تیسری سالگرہ ہفتۂ شعر و سخن - محفل کی تیسری سالگرہ کا جشن

محمد وارث نے 'محفل کی سالگرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 6, 2008

  1. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    اک ٹہنی پر پھولے پھلے ہیں پاکستان اور میں
    ہرموسم میں ساتھ رہے ہیں پاکستان اور میں

    کالی رات، ہوا طوفانی ، مولا پار اتار !
    ایک ہی کشتی میں بیٹھے ہیں پاکستان اور میں

    غافل بھی نہیں رہنے دیتی خوف سمے کی رات
    باری باری سو لیتے ہیں پاکستان اور میں

    اس کے سر پر باپ کی پگڑی، میں ہوں نافرمان
    ایک ہی شخص کے دو بیٹے ہیں پاکستان اور میں

    اور ابھی کچھ وقت لگے گا تھکن اتارنے میں
    ہجرت کرکے آئے ہوئے ہیں پاکستان اور میں

    اپنی مثال تو یوں ہے تابش جیسے دو مجذوب
    اپنے آپ میں گم رہتے ہیں پاکستان اور میں


    عباس تابش​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  2. تیشہ

    تیشہ محفلین

    مراسلے:
    21,892
    میں بھی فرزانہ کی نیلی رگیں شئیر کر رہی ہوں جو مجھے بہت پسند ہے ، فرزانہ کی اپنی ہی آواز میں ، پیلے پیڑ ،

    [ame]http://www.youtube.com/watch?v=e1IqCJp4RoQ[/ame]



    فرحت سنئیے گا ،

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    وہ پیلے پیڑ کیوں روئے۔۔ بہت خوب
    فرزانہ جی تو کیا بات ہے۔ :) بہت بہت شکریہ
     
  4. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مظفر وارثی کی یہ غزل مجھے بہت پسند ہے۔


    ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
    دیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا

    دعووں کی ترازو میں تو عظمت نہیں تُلتی
    فیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا

    فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتے
    تلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا

    چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتے
    اپنی ہی کمائی کو تو لُوٹا نہیں جاتا

    اوروں کے خیالات کی لیتے ہیں تلاشی
    اور اپنے گریبان میں جھانکا نہیں جاتا

    فولاد سے فولاد تو کٹ سکتا ہے لیکن
    قانون سے قانون کو بدلا نہیں جاتا

    ظلمت کو گھٹا کہنے سے بارش نہیں ہوتی
    شعلوں کو ہواؤں سے تو ڈھانپا نہیں جاتا

    طوفان میں ہو ناؤ تو کچھ صبر بھی آ جائے
    ساحل پہ کھڑے ہو کے تو ڈوبا نہیں جاتا

    دریا کے کنارے تو پہنچ جاتے ہیں پیاسے
    پیاسوں کے گھروں تک تو کوئی دریا نہیں جاتا

    اللہ جسے چاہے اُسے ملتی ہے مظفر
    عزت کو دکانوں سے خریدا نہیں جاتا

    مظفر وارثی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت شکریہ فرحت کیانی، میں نے ابھی تک یہ نظم پوسٹ نہیں کی میں کلیات میں سے ڈھونڈھ کر جلد ہی پوسٹ کرتا ہوں -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    وارث صاحب

    آپ کی محبت اور عنایت کے لئے ممنون ہوں ۔ یقیناً میں اگر چاہوں بھی تو آپ سب کی محبتوں کا قرض نہیں چکا سکتا۔

    اللہ آپ کو شاد رکھے (آمین )
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. زھرا علوی

    زھرا علوی محفلین

    مراسلے:
    1,698
    موڈ:
    Asleep
    یہ جو پلکوں پہ رم جھم ستاروں کا میلہ سا ہے
    یہ جو تیرے بنا کوئی اتنا اکیلا سا ہے
    میرا دل تیری یادوں سے مہکا ہوا اک شہر ہے

    سب محبت کا اک پہر ہے
    سب محبت کا اک پہر ہے

    ساحلوں پہ گھروندے بنائے تھے ہم نے، تمہیں یاد ہے؟
    رنگ بارش میں کتنے اڑائے تھے ہم نے، تمہیں یاد ہے؟
    جانے کس لے لیے گھر سجائے تھے ہم نے، تمہیں یاد ہے؟
    کوئی خوشبو کا جھونکا ادھر آ نکلتا نہیں
    گم ہے نیندوں کے صحرا میں خوابوں کا رستہ کہیں
    ہر خوشی آتے جاتے ہوئے وقت کی لہر ہے۔۔۔

    سب محبت کا اک پہر ہے
    سب محبت کا اک پہر ہے

    زندگی دھوپ چھاؤں اک کھیل ہے، بھیڑ چھٹتی نہیں
    اور اسی کھیل میں دن گزرتا نہیں، رات کٹتی نہیں
    پیار کرتے ہوئے آدمی کی کبھی ، عمر گھٹتی نہیں
    دل کی دہلیز پر عکس روشن ترے نام سے
    رت جگے آئینوں میں کھلے ہیں کہیں شام سے
    ایک چاروں طرف درمیاں بحر ہے۔۔۔۔

    سب محبت کا اک پہر ہے
    سب محبت کا اک پہر ہے



    فیصل لطیف نے یہ نظم بہت خوب گائی ہے میری کوشش تو یہی تھی کے اسے پیش کروں مگر مجھے لنک پوسٹ کرنا نہیں آیا۔۔:(
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اعجازعبید صاحب

    واہ واہ واہ جناب، کیا مزیدار شاعری ہے
    خوب ! بہت خوب! بہت ہی خوب!
     
  9. عمار ابن ضیا

    عمار ابن ضیا محفلین

    مراسلے:
    6,794
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    عرصہ پہلے ایک تک بندی کی تھی مزاحیہ۔۔۔ ملاحظہ ہو:

    چند سکوں کے لیے پسپائی کرکے پھنس گئے
    دال، آٹا، گھی انہیں سپلائی کرکے پھنس گئے

    دانت تھے اچھے بھلے پھر جانے کیا سوجھی انہیں
    بے ضرورت سائنسی رگڑائی کرکے پھنس گئے

    عید پر بن کر قصائی خوب لوٹا تھا مگر
    سردیوں میں اپنا پیشہ نائی کرکے پھنس گئے

    عقل کی یہ ہارڈ ڈسک اب بوٹ ہو پاتی نہیں
    ہم تو دل پہ پاسورڈ اپلائی کرکے پھنس گئے

    واہ واں کرکے نکاح اچھا پھنسا اپنا رقیب
    آہ یاں عمار خود کو "بھائی" کرکے پھنس گئے​

    :fun:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    فرحت کیانی صاحبہ

    بہت شکریہ اس حوصلہ افزائی کا

    ممنون ہوں۔
     
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    گذشتہ دو تین دن کچھ مصروفیات رہیں اُس دوران یہاں دوستوں نے بہت عمدہ کلام پیش کیا۔ پڑھ کر جی خوش ہوا اور بہت سا کلام ایسا ہے کہ بارہا پڑھنے کا متقاضی ہے۔ خاص طور پر فُرخ بھائی نے تو عمدہ کلام کی ایسی زنجیر بنادی ہے کہ اس کے اسیر اسی کےہو کر رہ گئے اور رہائی کے متمنی بھی نہیں۔

    تمام دوستوں کا بے حد شکریہ !
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    منیر نیازی کی ایک غزل

    غزل

    آگئی یاد شام ڈھلتے ہی
    بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

    کھل گئے شہرِ غم کے دروازے
    اک ذرا سی ہو کے چلتے ہی

    کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھے
    مٹ گیا خواب آنکھ ملتے ہی

    خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سے
    ماہِ شب تاب کے نکلتے ہی

    تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
    عکسِ دیوار کے بدلتے ہی

    خون سا لگ گیا ہے ہاتھوں میں
    چڑھ گیا زہر گل مسلتے ہی

    منیر نیازی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  13. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    احمد فراز کی ایک غزل

    غزل

    پھر اُسی راہ گزر پر شاید
    ہم کبھی مل سکیں مگر شاید

    جن کے ہم منتظر رہے اُن کو
    مِل گئے اور ہمسفر شاید

    جان پہچان سے بھی کیا ہوگا
    پھر بھی اے دوست غور کر! شاید

    اجنبیت کی دھند چھٹ جائے
    چمک اُٹھے تری نظر شاید

    زندگی بھر لہو رُلائے گی
    یادِ یارانِ بے خبر شاید

    جو بھی بچھڑے وہ کب ملے ہیں فراز
    پھر بھی تو انتظار کر شاید

    احمد فراز
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  14. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    نظم

    کس نے کہا تھا
    کچی پکی دیواروں پہ ہات رکھو
    کس نے کہا تھا
    سایوں کے ہمراہ چلو
    کس نے کہا تھا
    صحرائوں میں راہیں ڈالو
    بولو!
    آخر کس نے کہا تھا
    تن تنہا آوارہ بادل کی سیلانی چھائوں میں
    سستانے بیٹھو
    افراتفری کے موسم میں
    کس نے کہا تھا پیار کرو

    فرحت عباس شاہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  15. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,908
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    اقبال عظیم کی ایک نظم

    نظم

    تتلیوں کے موسم میں
    نوچنا گلابوں کا
    ریت اِس نگر کی ہے
    اور جانے کب سے ہے

    دیکھ کر پرندوں کو
    باندھنا نشانوں کا
    ریت اِس نگر کی ہے
    اور جانے کب سے ہے

    تم ابھی نئے ہو ناں
    اس لئے پریشاں ہو
    آسمان کی جانب
    اِس طرح سے مت دیکھو
    آفتیں جب آنی ہوں ٹوٹنا ستاروں کا
    ریت اس نگر کی
    اور جانے کب سے ہے

    شہر کے باشندے
    نفرتوں کو بو کر بھی
    انتظار کرتے ہیں
    فصل ہو محبت کی
    ڈھونڈنا سرابوں کا
    ریت اس نگرکی ہے
    اور جانے کب سے ہے

    اجنبی فضائوں میں
    اجنبی مسافر سے
    اپنے ہر تعلق کو
    دائمی سمجھ لینا
    اور جب بچھڑ جانا
    مانگنا دعائوں کا
    ریت اس نگر کی ہے
    اور جانے کب سے ہے

    خامشی مرا شیوہ
    گفتگو ہنر اُن کا
    میری بے گناہی کو
    لوگ کیسے مانیں گے
    بات بات پر جب کہ
    مانگنا حوالوں کا
    ریت اس نگر کی ہے
    اور جانے کب سے ہے

    اقبال عظیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  16. نوید صادق

    نوید صادق محفلین

    مراسلے:
    2,278
    لیجئے صاحب ایک اور غزل۔

    آئنوں پر زوال کے دن ہیں
    شیشہء دل ، کمال کے دن ہیں

    دوست وحشت میں یوں نہیں کرتے
    زخم پر اندمال کے دن ہیں

    وسعتِ شہر تنگ پڑنے لگی
    دشت کی دیکھ بھال کے دن ہیں

    خیریت پوچھتے ہو لوگوں کی
    شہرِ دل میں ملال کے دن ہیں

    کوئی سمجھائے دوستوں کو نوید
    مہلتِ عرضِ حال کے دن ہیں

    شاعر: نوید صادق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  17. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,666
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مجھے وداع کر


    مجھے وداع کر
    اے میری ذات، مجھے وداع کر
    وہ لوگ کیا کہیں گے، میری ذات،
    لوگ جو ہزار سال سے
    مرے کلام کو ترس گئے؟

    مجھے وداع کر،
    میں تیرے ساتھ
    اپنے آپ کے سیاہ غار میں
    بہت پناہ لے چُکا

    میں اپنے ہاتھ پاؤں
    دل کی آگ میں تپا چکا!

    مجھے وداع کر
    کہ آب و گِل کے آنسوؤں
    کی بے صدائی سُن سکوں
    حیات و مرگ کا سلامِ روستائی سن سکوں!

    مجھے وداع کر
    بہت ہی دیر _______ دیر جیسی دیر ہوگئی ہے
    کہ اب گھڑی میں بیسوی صدی کی رات بج چُکی ہے
    شجر حجر وہ جانور وہ طائرانِ خستہ پر
    ہزار سال سے جو نیچے ہال میں زمین پر
    مکالمے میں جمع ہیں
    وہ کیا کہیں گے؟ میں خداؤں کی طرح _____
    ازل کے بے وفاؤں کی طرح
    پھر اپنے عہدِ ہمدمی سے پھر گیا؟
    مجھے وداع کر، اے میری ذات

    تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے
    کہ ذہنِ ناتمام کی مساحتوں میں پھر
    ہر اس کی خزاں کے برگِ خشک یوں بکھر گئے
    کہ جیسے شہرِ ہست میں
    یہ نیستی کی گرد کی پکار ہوں ____
    لہو کی دلدلوں میں
    حادثوں کے زمہریر اُتر گئے!
    تو اپنے روزنوں کے پاس آکے دیکھ لے
    کہ مشرقی افق پہ عارفوں کے خواب ____
    خوابِ قہوہ رنگ میں _____
    امید کا گزر نہیں
    کہ مغربی افق پہ مرگِ رنگ و نور پر
    کِسی کی آنکھ تر نہیں!

    مجھے وداع کر
    مگر نہ اپنے زینوں سے اُتر
    کہ زینے جل رہے ہیں بے ہشی کی آگ میں ____
    مجھے وداع کر، مگر نہ سانس لے
    کہ رہبرانِ نو
    تری صدا کے سہم سے دبک نہ جائیں
    کہ تُو سدا رسالتوں کا بار اُن پہ ڈالتی رہی
    یہ بار اُن کا ہول ہے!
    وہ دیکھ، روشنی کے دوسری طرف
    خیال ____ بھاگتے ہوئے
    تمام اپنے آپ ہی کو چاٹتے ہوئے!
    جہاں زمانہ تیز تیز گامزن
    وہیں یہ سب زمانہ باز
    اپنے کھیل میں مگن
    جہاں یہ بام و دَر لپک رہے ہیں
    بارشوں کے سمت
    آرزو کی تشنگی لیے
    وہیں گماں کے فاصلے ہیں راہزن!

    مجھے وداع کر
    کہ شہر کی فصیل کے تمام در ہیں وا ابھی
    کہیں وہ لوگ سو نہ جائیں
    بوریوں میں ریت کی طرح _____
    مجھے اے میرے ذات،
    اپنے آپ سے نکل کے جانے دے
    کہ اس زباں بریدہ کی پکار ____ اِس کی ہاو ہُو ___
    گلی گلی سنائی دے
    کہ شہرِ نو کے لوگ جانتے ہیں
    (کاسہء گرسنگی لیے)
    کہ اُن کے آب و نان کی جھلک ہے کون؟
    مَیں اُن کے تشنہ باغچوں میں
    اپنے وقت کے دُھلائے ہاتھ سے
    نئے درخت اگاؤں گا
    میَں اُن کے سیم و زر سے ____ اُن کے جسم و جاں سے ____
    کولتار کی تہیں ہٹاؤں گا
    تمام سنگ پارہ ہائے برف
    اُن کے آستاں سے مَیں اٹھاؤں گا
    انہی سے شہرِ نو کے راستے تمام بند ہیں ____

    مجھے وداع کر،
    کہ اپنے آپ میں
    مَیں اتنے خواب جی چکا
    کہ حوصلہ نہیں
    مَیں اتنی بار اپنے زخم آپ سی چُکا
    کہ حوصلہ نہیں _____

    (ن، م راشد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    کیا بات پیدا کی ہے حضور، کیا آمد ہے، کیا شوق ہے، کیا پیشہ ہے، کیا بھائی کا رول نبھایا ہے برادرم، واہ واہ لاجواب :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed

    لا جواب غزل ہے نوید بھائی، بہت خوب۔

    آئنوں پر زوال کے دن ہیں
    شیشہء دل، کمال کے دن ہیں

    خیریت پوچھتے ہو لوگوں کی
    شہرِ دل میں ملال کے دن ہیں

    واہ واہ واہ، بہت خوبصورت اشعار ہیں، سبحان اللہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,554
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے یہ لکھتے ہوئے کہ احباب نے اس سلسلے کو بہت پذیرائی بخشی، سبھی احباب نے بہت اچھا انتخاب پیش کیا اور شعرائے کرام کے تو کیا کہنے، خاکسار اور فرخ صاحب آپ سب کی محبتوں کیلیئے آپ کے ممنون ہیں۔

    یوں تو ہفتہ مکمل ہو گیا ہے لیکن سعود صاحب نے اعلان کیا تھا کہ محفل کا جشن مزید ایک ہفتہ چلے گا تو مجھے بہت خوشی ہوئی تھی کہ احباب کی محفلِ سخن مزید ایک ہفتہ سجی رہے گی۔

    میری خواہش تو یہی ہے کہ اس سلسلے کو محفل کی سالگرہ کے جشن کے ساتھ ساتھ چلتے رہنا چاہیئے لیکن اگر ناظمین یہ سمجھتے ہیں کہ اب پیمانہ و صہبا کے اٹھانے کا وقت آ گیا ہے تو پھر سر تسلیم خم ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر