیں جو تھا ہی نہیں ، اُس کو پا لیا گیا ہے

کسی غریب کو بے دخل کر دیا گھر سے
کسی پلاٹ پہ قبضہ جمالیا گیا ہے

کبھی ملی نہیں مزدوریاں مجھے اپنی
کبھی معاوضہ میرا دبا لیا گیا ہے

کہیں وہاں میں کوئی کام ہی نہ کر جاؤں
اسی لیے مجھے واپس بلا لیا گیا ہے

مکان بیچ کے تاوان بھر دیا ہے ظفر
اور اپنے لخت ۔ جگر کو چھڑا لیا گیا ہے
 
سبحان اللہ!
اس کیلیے آپ بہت مشکور ہیں
ایک بات میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ اگر اس کا نام بحر ہندی نہیں تو پھر اس کا نام کیا ہے ؟
اور فعَل کو فعول یا فع کو فاع یعنی رکنِ عروض میں یک حرف ساکن کا اضافہ کرنا ؛ اس زحاف کا نام کیا ہے ؟
مزید کہ اس بحر کو جب مضاعف کیا تو یہ برابر دو ٹکڑوں میں کیوں نہ بٹی میری مراد شکستہ بحر سے ہے.. یعنی عروضی وقفہ.. امید ہے کہ میں اپنا نقطہ سمجھا پایا ہوں گا.
اس کے علاوہ ایک سوال یہ تھا کہ کیا اسی بحر کو مسدس یا مربع (مضاعف) استعمال کیا جاتا ہے ؟
 
بہت ہی معلوماتی پوسٹ! بہت سیکھنے کو ملا!

محترم مزمل شیخ بسمل صاحب، آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم کی بچوں کی نظم "ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے" کے درج ذیل اقتباس کے کچھ حصوں کو کیا آپ بے وزن شمار کریں گے (خالص عروضی نقطۂ نظر سے)؟

ٹوٹ بٹوٹ کے دو مرغے تھے دونوں تھے ہُشیار
اک مرغے کا نام تھا گیٹو اک کا نام گِٹار
اک مرغے کی دُم تھی کالی اک مرغے کی لال
اک مرغے کی چونچ نرالی اک مرغے کی چال

دونوں اُچھلے ناچے کُودے دونوں جوش میں آئے
اک بولا میں باز بہادُر تو ہے نِرا بٹیر
اک بولا میں لگڑ بگھیلا اک بولا میں شیر
دونوں میں پھر ہُوئی لڑائی ٹھی ٹھی ٹُھوں ٹُھوں ٹھاہ
دونوں نے کی ہاتھا پائی ہی ہی ہُوں ہُوں ہاہ

میں نے اس کو فعلُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فعَل / فعَول اور اس سے مستخرج اوزان پر پرکھنے کی کوشش کی، مگر کچھ حصے وزن سے خارج ہو رہے ہیں۔

مثلاً اس میں "لگڑ بگھیلا" اور "ہوئی لڑائی" تو فعولُ فعلن یا مفاعلاتن کے وزن پر محسوس ہو رہے ہیں، اور "نرا بٹیر" مفاعلان پر۔

اسی طرح اور نظموں میں بھی اکثر ایسے ٹکڑے آتے ہیں۔ اور لکھنے والے اکثر کہنہ مشق شعرا اور اساتذہ ہوتے ہیں۔ اس پیچیدہ مسئلے کا کیا کوئی عروضی حل نہیں ہے؟ کیونکہ آپ جیسا منطقی عالم ہی اس کو حل کر سکتا ہے۔
 

سیما علی

لائبریرین
مزید برآں فرض کیجیے کہ ان چاروں میں سے یہ خاکسار فوت ہو جاتا ہے اور اسکے بعد اوپر والی غزل پر بحث ہوتی ہے اور ایک صاحب فرماتے ہیں کہ مرحوم کی یہ غزل اس چھند میں تھی، دوسرا فرماتا ہے کہ نہیں یہ غزل تو فلاں بحر میں تھی، تیسرا کہتا ہے نہیں صاحب وہ تو ساری زندگی 1 2 2 لکھتا رہا اسکی غزل تو 1 22 میں تھی۔ محترمہ پرچیٹ فرماتی ہیں کہ وہ تو میرا شاگرد اور نیاز مند تھا، مجھ سے مشورے کیا کرتا تھا اس نے تو یہ سارا نظام ہی میری ویب سائٹ سے سیکھا تھا اس نے ضرور غزل - = کے نظام میں لکھی ہوگی۔
ماشاء اللّہ ماشاء اللّہ بہت عمدہ وارث ہم جیسوں کو آپ کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جیتے رہیے۔۔
ڈھیروں دعائیں🥰
 
آخری تدوین:
ماشاء اللّہ ماشاء اللّہ بہت عمدہ وارث ہم جیسوں کو آپ کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جیتے رہیے۔۔
ڈھیروں دعائیں🥰
بے شک، محترم محمد وارث صاحب کی ہر پوسٹ عالمانہ ہوتی ہے، اور ہم سب کو بہت سیکھنے کو ملتا ہے۔
میں نے اپنے سوال میں ان کو مخاطب اس لیے نہیں کیا تھا کیونکہ جہاں تک میں سمجھا ہوں، ان کا تو موقف ہی یہ ہے کہ یہ ہندی بحر ہے اور غیر عروضی ہے۔ جبکہ محترم مزمل صاحب کا موقف مجھے اس کے برعکس لگا۔ یعنی اگر بحر ہندی غیر عروضی نہیں ہے تو پھر ان تمام اوزان کا اجتماع کیسے ممکن ہے؟ کیا اس کا حل ہے کسی عالم کے پاس؟
 

سیما علی

لائبریرین
میں نے اپنے سوال میں ان کو مخاطب اس لیے نہیں کیا تھا کیونکہ جہاں تک میں سمجھا ہوں، ان کا تو موقف ہی یہ ہے کہ یہ ہندی بحر ہے اور غیر عروضی ہے۔
درست کہا آپ نے امجد میاں ۔۔۔۔
جیتے رہیے بہت ساری دعائیں ۔۔
 
میں نے اپنے سوال میں ان کو مخاطب اس لیے نہیں کیا تھا کیونکہ جہاں تک میں سمجھا ہوں، ان کا تو موقف ہی یہ ہے کہ یہ ہندی بحر ہے اور غیر عروضی ہے۔ جبکہ محترم مزمل صاحب کا موقف مجھے اس کے برعکس لگا۔ یعنی اگر بحر ہندی غیر عروضی نہیں ہے تو پھر ان تمام اوزان کا اجتماع کیسے ممکن ہے؟ کیا اس کا حل ہے کسی عالم کے پاس؟
یہ بحر عروضی کسی طور پر بھی نہیں ہے یہ ہندی وزن ہے اور اس کا اصول یہ ہے کہ ہر مصرع کی مجموعی قیمت برابر ہونی چاہیے جب ہر طویل مصوتے کو 2 اور ہر کوتاہ مصوتے کو 1 کی قیمت دی جائے۔
دیوناگری رسم الخط میں مصوتوں کی تعداد کا اندازہ کرنا بہت آسان ہے لیکن عربی رسم الخط میں مشکل ہوتی ہے اس لیے مزمل صاحب کے افکار جیسی چیزیں سامنے آتی ہیں۔

اک بولا میں باز بہادُر تو ہے نِرا بٹیر
اک بولا میں لگڑ بگھیلا اک بولا میں شیر
اس مصرع کی عددی تقطیع میں بطور مثال کیے دیتا ہوں:

اک: ۱+۱
بولا: ۲+۲
میں: ۲
باز: ۲+۱
بہادر: ۱+۲+۱
تو: ۲
ہے: ۲
نرا: ۱+۲
بٹیر: ۱+۲

مجموعی قیمت: ۲۶

اک: ۱+۱
بولا: ۴
میں: ۲
لگڑ: ۱+۲
بگھیلا: ۱+۲+۲
اک: ۱+۱
بولا: ۴
میں: ۲
شیر: ۲

مجموعی قیمت: ۲۶
 
آخری تدوین:
یہ بحر عروضی کسی طور پر بھی نہیں ہے یہ ہندی وزن ہے اور اس کا اصول یہ ہے کہ ہر مصرع کی مجموعی قیمت برابر ہونی چاہیے جب ہر طویل مصوتے کو 2 اور ہر کوتاہ مصوتے کو 1 کی قیمت دی جائے۔
دیوناگری رسم الخط میں مصوتوں کی تعداد کا اندازہ کرنا بہت آسان ہے لیکن عربی رسم الخط میں مشکل ہوتی ہے اس لیے مزمل صاحب کے افکار جیسی چیزیں سامنے آتی ہیں۔


اس مصرع کی عددی تقطیع میں بطور مثال کیے دیتا ہوں:

اک: ۱+۱
بولا: ۲+۲
میں: ۲
باز: ۲+۱
بہادر: ۱+۲+۱
تو: ۲
ہے: ۲
نرا: ۱+۲
بٹیر: ۱+۲

مجموعی قیمت: ۲۶

اک: ۱+۱
بولا: ۴
میں: ۲
لگڑ: ۱+۲
بگھیلا: ۱+۲+۲
اک: ۱+۱
بولا: ۴
میں: ۲
شیر: ۲

مجموعی قیمت: ۲۶
محمد ریحان قریشی صاحب، بہت بہت شکریہ! :)
 
Top