کلیم عاجز ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات ۔ کلیم عاجز

ابن جمال نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 3, 2010

  1. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات
    کون بیکار یہاں ہے کہ سنے کام کی بات

    شمع کی طرح کھڑاسوچ رہاہے شاعر
    صبح کی بات سنائے کہ کہے شام کی بات

    ہم غریبوں کو توعادت ہے جفاسہنے کی
    ڈھونڈہی لیتے ہیں تکلیف میں آرام کی بات


    دھوپ میں خاک اڑالیتے ہیں سائے کیلئے
    پیاس لگتی ہے تو کرتے ہیں مئے وجام کی بات

    اب توہرسمت اندھیراہی نظرآتاہے
    خوب پھیلی ہے تری زلف سیہ فام کی بات

    صبح کے وقت جو کلیوں نے چٹک کرکہدی
    بات چھوٹی سی ہے لیکن ہے بڑے کام کی بات

    کوئی کہدے کہ محبت میں برائی کیاہے
    یہ نہ توکفر کی ہے بات نہ اسلام کی بات

    گرچہ احباب نے سرجوڑ کے ڈھونڈاعاجز
    نہ ملی میری غزل میں روشِ عام کی بات
    کلیم عاجز​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    بہت خوب جناب۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    22,240
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    لاجواب!

    خوب انتخاب ہے۔ :)
     

اس صفحے کی تشہیر