ہر شے میں ترا جلوہ پنہاں نظر آتا ہے - عبدالشکور شیدا

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 31, 2016

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    افکارِ پریشاں
    (از: جناب عبدالشکور صاحب شیدا - 1920ء)
    ہر شے میں ترا جلوہ پنہاں نظر آتا ہے
    عالم مری آنکھوں میں عُریاں نظر آتا ہے

    پھر یاد کوئی آیا، آنکھوں میں بھرے آنسو
    پھر دیدہء پُرنم میں طوفاں نظر آتا ہے

    صحرائے تصور میں کچھ نقش خیالی ہیں
    اب ڈھونڈنا منزل کا آساں نظر آتا ہے

    شاید کہ گلستاں میں پھر فصلِ بہار آئی
    گہوارہء وحشت پھر جنباں نظر آتا ہے

    خود نذر تماشہ ہو، پھر دیکھ تجھے شیدا
    ویرانہ میں بھی کیسا ساماں نظر آتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر