1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

لیاقت علی عاصم یہاں رہنا معطل کرنے وال تھا کہ تم آئے - لیاقت علی عاصم

محمداحمد نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 5, 2008

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,673
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed

    غزل

    یہاں رہنا معطل کرنے وال تھا کہ تم آئے
    میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    تمھاری آہٹوں نے لو بچائی میری آنکھوں کی
    میں خود کو خود سے اوجھل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقصِ تنہائی
    مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    بہت بے سایہ و بے آب لگتی تھی زمینِ دل
    سو اک آنسو کو بادل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    بلا کر اک نئے شاداب چہرے کو میں کھڑکی میں
    پُرانا مسئلہ حل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    تمھارے نام کی ہچکی تھی ہونٹوں پر سمٹنے کو
    میں سناٹا مکمل کرنے والا تھا کہ تم آئے


    لیاقت علی عاصم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    شکریہ احمد صاحب، لیاقت علی عاصم صاحب کی خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیئے۔

    چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقصِ تنہائی
    مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے


    بہت خوب، لا جواب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,673
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ! وارث صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کیا بات ہے شہزادے ۔۔۔ مسلسل حیران پہ حیران کئے جارہے ہو۔
    واہ سبحان اللہ ۔۔
    ( ایک بات کہ عاصم بھائی یہاں موجود ہیں )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,673
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مغل بھیا! یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ عاصم بھائی اپنی Id سے پوسٹ کریں تو کیا ہی بات ہو۔
     
  6. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    میں سناٹا مکمل کرنے والا تھا کہ تم آئے ----------- لیاقت علی عاصم

    لیاقت علی عاصم کی ایک لاجواب غزل جو میں نے ان سے پہلی ملاقات میں سنی تھی ۔ملاحظہ کیجے ۔۔۔۔۔

    غزل

    یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے
    میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    تمھاری آہٹوں نے لو بچائی میری آنکھوں کی
    میں خود کو خود سے اوجھل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقصِ تنہائی
    مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    بہت بے سایہ و بے آب لگتی تھی زمینِ دل
    سو اک آنسو کو بادل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    بلا کر اک نئے شاداب چہرے کو میں کھڑکی میں
    پُرانا مسئلہ حل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    تمھارے نام کی ہچکی تھی ہونٹوں پر سمٹنے کو
    میں سناٹا مکمل کرنے والا تھا کہ تم آئے

    لیاقت علی عاصم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت خوب، شکریہ مغل صاحب شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت بہت شکریہ وارث بھائی ۔۔ بندہ پروری ہے جناب کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,933
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    مغل بھائی اسے اپنے بلاگ پر بھی لکھیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت شکریہ نظامی صاحب ۔۔ ضرور شامل کرتا ہوں
    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت خوب ہے مغل بھائی۔۔۔۔ بہت خوب ماشاء اللہ۔ لیاقت علی عاصم صاحب کو میرا سلام کہیے گا اور اس غزل کی پسندیدگی کا بھی بتایئے گا۔
     

اس صفحے کی تشہیر