قتیل شفائی یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو- (غزل از قتیل شفائی)

باباجی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 9, 2012

  1. قرۃالعین اعوان

    قرۃالعین اعوان محفلین

    مراسلے:
    8,647
    موڈ:
    Lurking
    اپیا آپ بہت برجستہ بولتی ہیں
    آپ کی حسِ مزاح خوب ہے:happy:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بابا جی صاحب
    بہت خوب، اس اچھے انتخاب پر بہت سی داد قبول کیجئے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. عبدالرزاق قادری

    عبدالرزاق قادری معطل

    مراسلے:
    1,813
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ودیا جی ودیا
    باباجی ودیا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. مقدس

    مقدس لائبریرین

    مراسلے:
    28,441
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Tired
    نائس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,701
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت عمدہ انتخاب ہے۔ بہت شکریہ جناب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. پردیسی

    پردیسی محفلین

    مراسلے:
    1,185
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    انتخاب خوب ہے بابا جی آپ کا۔۔۔ٹیگ کرنے کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,844
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
  8. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    713
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    کلام قتیل کے تو ویسے بھی ہم قتیل ہیں ، مہدی حسن کی سوز و گداز سے بھری آواز نے ایسا سماں باندھا کہ رہے سہے ہوش بھی اڑ گئے !

    اس غزل کو مہدی حسن کی آواز میں سنئے !
     
  9. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    713
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    یہ غزل پہلے بھی محفل پر پوسٹ ہوچکی ہے مگر ناقص ہے ، اس لئے یہاں مکمل پیش کررہا ہوں



    یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو
    اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو

    گر جاؤ گے تم اپنے مسیحا کی نظر سے
    مر کر بھی علاج دل بیمار نہ مانگو

    کھل جائے گا اس طرح نگاہوں کا بھرم بھی
    کانٹوں سے کبھی پھول کی مہکار نہ مانگو

    سچ بات پہ ملتا ہے سدا زہر کا پیالہ
    جینا ہے تو پھر جینے کا اظہار نہ مانگو

    اس چیز کا کیا ذکر جو ممکن ہی نہیں ہے
    صحرا میں کبھی سایۂ دیوار نہ مانگو


    قتیل شفائی
     
  10. نسیم ازھری

    نسیم ازھری محفلین

    مراسلے:
    10
    جھنڈا:
    Qatar
    موڈ:
    Shh
    سچ بات پہ ملتا ہے صدا زہر کا پیالہ
    جینا ہے تو پھر جراتِ اظہار نہ مانگو


    واہ جی واہ بہت خوب :angry1::angry1::angry1::angry1:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر