یہ چاند تارے فدا ہوں تجھ پر، الٹ دے تُو جو نقاب جاناں

یہ چاند تارے فدا ہوں تجھ پر، الٹ دے تُو جو نقاب جاناں
بہار ساری نثار تجھ پر، ہے چیز کیا یہ گلاب جاناں
شمار کرتا ہوں خود کو تجھ پر، تُو زندگی کا حساب جاناں
ہے تُو جوانی، ہے تُو ہی مستی، ہے تُو ہی میرا شباب جاناں
تری محبت کو میرے دل نے سنبھال رکھا ہے خود میں ایسے
کہ جیسے خود میں سنبھال رکھے، کتاب کوئی گلاب جاناں
ہےحرف آغاز تُو ہی جاناں تو حرف آخر بھی تُو ہی اِس کا
ہے تُو ہی تفسیر، تُو خلاصہ، تُو زندگی کی کتاب جاناں
گناہ تیرے لئے ہیں میرے، ترے لئے ہے ہر ایک نیکی
یہ تجھ پہ چھوڑا، جو تیری مرضی، عذاب دے یا ثواب جاناں
کبھی نہ خود کو بکھرنے دینا، کبھی نہ رونا، خیال رکھنا
تم ایک نازک سے دل کی دھڑکن، ہو ایک شاعر کا خواب جاناں
تری وفا کی، ترے یقیں کی قسم ہے مجھ کو ترا رہے گا
جہاں ہو، جس حال میں ہو راجا، ہو خوب یا ہو خراب جاناں
 

باباجی

محفلین
واہ بہت ہی خوب

گناہ تیرے لئے ہیں میرے، ترے لئے ہے ہر ایک نیکی
یہ تجھ پہ چھوڑا، جو تیری مرضی، عذاب دے یا ثواب جاناں
 

الف عین

لائبریرین
بہت خوب امجد، اگرچہ اصلاح سخن میں نہیں، لیکن میں اپنے کو روک نہیں پاتا۔
اس کی تقطیع کر کے دیکھو۔ کیا حرف کی ح کا بھی وصال کر دیا ہے۔(اصل میں تو وصال بمعنی وفات ہو گئی ہے ح کی)
ہر حرف آغاز تُو ہی جاناں
اور
گناہ تیرے لئے ہیں میرے
کیا یوں نہیں ہو سکتا
گناہ تیرے مرے لئے ہیں
جو زیادہ واضح اور رواں ہے
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
سمجھ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:eek:نہی آئی :idontknow:
آپ کی اسی حرکت سے محفلین آپ کا شمار بچیوں میں کرنے لگتے ہیں۔
اس میں ایسا کیا ہے بھلا، جو آپ کو سمجھ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:eek:نہی آئی :idontknow:
یا پھر آپ کی سمجھ دانی (میری مراد آپ کی عقل و فہم یا دماغ)چھوٹی ہے۔
 
ہر حرف آغاز تُو ہی جاناں تو حرف آخر بھی تُو ہی اِس کا
ہے تُو ہی تفسیر، تُو خلاصہ، تُو زندگی کی کتاب جاناں
گناہ تیرے لئے ہیں میرے، ترے لئے ہے ہر ایک نیکی
یہ تجھ پہ چھوڑا، جو تیری مرضی، عذاب دے یا ثواب جاناں

بلا تمہید ۔۔۔
مجموعی طور پر اچھی کوشش ہے۔
منقولہ بالا پہلے شعر میں ’’ہر حرفِ آغاز‘‘ ۔ حائے حطی کا گرانا جائز نہیں۔
واضح رہے کہ ہائے ہوز کے گرانے کے اپنے مقامات ہیں، کہیں جائز ہے کہیں نہیں ہے۔
منقولہ بالا دوسرے شعر کا پہلا مصرع ۔ اس میں ابہام ہے۔ اگر اس شعر کے پیچھے حمد کا جذبہ ہے تو یہ بہت ہلکا شعر ہے اور اگر مجازی محبوب ہے تو دوسرے مصرعے کا جواز نہیں بنتا۔

توجہ فرمائیے گا۔ اور ہاں جناب الف عین کیا فرماتے ہیں؟۔
 

شوکت پرویز

محفلین
امجد علی راجا صاحب!
اچّھی غزل ہے، خاص کر پہلا شعر اور تیسرا شعر بہت خوبصورت ہے؛ مضمون کی تبدیلی بھی خوشگوار ہے۔۔۔
لیکن کچھ سقم اب بھی موجود ہیں، کچھ کا ذکر اساتذہ کر چکے۔
ساتھ ہی انہیں بھی دیکھ لیں:
شمار کرتا ہوں خود کو تجھ پر، تُو زندگی کا حساب جاناں
ہے تُو جوانی، ہے تُو ہی مستی، ہو تُو ہی میرا شباب جاناں
کسی "پر" کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟؟؟ ہاں، شاید کسی "سے" شمار کیا جا سکے۔۔۔​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
گناہ تیرے لئے ہیں میرے، ترے لئے ہے ہر ایک نیکی
یہ تجھ پہ چھوڑا، جو تیری مرضی، عذاب دے یا ثواب جاناں
شاید تمہارا مقصود یہ ہے کہ: میرے گناہ اور نیکی "دونوں" صرف تمہارے لئے (تمہاری وجہ) سے ہیں، اس لئے اب تم پر ہی منحصر ہے کہ ثواب دو یا عذاب۔۔۔۔
اگر یہی تمہار خیال ہے تو شعر سے یہ بات واضح نہیں۔۔۔​
اور ویسے بھی مجھے ذاتی طور پر اس طرح کے اشعار پسند نہیں آتے جن میں اسلام (یا اسلامی باتوں) کو اس رنگ سے پیش کیا جائے۔۔۔​
اس تعلق سے میرا مؤقف میرا یہ شعر ہے:​
کفریہ بات مرے شعر میں آنے کی نہیں​
گرچہ شاعر ہوں مگر پہلے مسلمان ہوں میں​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
کبھی نہ خود کو بکھرنے دینا، کبھی نہ رونا، خیال رکھنا
تم ایک نازک سے دل کی دھڑکن، ہو ایک شاعر کا خواب جاناں
قومہ شاید "ہو" کہ بعد آنا چاہئے۔۔۔ یا پھر اسے اس طرح بدل کر دیکھیں۔۔​
تم ایک نازک سے دل کی دھڑکن، تم ایک شاعر کا خواب جاناں​
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​

تری وفا کی، ترے یقیں کی قسم ہے مجھ کو ترا رہے گا
جہاں ہو، جس حال میں ہو راجا، ہو خوب یا ہو خراب جاناں
پہلے مصرعہ میں "مجھ" سے لگ رہا ہے کہ قسم کھانے والا "راجا" نہیں ہے۔۔۔ بلکہ پہلے مصرعہ کے "تری" اور "ترے" کا مرجع بھی "راجا" ہونے کا امکان لگتا ہے (یعنی یہ بھی لگتا ہے کہ "کوئی شخص" راجا سے کہہ رہا ہو کہ "میں" راجا کا رہوں گا۔۔۔)​
 
سمجھ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:eek:نہی آئی :idontknow:
دوبارہ پڑھیں، ہو سکتا ہے اب سمجھ آجائے :)
پھر بھی سمجھ نہ آئے تو دو چار بار مزید پڑھ لیں، پھر بھی سمجھ نہ آئے تو :thinking2: ۔ ۔ ۔ پڑھتی چلی جائیں، کبھی نہ کبھی تو سمجھ آ ہی جائے گی :biggrin:
 
بہت خوب امجد، اگرچہ اصلاح سخن میں نہیں، لیکن میں اپنے کو روک نہیں پاتا۔
اس کی تقطیع کر کے دیکھو۔ کیا حرف کی ح کا بھی وصال کر دیا ہے۔(اصل میں تو وصال بمعنی وفات ہو گئی ہے ح کی)
ہر حرف آغاز تُو ہی جاناں
بلا تمہید ۔۔۔
مجموعی طور پر اچھی کوشش ہے۔
منقولہ بالا پہلے شعر میں ’’ہر حرفِ آغاز‘‘ ۔ حائے حطی کا گرانا جائز نہیں۔

اساتذہ اکرام! حوصلہ افزائی کے لئے بہت شکرگزار ہوں، اور تنقید کے لئے تو انتہائی شکرگزار ہوں۔
ٹائیپنگ مسٹیک ہو گئی، مصرعہ کے شروع میں "ہر" نہیں "ہے" ہے
ہے حرف آغاز تُو ہی جاناں
 
بلا تمہید ۔۔۔
منقولہ بالا دوسرے شعر کا پہلا مصرع ۔ اس میں ابہام ہے۔ اگر اس شعر کے پیچھے حمد کا جذبہ ہے تو یہ بہت ہلکا شعر ہے اور اگر مجازی محبوب ہے تو دوسرے مصرعے کا جواز نہیں بنتا۔

امجد علی راجا صاحب!
شاید تمہارا مقصود یہ ہے کہ: میرے گناہ اور نیکی "دونوں" صرف تمہارے لئے (تمہاری وجہ) سے ہیں، اس لئے اب تم پر ہی منحصر ہے کہ ثواب دو یا عذاب۔۔۔ ۔
اگر یہی تمہار خیال ہے تو شعر سے یہ بات واضح نہیں۔۔۔​
اور ویسے بھی مجھے ذاتی طور پر اس طرح کے اشعار پسند نہیں آتے جن میں اسلام (یا اسلامی باتوں) کو اس رنگ سے پیش کیا جائے۔۔۔​
اس تعلق سے میرا مؤقف میرا یہ شعر ہے:​



گناہ تیرے لئے ہیں میرے، ترے لئے ہے ہر ایک نیکی
یہ تجھ پہ چھوڑا، جو تیری مرضی، عذاب دے یا ثواب جاناں
انسان عذاب یا ثواب دینے کا اختیار نہیں رکھتا اس لئے یہاں گناہ، نیکی، عذاب اور ثواب حقیقی معنوں میں استعمال نہیں کیا​
گناہ: جھوٹ، لوگوں سے لڑائی، حیلے بہانے وغیرہ​
نیکی: لوگوں سے حسنِ اخلاق (محبوب کا حلقہ احباب) عاجزی، انکساری،​
عذاب: محبوب کی ناراضی یا غصہ (جھوٹ، لوگوں سے لڑائی، حیلے بہانے کی وجہ سے)​
ثواب: محبوب کا خوش ہونا، اس کا راضی ہونا، نگاہ کرم کرنا (حسنِ اخلاق، عاجزی، انکساری کی وجہ سے)​
(میں آپ حضرات کی تنقید کی تردید نہیں کر رہا، وہ مفہوم بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے ذہن میں ہے)​
بہرحال شعر تو درست نہیں ہے، جس شعر کی وضاحت کرنی پڑے وہ درست نہیں ہوتا :)
 

عینی شاہ

محفلین
آپ کی اسی حرکت سے محفلین آپ کا شمار بچیوں میں کرنے لگتے ہیں۔
اس میں ایسا کیا ہے بھلا، جو آپ کو سمجھ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔:eek:نہی آئی :idontknow:
یا پھر آپ کی سمجھ دانی (میری مراد آپ کی عقل و فہم یا دماغ)چھوٹی ہے۔
تو کیا ہوا کرتے ہیں بچیوں مین شمار اب بچی نہین ہون تو اور کیا ہون ۔۔اور ویسے بھی پوئٹری اب ہر کسی ک تو نیی سمجھ مین آ سکتی ۔۔تو اس میں اتنا سختی سے بات کرنے کی کیا ضرورت ہے انکل ۔:cautious: مجھے نہی سمجھ آئی میں نے لکھ دیا سو سمپل ۔:)
 

شوکت پرویز

محفلین
تھینکیو امجد بھائی :)
شاید کچھ محفلین یہ سمجھ لیں کہ امجد بھائی کی انگریزی ٹھیک نہیں، اس لئے ہم کچھ روشنی ڈال دیتے ہیں۔۔۔
یہ ڈائیلاگ عامر خان کی فلم راجا ہندوستانی کا ہے، جس میں عامر خان نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کم گائیڈ کا کردار نبھایا ہے۔
پہلی مرتبہ عامر خان کرشمہ کپور کے "تھینک یو" کے جواب میں "ہیپی تھینک یو" بولتا ہے، تو کرشمہ کپور اس کی تصحیح کرتی ہے کہ "یو ویلکم" کہنا چاہئے،
اب عامر خان مجھ جیسا کند ذہن ہوتا ہے اور صحیح لفظ بھول جاتا ہے اور اس کی جگہ "یو کم کم" بولنے لگتا ہے۔۔۔;)
 
Top