1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

کیا انسان واقعی اشرف المخلوقات ہے؟

عرفان سعید نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 18, 2018

  1. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,740
    ان 'مخلوقات' کو انٹیلجنٹ تصور کیا جائے گا تو پھر، کچھ سوال جواب تو بنتے ہیں جو کہ ان کی بابت کیے جانے چاہئیں۔ :) ویسے تو ان مخلوقات کا بھی کوئی حساب کتاب ہونا چاہیے ! :) دراصل، ایک طرف یہ دعویٰ ہے کہ یہ کائنات انسان کے لیے بنائی گئی ہے اور کتابِ مبین اسے دعوتِ تسخیرِ کائنات دیتی ہے۔ اگر کائنات خود اس کے مقابل ایک مخلوق کے طور پر موجود ہے، تو پھر، کچھ تو کہانی میں ٹوسٹ آیا ہوا لگتا ہے یہاں! :)
     
    آخری تدوین: ‏اگست 13, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    ان آیات میں جنوں کے ایک گروہ کا قرآن سننے کا واقعہ ہے، وہاں سے یہ استدلال کہ انسانوں کی طرف مبعوث کیے گئے پیغمبر بیک وقت جنوں کی ہدایت پر بھی مامور کیے گئے، میری سمجھ میں بالکل نہیں آیا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    یہ دعویٰ کہاں کیا گیا ہے؟
     
  5. آصف اثر

    آصف اثر معطل

    مراسلے:
    2,922
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    آیت # 2 میں:
    يَهْدِىٓ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ ۖ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا (2)
    جو نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے سو ہم اس پر ایمان لائے ہیں، اور ہم اپنے رب کا کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔

    جنوں کا آپ ﷺ پر ایمان لانا اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ جنوں کے لیے انسانی پیغمبروں پر ایمان لانا درست ہے، جب کہ کسی بھی آیت یا حدیث میں یہ ثبوت موجود نہیں کہ کسی انسان نے کسی جن پیغمبر پر (اگر ہو) ایمان لایا ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 13, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,740
    کیا آپ کی نظر سے کبھی یہ 'دعویٰ' نہیں گزرا۔ یہ تو معروف بات ہے۔ اقبال کا شعر ہی دیکھ لیجیے۔ :)
    نہ تُو زمیں کے لیے ہے، نہ آسماں کے لیے
    جہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی حد تک سنا تھا کہ یہ پوری کائنات آپ ؐ کیلئے ہی بنائی گئی ہے۔
     
  8. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,740
    شاید اس متعلق حدیث ضعیف ہے۔ تاہم، اس حوالے سے ہم نے بھی سُن رکھا ہے۔ اُمید ہے، اہل علم رہنمائی فرمائیں گے۔

    ویسے، عام طور پر، اس حوالے سے، یعنی کہ انسان اور کائنات کے تعلق کی نسبت سے، یہ آیت پیش کی جاتی ہے۔
    ''اور اُس نے تمہارے لیے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا ہے۔'' (الجاثیة، 45: 13).
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    دینی تعلیم کے مطابق خدا نے انسان کو عدم سے پیدا کیا، اور اپنی نافرمانی کرنے پر جنت سے بے دخل کر کےزمین پر اتار دیا۔ ایمان کی حد تک یہ بات درست ہے۔
    البتہ حقائق (ڈی این اے ٹیسٹنگ) کے بعد یہ نظریہ درست نہیں رہا ۔ کیونکہ اب یہ بلاتردید ثابت ہو چکا ہےکہ دیگر چرند پرند کی طرح انسان بھی حیاتیاتی ارتقا کا ہی نتیجہ ہے۔
    اب سوال بس یہ رہ جاتا ہے کہ آخر کس بنیاد پر انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے؟ تو اس کا دینی نکتہ نظر سے جواب یہ ہے کہ انسان پر وحی الٰہیہ کا نزول ہوا ہے۔ وحی الٰہیہ سے مددپاکر انسان اللہ کے بتائے ہوئے رستہ پر چلتے ہوئے اس کا رنگ اختیار کر سکتا ہے۔ دیگر مخلوقات جیسے حیوانات، جنات اور فرشتے خدا کی اس نعمت اور فضل سے محروم ہیں۔ اسی لئے انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔
     
  10. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,740
    اس بات کی وضاحت ہمارے مراسلے میں کر دی گئی تھی کہ مذہبی نقطہء نظر سے ہی اس طرح کا تصور قائم کیا جاتا ہے تاہم آپ نے کمال مہارت سے عبارت کو حذف کر دیا اور سائنس کو ایسے فٹ کیا جیسے کہ کرنے کا حق تھا۔ :) یعنی کہ اپنی بات کو کسی پرانی تقریر سے جوڑ کر اچھا خاصا 'نیا نکور' مراسلہ تخلیق کر لیا۔ یہ بھی ارتقاء کی ایک صورت ہے کہ بندہ کتنا سیانا ہوتا جاتا ہے ڈیجیٹل ایج میں۔ :)
     
    آخری تدوین: ‏اگست 14, 2019
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    چونکہ اشرف المخلوقات ایک دینی اصطلاح ہےاور دین کا منبع روحانیات ہی ہے۔ اس لئے میں نے اس بارہ میں سائنسی (مادی) اور دینی(روحانی) نکتہ نظر دونوں بیان کر دئے ہیں۔
    انسان خدا کی وہ واحد مخلوق ہے جس پر وحی اتری ہے۔ جسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے بتائے ہوئے رستہ پر چل کر کامیاب ہوجائے۔ یا شیطان کے رستہ پر چلتے ہوئے اللہ کے عذاب کا موجب بنے۔
    یہ اختیارو آزادی خدا کی دیگر مخلوقات کے پاس نہیں ہے۔ اسی لئے انسان کو اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔
     
  12. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,864
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    اللہ تعالی کے فرمان، قرآن حکیم سے حوالہ فراہم کیجئے پلیز
     
    • متفق متفق × 1
  13. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,740
    اور اُس نے تمہارے لئے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو اپنی طرف سے (نظام کے تحت) مسخر کر دیا ہے، بیشک اس میں اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
    (سورۃ الجاثیہ)
     
    • زبردست زبردست × 3
  14. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    124
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    ہاتھ ہلکا رکھیں بھائی! کچھ عرصہ بعد کوئی نئی تحقیق اس تحقیق کی تردید کرنے کھڑی ہو جائے گی تب کیا کہیں گے۔ تحقیقات بدلتی رہتی ہیں، قرآن کبھی نہیں بدلا۔ ایمان بالغیب بھی آخر ایک انتہائی اہم معاملہ ہے۔
    یوں عقلیات کی بنا پر انتہائی قوی نقلیات کو رد کرنا مناسب نہیں۔ اگر عقلیات، مستند نقلیات کے معیار پر پورا نہ اتر سکیں تو یہ عقلیات کا نقص ہے۔ بڑے بڑے دانشور جو اسلام کی ایک ایک تعلیم کی حقانیت کو عقل کی روشنی میں ثابت کرتے رہے، بالاخر ان کے کام بھی ایمان بالغیب ہی آیا۔ عدمِ سجود کے بعد ہزارہا سال گزرنے پر آج شیطان بھی اتنا ہی ہوشیار و چالاک ہو چکا ہے جتنا انسانیت اوج پر پہنچ چکی ہے۔ سائنس و فلسفہ جدیدہ جہاں بے حد افادیت کا حامل ہے، وہیں انسانیت کو جانے انجانے دہریت کی طرف دھکیلنے کے لئے اسی دشمن شیطان کا ایک بہت بڑا ہتھیار بھی بن چکا ہے۔ قدم قدم احتیاط باید!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
  15. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    قرآن کے مطابق جنات انسانوں کو دیکھ اور سن سکتے ہیں لیکن انسانوں کو یہ قدرت حاصل نہیں۔ استثنائی صورتیں گرچہ موجود ہیں جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام۔ اس لیے کسی انسان کا کسی جن پیغمبر پر ایمان لانے کا کوئی واقعہ موجود نہیں۔
    اس ایمان لانے کی نوعیت کے بارے میں میرا رجحان یہ ہے کہ حق جہاں اور جس صورت میں بھی سامنے آئے، دنیا کی ہر ذی شعور مخلوق اُسے ماننے کی مکلف ہے۔ چنانچہ جنوں کے کسی پیغمبر کی دعوت اگر ہم بھی سن سکتے تو اُس پر اُسی طرح ایمان کے مکلف ہوتے، جس طرح جنوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر اپنے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے پیغمبروں پر ہمارے ایمان کی نوعیت بھی یہی ہے۔ ہم اُن کی شریعت کے پابند تو یقیناً نہیں ہیں، لیکن اُنھیں ماننا ہمارے لیے بھی اُسی طرح ضروری ہے، جس طرح اُن کی قوموں کے لیے ضروری تھا۔

    سورۃ الجن کی ابتدا جن الفاظ سے ہوتی ہے اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ سب سے پہلی آیت دیکھیں
    قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا
    کہہ دو (اے پیغمبر ﷺ)، مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن کو سنا تو انھوں نے اپنی قوم کو بتایا کہ ہم نے ایک نہایت دل پذیر قرآن سنا۔

    ’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ جنوں کے جو تاثرات اس سورہ میں بیان ہوئے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست جنوں کی زبانی نہیں بلکہ وحی الٰہی کے ذریعہ معلوم ہوئے۔ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک وقت جنوں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہو ، تو ’قُلْ اُوْحِیَ‘ کے الفاظ یہاں بے محل ہیں۔ کیونکہ اس صورت میں تو آنجنابﷺ براہ راست جنوں کو خدا کا کلام سنا رہے ہوتے۔ واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
  16. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    میرے خیال میں زبان زدِ عام اصطلاح ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  17. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    124
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    انسان کے شرف و کرامت کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے اس شرف و کرامت کا رخ متعین کرنا ضروری ہے۔ یعنی جو لوگ انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیتے ہیں وہ کس اعتبار سے یہ بات کہتے ہیں، دنیوی اعتبار سے یا دینی اعتبار سے۔ دنیوی اعتبار سے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دینے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے زیادہ باصلاحیت ثابت کیا جائے۔ جبکہ دینی اعتبار سے اشرف المخلوقات قرار دینے کے لئے انسان کی دینی حیثیت کو دیگر تمام مخلوقات سے برتر ثابت کیا جائے۔ جو بات قرینِ قیاس لگتی ہے وہ یہی ہے کہ انسان کا اصل شرف و کرامت دینی اعتبار سے ہے، نہ کہ دنیوی اعتبار سے۔
    چنانچہ دنیوی اور مادی صلاحیت اور استعداد سے قطع نظر کر کے دیکھا جائے تو چند امور ایسے ہیں جو اصولی طور پر انسان کی دیگر تمام مخلوقات پر افضلیت ثابت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے احکامِ شرعیہ کا مکلف صرف انسان کو بنایا ہے۔ مکلف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کی عقل اور فہم و فراست حاصل ہونے کے باوجود اپنے اختیار سے اطاعتِ خداوندی کو اختیار کیا جائے۔ اس صفت میں انسان فرشتوں سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے، کیونکہ فرشتوں کو احکاماتِ الہیہ سے روگردانی کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے، اور یہ اس وجہ سے ہے کہ ان کے اندر برائی کا مادہ ہی نہیں رکھا گیا، وہ محض نوری مخلوق ہیں۔ یہاں جنات کو لے کر اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی کفر و ایمان اور اچھے برے اعمال کو اپنے اختیار سے اپناتے اور ترک کرتے ہیں۔ لیکن جنات پر انسان کی افضلیت اسی روز ثابت ہو گئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں انسان کو اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی دولت سے نواز کر جنات کے شہنشاہ اور پیشوا کو بھی یہ حکم دیا کہ وہ بھی انسان کو سجدہ کرے۔ حالانکہ ابلیس کا درجہ جنات میں سب سے اعلیٰ تھا اور وہ واحد جن تھا جسے آسمانوں میں فرشتوں کی معیت میں عبادات سرانجام دینے کی اجازت حاصل تھی۔
    احکاماتِ شرعیہ کے مکلف ہونے کی وجہ سے ہی انسان کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاءؑ جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز تھے وہ بھی انسانوں میں سے ہی مبعوث فرمائے، کسی دوسری مخلوق (فرشتوں یا جنات) میں سے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث نہیں فرمایا۔ انسان کو حاصل ہونے والے ایسے بہت سے دینی اعزازات کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے جو انسان کی دیگر تمام مخلوقات پر دینی افضلیت کو ثابت کرتے ہیں۔
    البتہ دنیوی اعتبار سے انسان کی اشرفیت قابلِ غور ہے۔ آئیے بات کو مکمل کرنے کے لئے اس پہلو پر بھی غور کرتے ہیں۔
    معروف مفسرِ قرآن حافظ عماد الدین بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت بنی آدم کے شرف و کرامت کی وجوہات تحریر کرتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں:
    ’’(ترجمہ) اللہ تعالیٰ نے انسان کو سماعت، بصارت اور دل (ودماغ) دیا ہے جس کے ذریعے وہ سمجھ بوجھ حاصل کر کے اس سے نفع اٹھاتا ہے، مختلف اشیاء اور دنیا و آخرت کے اعتبار سے ان کے خواص اور نقصان دہ اثرات کے مابین فرق کرتا ہے‘‘۔ اس تفصیل کی روشنی میں جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ انسان کا اصل شرف و امتیاز اس کے فہم و فراست کی وسعت ہے جس کے ذریعے آج وہ کائنات کی طاقتوں کو مسخر کررہا ہے اور اس کی تسخیر کا دائرہ مسلسل ترقی پذیر ہے۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی تمام تر دانشمندی اور قوتِ تسخیر کے باوجود بہت سی مخلوقات ایسی نظر آتی ہیں جو انسان کے دائرۂِ تسخیر سے باہر یا اپنی مخصوص صلاحیتوں میں انسان سے کہیں آگے ہیں۔ آپ کسی ننھے سے پرندے کو ہی دیکھ لیں، جس طرح وہ بنا کسی خارجی آلے کی مدد لئے ہواؤں میں تیر سکتا ہے، انسان کی پہنچ سے یہ عمل (ظاہری اسباب کے درجے میں) باہر ہے۔ لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ انسان دنیوی اعتبار سے کلی طور پر دیگر تمام مخلوقات سے اشرف ہے۔ بلکہ جو بات راہِ اعتدال سے قریب لگتی ہے وہ یہی ہے کہ انسان کا دیگر مخلوقات سے اشرف ہونا کلی طور پر نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہے۔ یعنی اگر انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی جملہ صلاحیتوں کے مجموعے کو دیکھا جائے تو اس قدر کثیر صفات اور صلاحیتیں آپ کو کسی دوسری ایک مخلوق میں دکھائی نہیں دیں گی۔ اگرچہ انفرادی طور پر کسی دوسری مخلوق کو کوئی ایسی صفت حاصل ہو بھی جائے جو انسان میں نہ ہو، مجموعی طور پر انسان کی صلاحیتیں اس سے زیادہ ہیں۔ ’’لقد خلقنا الانسان فی احسنِ تقویم‘‘ (ترجمہ: ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے) کا مفہوم بھی یہی ہو سکتا ہے کہ انسان کی تخلیق جس انداز میں کی گئی ہے وہ مجموعی طور پر تمام مخلوقات سے اعلیٰ ترین سانچہ ہے۔
    یہاں اگر روبوٹس (اے آئی) کی بات کی جائے کہ وہ کچھ صلاحیتوں میں انسان سے آگے ہیں تو یہ بھی خود انسان کی اشرفیت کی دلیل ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل و فراست استعمال کرتے ہوئے ایسی چیز ایجاد کی جو کچھ امور میں خود اپنے موجد سے بھی آگے ہے۔ پھر ایک بات یہ بھی ہے کہ آج روبوٹس جس حالت میں بھی ہیں وہ انسان کے زیرِ تسخیر ہیں۔ یہ مفروضہ کہ آنے والے دور میں روبوٹس خود انسانوں کو مسخر کر کے دنیا پر حکومت کریں گے، تو یہ محض ایک مفروضہ ہے۔ میرے خیال میں جو انسان روبوٹ بنا سکتا ہے وہ کبھی اسے اس جرأت کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ خود اسی پر حکومت کرنے لگیں۔ یہ باتیں سائنس فکشن ہونے کی حد تک اچھی لگتی ہیں، حقائق سے اتنی دوری اچھی نہیں ہوتی۔
    ایسی باتیں کرتے وقت ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ انسانوں کی تباہی روبوٹس کے ہاتھوں ہونے والی ہے، بلکہ قرآن اختتامِ کائنات تک انسانوں کے دنیا میں وجود کی گواہی دیتا ہے۔۔۔ جب وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قیامت انسانوں پر قائم ہوگی۔ بطورِ مسلمان ہمیں کسی بھی قسم کا تبصرہ کرتے وقت مجموعی طور پر اسلامی تعلیمات اور نظریات کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔ ایک پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش میں دوسرے پہلووں کو یکسر ویرانۂ نظر اندازی میں ڈال دینا یا طاقِ نسیاں پر رکھ دینا کم از کم اہلِ اسلام کو زیبا نہیں دیتا۔
    خلاصہ یہ کہ انسان کا اصل شرف و کرامت دینی لحاظ سے ہے، جبکہ دنیاوی لحاظ سے اس کی اشرفیت مجموعی طور پر ہے نہ کہ کلی طور پر۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 15, 2019
    • زبردست زبردست × 2
  18. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,661
    ماشاءاللہ بہت اچھا لکھا جیتے رہیے. میں بھی اسی طرح کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر آپ نے بہت اچھا لکھا ہے.
    انبیاء اور ائمہ معصومین علیہم السلام میرے نذدیک اشرف المخلوقات ہیں. ہمیں انہی جیسا بننے کی کوشش کرنی چاہئے. صراط الذین انعمت علیہم
     
    • متفق متفق × 2
  19. عدیل عبد الباسط

    عدیل عبد الباسط محفلین

    مراسلے:
    124
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Happy
    شکریہ جناب! آپ کی جانب سے تعریفی کلمات دیکھ کر میں بہت خوش ہوا، اور تحریر کو دوبارہ پڑھا تو سمجھ میں آیا کہ آپ نے تعریف کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ انسان کو اچھا لکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چنانچہ عبارت میں موجود متعدد ادبی اغلاط پر نظر گئی اور ان کی تصحیح کی کوشش کی۔ مزید بہتری کے لئے اہلِ قلم سے اصلاح کی استدعا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    11,784
    ایسا ہی ہے۔ اگر صرف حیاتیاتی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو بہت سے جاندار انسان سے کہیں زیادہ اشرف ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر