یوم خواتین __ 8 مارچ 2021

ہانیہ

محفلین
گالی تو بہرحال لائق ملامت شے ہے .... سو اس کی نسبت خواہ کسی بھی رشتے سے ہو، ہر صورت میں قابل نفرین ہے.
رہا سوال یہ کہ عومی رواج میں عورتوں سے منسوب ہفوات کیوں بکی جاتیں ہیں ... سو اس کا جواب شاید یہ ہے کہ انسان گالی دیتا ہی کسی کی تحقیر کرنے یا بزعم خود عزت خراب کرنے کے لیے ہے ... چونکہ ہماری معاشرت میں بہن، بیٹی اور ماں کا ناموس بہرحال مردوں سے زیادہ بلند ہوتا ہے، بلکہ یہ رشتے عزت کے استعاروں کے طور پر ہی معروف ہیں ... اس لیے دشنام طرازی کے دوران انسان اپنے تئیں مخالف کی عزت خراب کرنے کے انہیں رشتوں پر حملہ آور ہوتا ہے ... جو کہ بہرحال ایک قابل نفرت سماجی رویہ ہے اور اس کی بلاشبہ ہرممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے.
واضح رہے کہ یہاں محض اس سماجی رویے کے پس پردہ سوچ کی نشاندہی کی گئی ہے ... ظاہر ہے کہ کوئی ذی شعور اس عمل کی تائید نہیں کر سکتا ... تاہم اس کے تدارک کا طریقہ گالیوں کی مطلق حوصلہ شکنی کرنا ہے ... نہ کہ ماڈرن فیمنزم کے زیر اثر ان گالیوں کے مقابلے پر مردانہ رشتوں پر مبنی گالیوں کو رواج دینا (اور یہ کوئی افسانہ نہیں، بدقسمتی سے راقم کے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے)

بھیا میں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ ماں کے مقابلے میں باپ کی گالی ایجاد کی جائے۔۔۔۔خدا نہ کرے میں ایسی بات کہوں۔۔۔۔ باپ کی بھی وہی اہمیت ہے جو ماں کی ہے۔۔۔۔ میں نے دنیا بھر میں رائج اس رواج کی جانب اشارہ کیا ہے۔۔۔۔ کیونکہ کسی بھی ملک میں چلے جائیں ماں کی گالی دی جاتی ہے۔۔۔۔ گالی دینا ہے ہی غلط۔۔۔۔ دینی ہی نہیں چاہئے۔۔۔۔۔ لیکن جو دے رہے ہیں کم از کم ایک دوسرے کی ماں کو تو بخش دیا کریں ۔۔۔۔
 
بھیا میں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ ماں کے مقابلے میں باپ کی گالی ایجاد کی جائے۔۔۔۔خدا نہ کرے میں ایسی بات کہوں۔۔۔۔ باپ کی بھہی وہی اہمیت ہے جو ماں کی ہے۔۔۔۔ میں نے دنیا بھر میں رائج اس رواج کی جانب اشارہ کیا ہے۔۔۔۔ کیونکہ کسی بھی ملک میں چلے جائیں ماں کی گالی دی جاتی ہے۔۔۔۔ گالی دینا ہے ہی غلط۔۔۔۔ دینی ہی نہیں چاہئے۔۔۔۔۔ لیکن جو دے رہے ہیں کم از کم ایک دوسرے کی ماں کو تو بخش دیا کریں ۔۔۔۔
بیٹا میں نے یہ نہیں کہا کہ خدانخواستہ یہ آپ کی سوچ ہے ... میں نے بھی یہی لکھا کہ یہ رویہ ہی قابل نفرت ہے ... اور بنیادی طور پر اسی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ... لڑائی جھگڑے میں اس طرح کے ہفوات بکنا تربیت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے.
 

ہانیہ

محفلین
بیٹا میں نے یہ نہیں کہا کہ خدانخواستہ یہ آپ کی سوچ ہے ... میں نے بھی یہی لکھا کہ یہ رویہ ہی قابل نفرت ہے ... اور بنیادی طور پر اسی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے ... لڑائی جھگڑے میں اس طرح کے ہفوات بکنا تربیت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے.

جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بھیا۔۔۔۔
 

اے خان

محفلین
ایک چیز مجھے بہت تنگ کرتی ہے۔۔۔۔ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں کتنی ہی گالیاں ایجاد ہوئی ہیں جو عورتوں کو ٹارگٹ کرتی ہیں۔۔۔۔ ماں کے نام کی گالی لوگ کتنے فخر سے دیتے ہیں پوری دنیا میں۔۔۔۔۔مرد آپس میں لڑیں گے۔۔۔ ایک دوسرے کو گالیاں دیں گے لیکن بیچ میں ماں آجاتی ہے۔۔۔
ہمارے ہاں الگ قسم کی گالیاں ہیں جو عورتوں کو ٹارگٹ نہیں کرتی
 

اے خان

محفلین
عورت بیوی کے روپ میں مجبور ہوتی ہے بہت جگہ پر۔۔۔۔ شوہر سے زبان نہیں چلانی ہے۔۔۔ شوہر کی بات ماننی ہے۔۔۔ شوہر سے بحث نہ کی جائے چاہے خود بیوی اپنی جگہ پر صحیح ہو۔۔۔۔ شوہر کے ماں باپ حتی کہ پورے سسرال کی خدمت کرنی ہے۔۔۔۔ سب کے ساتھ مل کر رہنا ہے۔۔۔۔

مرد چونکہ باہر کمانے جاتا ہے اور سخت محنت کر کے آتا ہے تو کبھی کبھی آکر غصہ بیوی پر نکالتا ہے۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر کبھی کبھی لڑتا ہے۔۔۔۔ ایاے میں بیویاں بری طرح پا جاتی ہیں۔۔۔۔ میری اماں نے اس بات کا خیال رکھا ہوا ہے کہ کہیں بھائی کبھی بلاوجہ بھابھیوں پر غصہ نہ نکالیں۔۔۔ایک ہی گھر میں رہتے ہیں معلوم ہو جاتا ہے کس کی غلطی ہے۔۔۔۔ اور میری اماں ویسے بھی دوسروں کی بیٹیوں کے معاملے میں بہت ڈرتی ہیں۔۔۔۔ اور بھائیوں کی عادات اور مزاجوں سے بھی ہم واقف ہیں ۔۔۔۔ مرد کسی کے رعب میں آئے یا نہ آئے لیکن امنی ماں کی بات ضرور مانتا ہے اور یہی میرے بھائیوں کا ہے۔۔۔۔ وہ بھابھیوں سے تو بد گمان ہو جاتے ہیں اور کئی بار بلاوجہ غصہ کرتے ہیں لیکن ماں جی کے سامنے درست رہتے ہیں اور ان کی ہی سب سے زیادہ بات سنتے ہیں۔۔۔ماں جی کے چیک رکھنے کی وجہ سے بات ہمیشہ چھوٹی ہی رہتی ہے لبھی بڑھتی نہیں ہے،۔۔
اللہ تعالی آپ لوگوں کو خوش رکھے باتوں سے کچھ نہیں ہوتا آئیں مل کر ایک تنظیم بناتے ہیں عورتوں کی فلاح کے لیے، ایسی تنظیم جو معتدل سوچ رکھتی ہو
 

فاخر رضا

محفلین
گالی تو بہرحال لائق ملامت شے ہے .... سو اس کی نسبت خواہ کسی بھی رشتے سے ہو، ہر صورت میں قابل نفرین ہے.
رہا سوال یہ کہ عومی رواج میں عورتوں سے منسوب ہفوات کیوں بکی جاتیں ہیں ... سو اس کا جواب شاید یہ ہے کہ انسان گالی دیتا ہی کسی کی تحقیر کرنے یا بزعم خود عزت خراب کرنے کے لیے ہے ... چونکہ ہماری معاشرت میں بہن، بیٹی اور ماں کا ناموس بہرحال مردوں سے زیادہ بلند ہوتا ہے، بلکہ یہ رشتے عزت کے استعاروں کے طور پر ہی معروف ہیں ... اس لیے دشنام طرازی کے دوران انسان اپنے تئیں مخالف کی عزت خراب کرنے کے انہیں رشتوں پر حملہ آور ہوتا ہے ... جو کہ بہرحال ایک قابل نفرت سماجی رویہ ہے اور اس کی بلاشبہ ہرممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے.
واضح رہے کہ یہاں محض اس سماجی رویے کے پس پردہ سوچ کی نشاندہی کی گئی ہے ... ظاہر ہے کہ کوئی ذی شعور اس عمل کی تائید نہیں کر سکتا ... تاہم اس کے تدارک کا طریقہ گالیوں کی مطلق حوصلہ شکنی کرنا ہے ... نہ کہ ماڈرن فیمنزم کے زیر اثر ان گالیوں کے مقابلے پر مردانہ رشتوں پر مبنی گالیوں کو رواج دینا (اور یہ کوئی افسانہ نہیں، بدقسمتی سے راقم کے ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے)
بقول آپ کے نظریہ کے اب مرد کی عزت افزائی ہورہی ہے. اسے بھی عزت دار سمجھا گیا ہے لہٰذا اسے گالیوں میں جگہ دی جارہی ہے. اس پر تو خوش ہونا چاہئے
 

فاخر رضا

محفلین
آجکل عورتیں شوہر یا بھائی یا باپ نہ ہونے کی وجہ سے کمانے پر مجبور نہیں ہیں صرف۔۔۔۔۔ یہ تو ہمارے پیارے حکمران ہیں ۔۔۔۔ اور اکثریت مرد حکمرانوں کی ہی ہے۔۔۔۔ انھوں نے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ سفید پوش طبقے کے لئے اپنا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔ آخر میں عورت کو بھی اب ہاتھ بٹانا پڑتا ہے۔۔۔ چاہے دیہات میں اپنے مردوں کے ساتھ کھیتی باڑی کرنا ہو۔۔۔۔ گھروں کی لپائی کرنا ہو۔۔۔یا پھر گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں ہوں یا ۔۔۔۔۔۔ شہروں میں لیڈی ڈاکٹرز ہوں یا ٹیچرز یا کوئی بھی۔۔۔۔ پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں عورتیں کام کرتی ہیں۔۔۔۔ اور وہ اسلئے کرتی ہیں کہ مردوں کی کمائی میں بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتی ہیں۔۔۔۔ اور وہ اپنے بچوں کی خاطر اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔۔۔۔ اس میں ان کے گھر کے مردوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔ کیونکہ وہ تو بیچارے جو کما رہے ہیں ان کو جو مل رہا ہے جو مواقع میسر ہیں اس ملک میں ۔۔۔۔ وہ گھر لا کر پورا دے دیتے ہیں۔۔۔۔۔ اس ملک کے حالات ہی ایسے ہیں کہ آمدنی ہے ہی کم ہر شعبے میں۔۔
کامیاب تو زیادہ تر وہی ہیں جو غلط کام کرتے ہیں۔۔۔ جو ایماندار ہیں وہ تو بس تکلیف ہی اٹھائیں گے۔۔۔
پوری دنیا میں صرف مرد کی کمائی پر گزارہ مشکل ہوگیا ہے، یہ صرف پاکستان کی بات نہیں ہے. اس میں اسکول کی فیسیں، موٹرسائیکل سے گاڑی پر ترقی اور اپنا گھر بنانے کی خواہش اور ضرورت سب ہی شامل ہیں
 

سیما علی

لائبریرین
کامیاب تو زیادہ تر وہی ہیں جو غلط کام کرتے ہیں۔۔۔ جو ایماندار ہیں وہ تو بس تکلیف ہی اٹھائیں گے۔۔۔
آپکا یہ تجزیہ جانبدار ہے کہ زیادہ تر کامیاب وہی ہیں جو غلط ہے تو آپ نے نعوذ و باللّہ اس حدیث کو غلط ثابت کردیا
حدیث ’إنما الأعمال بالنيات رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے,جس کی اس نے نیت کی۔ہماری زندگی کا تجربہ ہے کہ آپ صدقِ دل سے محنت کریں اور نتیجہ پروردگار پہ چھوڑ دیں۔ ہم نے زندگی میں بہت محنت کی ہے اور صد شکر ہے اُس پروردگار کا کہ اُس نے ہماری سوچ سے بڑھ کر صلہ دیا۔ ہم اس لائق نہیں جسقدر اُس رب کی کرم نوازی ہم پر اور ہمارے عیال پر رہیں۔ ہم اگر اپنے روئیں روئیں سے اُسکا شکر ادا کریں تو نہیں کرسکتے ؀
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
بس آپ مایوس نہ ہوں اور ہر وقت ہر بات کہ لیے حکمرانوں کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں اور یہ نہ کہیں کہ بُرا ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ہمیں زندگی میں بڑے بڑے نقصانات بھی ہوئے تو ربِ کریم کا شکر ہے اُس نے ہمیں اس لائق سمجھا کہ اُس ربِ کائنات نے چھوٹے نقصان سے آزمائش کی ۔۔۔پروردگار کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی کرم نوازیاں بے شمار ہیں جس میں نیک اور صالح اُولادِ بھی اُسکی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک ہے۔ پرودگار سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آسانیاں بانٹنے والا بنائے تاکہ ہم لوگوں کہ لئیے باعث آزار نہ بنیں اور سب کے لئیے بہتری کا سوچیں ۔۔آمین
 

سیما علی

لائبریرین
پوری دنیا میں صرف مرد کی کمائی پر گزارہ مشکل ہوگیا ہے، یہ صرف پاکستان کی بات نہیں ہے. اس میں اسکول کی فیسیں، موٹرسائیکل سے گاڑی پر ترقی اور اپنا گھر بنانے کی خواہش اور ضرورت سب ہی شامل ہیں
بالکل درست کہا آپ نے فاخر میاں صرف پاکستان کی باُت نہیں بات پوری دنیا کی ہے ۔آپکے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ فیسسیں اور بہتر زندگی کی تک و دو بھی شامل ہے بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور بہت کچھ۔۔۔۔۔۔جو ہمیں ہم اپنے لواحقین کو فراہم کرسکیں اپنی محنت اور کوشش سے ۔۔۔۔۔۔:) بہت ڈھیر ساری دعائیں فاخر بیٹا آپ کے لئیے کیونکہ اِس موذی
Pandemic کے دوران آپ لوگوں کی خدمات قابلِ صد تحسن ہیں پرودگار سلامت رکھے تمام میڈیکل اور پیرا میڈیکل عملے کو دن رات لوگوں کی خدمت میں مصروف رہے آپ میں ہمیشہ ہم کو اپنے رضا نظر آتے ہیں ڈھیر ساری دعائیں آپ کے لئیے۔جیتے رہیے شادو آباد رہیے ۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
بقول آپ کے نظریہ کے اب مرد کی عزت افزائی ہورہی ہے. اسے بھی عزت دار سمجھا گیا ہے لہٰذا اسے گالیوں میں جگہ دی جارہی ہے. اس پر تو خوش ہونا چاہئے
فاخر بھائی، میں نے اپنی پہلی تحریر میں ہی ڈسکلیمر دے دیا تھا ... آپ نے غالبا جذبات میں آکر اس مراسلے کو بغور پڑھنا لائق اعتنا نہیں سمجھا اس لیے اب میرے منہ میں وہ الفاظ ڈالنا چاہ رہے جو کبھی میرا مطلوب نہیں رہے :)
میرے خیال میں تو میں نے کوئی ایسی دقیق بات نہیں لکھی تھی کہ جس سے میری سوچ کا اندازہ لگانا اتنا دشوار ہوگیا :)
 
ہمارے معاشرے میں خواتین کے عالمی دن کو ایک گالی بنا دیا گیا ہے۔ جو کوئی یہ دن منائے گا بس یہ سمجھا جائے گا کہ وہ عورت کو آوارہ بنانا چاہتا ہے یا عورت خود ننگی ہو کر پھرنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ مرد حاکم ہے۔۔۔۔۔ کئی جگہ پر عورت کے حقوق مارے جاتے ہیں۔۔۔۔ لڑکے کو اچھی تعلیم دلوائی جاتی ہے لڑکیوں کو کم پڑھاتے ہیں کہ ان کو دوسرے گھر جانا ہے۔۔۔۔ دیہات جائیں تو معلوم ہو عورت کے خلاف بولنے والوں کہ کیسے کیسے حق مارا جاتا ہے۔۔۔۔ اور شہر میں بھی کتنی ہی کہانیاں ہوتی ہیں۔۔۔۔ عورتیں اپنے آپ پر ہوئے ظلم کو چھپاتی رہ جاتی ہیں۔۔۔۔
آپ نے بالکل درست کہا کہ اس دن کو گالی بنا دیا گیا ہے ۔
مگر ذرا سوچئیے پہلے تو ایسا نہیں تھا،ایسا پچھلے چند سالوں سے ہوا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ اس کی ذمہ دار بھی شاید عورت خود ہی ہے۔عورت نے عجیب عجیب تحریر کے بورڈ اٹھائے،غلط نعرے لگائے ، شوہر کی توہین کی۔
یہی وجہ بنی کہ اس دن کو غلط سمجھا گیا۔
ہمارے معاشرے میں عورت کے دونوں روپ پائے جاتے ہیں ظالم بھی اور مظلوم بھی۔جو مظلوم ہے اس کے لئے کسی نے کبھی آواز نہیں اٹھائی اور جو پہلے سے آزاد ہیں وہ مطالبات کر ہی ہیں آزادی کے۔
انہیں شاید علم ہی نہیں کہ وہ تو پہلے سے آزاد ہیں۔
جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو آپ کبھی دیہاتوں اور گاؤں میں جاکر دیکھیں سکول بچیوں سے بھرے پڑے ہیں۔انہیں کون سکول بھیجتا ہے؟ یقیناً ان کا باپ۔جو ایک مرد ہے۔
میں نے یونیورسٹیوں میں دیکھا ہے کہ لڑکے کم ہیں ،لڑکیاں زیادہ ہیں۔لڑکے باپ کے ساتھ کمائی کا ذریعہ ہیں اور بہنیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لڑکیوں کو لڑکون کے مقابلے میں پیچھے نہیں سمجھا جاتا۔
معاشرے کی جو عورت ظلم سہتی ہے اس کیلیئے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔یہ سب تو برابری کا رونا ہےکہ عورت کی گواہی کو پورا تسلیم کیا جائے۔ اب اس میں مرد کا قصور کہاں کہ اللہ نے عورت کی گواہی آدھی رکھی ہے۔
عورت نے اپنا حق مانگنے کے چکر میں مرد کی تذلیل شروع کر دی ہے۔
کئی سالوں سے سوشل میڈیا ہر سال آزادی کا شور مچتا ہے اگر اتنا ہی شور عافیہ صدیقی کی آزادی کیلیئے مچایا ہوتا تو شاید یہی عورتیں معاشرے میں اپنا مقام بلند کر چکی ہوتیں۔
میرا مقصد کسی بھی بہن یا بیٹی کی دلآزاری کرنا نہیں۔
 

ہانیہ

محفلین
آپکا یہ تجزیہ جانبدار ہے کہ زیادہ تر کامیاب وہی ہیں جو غلط ہے تو آپ نے نعوذ و باللّہ اس حدیث کو غلط ثابت کردیا
حدیث ’إنما الأعمال بالنيات رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہےجس کی اس نے نیت کی۔ہماری زندگی کا تجربہ ہے آپ صدقِ دل سے محنت کریں اور نتیجہ پروردگار پہ چھوڑ دیں ہمُ نے زندگی میں بہت محنت کی ہے اور صد شکر ہے اُس پروردگار کا کہ اُس نے ہماری سوچ سے بڑھ کر صلہ دیا ہم اس لائق نہیں جسقدر اُس رب کی کرم نوازی ہم پر اور ہمارے عیال پر رہیں ہم اگر اپنے روئیں روئیں سے اُسکا شکر ادا کریں تو نہیں کرسکتے ؀
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
۔بس آپ مایوس نہ ہو اور ہر وقت ہر بات کہ لئیے حکمرانوں کو موردِ الزام نہ ٹہرایں اور یہ نہ کہیں کہ بُرا ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے ہمیں زندگی میں بڑے بڑے نقصانات بھی ہوئے تو ربِ کریم کا شکر ہے اُس نے ہمیں اس لائق سمجھا کہ اُس ربِ کائینات نے چھوٹے نقصان سے آزمائش کی ۔۔۔پروردگار کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی کرم نوازیاں بے شمار ہیں جس میں نیک اور صالح اُولادِ بھی اُسکی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک ہے پرودگار سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آسانیاں بانٹنے والا بنائے تاکہ ہم لوگوں کہ لئیے باعث آزار نہ بنیں اور سب کے لئیے بہتری کا سوچیں ۔۔آمین

توبہ ۔۔۔۔ توبہ۔۔۔۔ میم۔۔۔۔ اللہ کی توبہ۔۔۔۔ اگر میرے سے غلطی ہوئی ہے اللہ مجھے معاف کرے۔۔۔لیکن آپ نے جس طرح میرے کھاتے میں زبردستی مجھ پر جو گناھ لگایا ہے۔۔۔۔۔ حیران ہوں۔۔۔۔ یہ حدیث نیکی اور گناہ کے کام کرنے پر ہے اور ان اعمال کی نیت پر ہے ۔۔۔۔ کہ اگر کسی نے مثال کے طور پر کوئی بدعت کی لیکن اس کی نیت اچھی تھی تو اللہ اس کو اس کی نیت کے حساب سے جزا سزا دیگا۔۔۔۔ یا پھر کسی نے قربانی میں اونٹ کیا ۔۔۔۔ لیلن دکھاوے کے لئے کیا تو اللہ اس کا اونٹ نہیں دیکھے گا بلکہ اس کی نیت دیکھے گا کہ اس نے یہ اونٹ اللہ کے لئے نہیں اپنی واہ واہ کے لئے کیا۔۔۔۔

میں نے جو بات کہی ہے وہ نتیجے پر کہی ہے۔۔۔۔ کہ جو ایماندار ہے اس کی آمدنی تو کم ہی ہے۔۔۔۔ جو چوری کرتا ہے۔۔۔۔ ملاوٹ کرتا ہے۔۔۔ رشوت لیتا ہے۔۔۔سود کا کاروبار کرتا ہے۔۔۔ اس کی آمدنی زیادہ ہے۔۔۔۔کیا یہ سب کچھ اس ملک یا پوری دنیا میں نہیں ہوتا ہے؟

اور حکمرانوں کو میم میں نے تو اتنا کچھ بولا ہی نہیں جو آپ سب یہاں بولتے ہیں۔۔۔۔ آپ لوگوں نے لطیفے تک بنائے ہوئے ہیں۔۔۔۔ اگر حکمرانوں کو بولا تو حق بات ہی تو بولی ہے۔۔۔۔

۔۔۔۔ پورا پیسہ ملک کا کھا گئے۔۔۔۔ باہر ملکوں میں محلوں میں راج کر رہے ہیں۔۔۔ اور یہاں غریب سڑکوں پر علاج نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔۔۔

میم آپ کے اس تبصرے نے تو بہت ہی حیران کیا ۔۔۔۔
 
میں نے جو بات کہی ہے وہ نتیجے پر کہی ہے۔۔۔۔ کہ جو ایماندار ہے اس کی آمدنی تو کم ہی ہے۔۔۔۔ جو چوری کرتا ہے۔۔۔۔ ملاوٹ کرتا ہے۔۔۔ رشوت لیتا ہے۔۔۔سود کا کاروبار کرتا ہے۔۔۔ اس کی آمدنی زیادہ ہے۔۔۔۔کیا یہ سب کچھ اس ملک یا پوری دنیا میں نہیں ہوتا ہے؟
یہ کوئی مطلق کلیہ نہیں کہ ایماندار آدمی لازما قلیل الآمدن بھی ہو.
ہر صاحب ثروت کو بے ایمان سمجھنا بذات خود ایک قابل اصلاح رویہ ہے.
 

ہانیہ

محفلین
ہمُ نے زندگی میں بہت محنت کی ہے اور صد شکر ہے اُس پروردگار کا کہ اُس نے ہماری سوچ سے بڑھ کر صلہ دیا ہم اس لائق نہیں جسقدر اُس رب کی کرم نوازی ہم پر اور ہمارے عیال پر رہیں ہم اگر اپنے روئیں روئیں سے اُسکا شکر ادا کریں تو نہیں کرسکتے ؀
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
۔بس آپ مایوس نہ ہو اور ہر وقت ہر بات کہ لئیے حکمرانوں کو موردِ الزام نہ ٹہرایں اور یہ نہ کہیں کہ بُرا ہمارے ساتھ ہی ہوتا ہے ہمیں زندگی میں بڑے بڑے نقصانات بھی ہوئے تو ربِ کریم کا شکر ہے اُس نے ہمیں اس لائق سمجھا کہ اُس ربِ کائینات نے چھوٹے نقصان سے آزمائش کی ۔۔۔پروردگار کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی کرم نوازیاں بے شمار ہیں جس میں نیک اور صالح اُولادِ بھی اُسکی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک ہے پرودگار سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آسانیاں بانٹنے والا بنائے تاکہ ہم لوگوں کہ لئیے باعث آزار نہ بنیں اور سب کے لئیے بہتری کا سوچیں ۔۔آمین

میم اللہ نے آپ کو کامیابیاں اور خوشیاں دی ہیںں۔۔۔۔ دعا ہے اللہ آپ کو اور خوشیوں سے نوازے ۔۔۔۔ اور آپ اور آپ کی اولاد ایسے ہی کامیاب رہیں۔۔۔۔
 

ہانیہ

محفلین
یہ کوئی مطلق کلیہ نہیں کہ ایماندار آدمی لازما قلیل الآمدن بھی ہو.
ہر صاحب ثروت کو بے ایمان سمجھنا بذات خود ایک قابل اصلاح رویہ ہے.

سر میں نے زیادہ تر لکھا تھا۔۔۔۔ ہر کسی کو نہیں کہا ہے۔۔۔۔

یہ دیکھیں
"کامیاب تو زیادہ تر وہی ہیں جو غلط کام کرتے ہیں۔۔۔ جو ایماندار ہیں وہ تو بس تکلیف ہی اٹھائیں گے۔۔۔"

میم سیما نے میری کہی بات کو غلط کوٹ کیا اور اب آپ بھی وہی لہہ رہے ہیں۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
میم اللہ نے آپ کو کامیابیاں اور خوشیاں دی ہیںں۔۔۔۔ دعا ہے اللہ آپ کو اور خوشیوں سے نوازے ۔۔۔۔ اور آپ اور آپ کی اولاد ایسے ہی کامیاب رہیں۔۔۔۔
اللّہ آپ کے اور آپ سے وابسطہ لوگوں کو بھی کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے آمین الہی آمین
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
پوری دنیا میں صرف مرد کی کمائی پر گزارہ مشکل ہوگیا ہے، یہ صرف پاکستان کی بات نہیں ہے. اس میں اسکول کی فیسیں، موٹرسائیکل سے گاڑی پر ترقی اور اپنا گھر بنانے کی خواہش اور ضرورت سب ہی شامل ہیں
کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ دنیا نے جب اپنے معیارِ زندگی کو بلند سے بلند کرنے کے چکر میں خود کو ہلکان کیا تو خواتین کو مددگار کے طور پر ساتھ ملا لیا۔ اور جس خاتون کو مرد نے چند ٹکوں کے لیے باہر نکالا اسے علم ہی نہیں کہ خاتون گھر میں بیٹھ کر ایک ایسی نسل کی تربیت کر رہی تھی جس سے معاشرہ بنتا ہے اور آج ذرا معاشرے کی طرف نظر گھمائیے سب سے گھناؤنے جرائم کرنے والے لوگ آپ کو تعلیم یافتہ ہی ملیں گے
 

ہانیہ

محفلین
آپ نے بالکل درست کہا کہ اس دن کو گالی بنا دیا گیا ہے ۔
مگر ذرا سوچئیے پہلے تو ایسا نہیں تھا،ایسا پچھلے چند سالوں سے ہوا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ اس کی ذمہ دار بھی شاید عورت خود ہی ہے۔عورت نے عجیب عجیب تحریر کے بورڈ اٹھائے،غلط نعرے لگائے ، شوہر کی توہین کی۔
یہی وجہ بنی کہ اس دن کو غلط سمجھا گیا۔
ہمارے معاشرے میں عورت کے دونوں روپ پائے جاتے ہیں ظالم بھی اور مظلوم بھی۔جو مظلوم ہے اس کے لئے کسی نے کبھی آواز نہیں اٹھائی اور جو پہلے سے آزاد ہیں وہ مطالبات کر ہی ہیں آزادی کے۔
انہیں شاید علم ہی نہیں کہ وہ تو پہلے سے آزاد ہیں۔
جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو آپ کبھی دیہاتوں اور گاؤں میں جاکر دیکھیں سکول بچیوں سے بھرے پڑے ہیں۔انہیں کون سکول بھیجتا ہے؟ یقیناً ان کا باپ۔جو ایک مرد ہے۔
میں نے یونیورسٹیوں میں دیکھا ہے کہ لڑکے کم ہیں ،لڑکیاں زیادہ ہیں۔لڑکے باپ کے ساتھ کمائی کا ذریعہ ہیں اور بہنیں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لڑکیوں کو لڑکون کے مقابلے میں پیچھے نہیں سمجھا جاتا۔
معاشرے کی جو عورت ظلم سہتی ہے اس کیلیئے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔یہ سب تو برابری کا رونا ہےکہ عورت کی گواہی کو پورا تسلیم کیا جائے۔ اب اس میں مرد کا قصور کہاں کہ اللہ نے عورت کی گواہی آدھی رکھی ہے۔
عورت نے اپنا حق مانگنے کے چکر میں مرد کی تذلیل شروع کر دی ہے۔
کئی سالوں سے سوشل میڈیا ہر سال آزادی کا شور مچتا ہے اگر اتنا ہی شور عافیہ صدیقی کی آزادی کیلیئے مچایا ہوتا تو شاید یہی عورتیں معاشرے میں اپنا مقام بلند کر چکی ہوتیں۔
میرا مقصد کسی بھی بہن یا بیٹی کی دلآزاری کرنا نہیں۔

میم میرا تعلق دیہات سے ہی ہے۔۔۔۔ اور جو میں نے عورتوں پر ظلم و ستم ہوتے دیکھے ہیں ۔۔۔۔ اس کے بارے میں تصور نہیں کر سکتی ہیں آپ
۔۔۔۔۔

میرا تعلق کوئی آزادی مارچ والی عورتوں سے نہیں ہے۔۔۔۔ وہ کتنی ہیں ۔۔۔۔ ایک پرسنٹ۔۔۔۔۔ انھوں نے عورتوں کے اصل مسائل پر ڈھنگ سے آواز ہی نہیں اٹھائی۔۔۔۔ ان کے اپنے ایجنڈے ہیں۔۔۔۔ وہ جانیں اور ان کا کام جانے۔۔۔۔لیکن مجھے اس بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ ہر بات کو چاہے یوم خواتین ہو
۔۔۔ چاہے عورت کے کسی مسئلے پر کوئی بھی بات کرے۔۔۔۔ فورا سمجھ لیا جاتا ہے کہ یقینا آپ اکا تعلق ان سے ہے یا آپ ان کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہیں ۔۔۔جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔
باقی تبصرہ تھوڑی دیر بعد۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
میم آپ کے اس تبصرے نے تو بہت ہی حیران کیا ۔۔۔۔
بٹیا شاید ہم آپ کو اپنی بات سمجھا نہ سکے اسکے لیے معافی کے طلبگار ہیں۔ ہمارا مطلب ایسا بالکل نہیں۔ آپ نے جب یہ کہا کہ غلط لوگوں کے پاس ہی آسانیاں ہیں تو ایسا نہیں۔ لوگ محنت کرتے ہیں اور ثمر پاتے ہیں اور محنت کا صلہ انسان نہیں پرودگار دیتا ہے۔ ہمارا مطلب صرف یہ تھا۔ اس بات کے کہنے کے یہاں نہ کہ برُائی کو پرُموٹ کرنا۔ بُرائی، چوری ہمیشہ بُرائی رہے گی۔ پلیز اگر آپکو ہماری کوئی بات بُری لگی ہے تو ہم دست بستہ معافی کے طلبگار ہیں آپ بالکل ہماری بیٹی کی طرح ہیں ۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
یقینا آپ اکا تعلق ان سے ہے یا آپ ان کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہیں ۔۔۔جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔
باقی تبصرہ تھوڑی دیر بعد۔۔۔
ہے یا آپ ان کا ایجنڈا آگے بڑھا رہی ہیں ۔۔۔جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔
باقی تبصرہ تھوڑی دیر بعد۔
پلیز ہماری طرف سے بس کیونکہ ہمیں بہت افسوس ہوا ہماری ہر مثبت بات کو آپ نے پتہ نہیں کس پیرائے میں لیا دوبارہ معافی کی طلب گار ہمارا کوئی ایجینڈا نہیں یہ محفل اپنوں کی اور محبتوں کی محفل ہے اپنائیت جہاں نہ ہو وہاں بات کرنے کا مزا نہیں۔۔
 
Top