1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

کیا انسان واقعی اشرف المخلوقات ہے؟

عرفان سعید نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 18, 2018

  1. رباب واسطی

    رباب واسطی محفلین

    مراسلے:
    1,500
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Chatty

    اشرف المخلوقات یعنی تمام مخلوقات میں سے بہترین

    بے شک جو اِیمان لائے اور اَچھے کام کئے‘ وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں
    (سورۃ البیّنۃ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  2. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    "اشرف المخلوقات" کے سارے مبحث کو آپ "اشرف الآلات" پر لے گئے!
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. آصف اثر

    آصف اثر محفلین

    مراسلے:
    2,911
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    تجزیہ دلچسپ اور منفرد ہے، لیکن آپ نے اشرف المخلوقات ہونے کے لیے کن عوامل کو چُنا ہے؟
     
    آخری تدوین: ‏اگست 13, 2019
    • متفق متفق × 1
  4. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,734
    مخلوق اسے کہا جاتا ہے جسے خلق کیا جائے۔ انسان کسی شے کا ان معنوں میں خالق نہیں کہ ایک شے کو عدم سے وجود میں لے آئے۔ یہ مذہبی نکتہء نظر ہے جسے سائنسی اذہان چاہے تسلیم نہ کریں۔ اب جن مخلوقات کو رب تعالیٰ نے بنایا ہے، اُن میں انسان کو دیگر تمام مخلوقات پر فضیلت حاصل ہے یا نہیں، اس لڑی میں اس موضوع سے متعلق بات ہونی چاہیے تھی۔ سائنسی نکتہء نظر سامنے آ جائے تو اچھی بات ہے تاہم یہ بحث کسی اور طرف نکل جائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میں نے پہلی نظر میں یہ پڑھا کہ آپ نے "اشرف اللات" لکھا ہے۔ :)

    تفنن برطرف خان صاحب کے "الآلات" اتنے بھی غیر منطقی یا غیر مذہبی نہیں۔ انسان کو "اشرف المخلوقات" کے شرف سے "ڈی شرف" کرنے کے لیے انتا ہی کافی ہے کوئی ایک خلق ہی انسان سے بہتر ہو جائے۔ چونکہ فرشتوں اور جنوں کے وجود یا ان کے وجود کے باوجود ان کی "شرفیت" کے سب قائل نہیں ہیں سو انہوں نے مشینوں کی مثال دی جو کہ سامنے کی اور سب کی آزمودہ یا معلوم شدہ ہے۔ اب مذہبی نکتہ نظر سے اگر انسان، جانوروں، فرشتوں وغیرہ کا خالق اللہ ہے تو مادے کا بھی ہے۔ اسی مادے سے کچھ ایسی چیز بن گئی ہے جو انسان سے بہتر ہے سو یہ مفروضہ کہ انسان اشرف ہے اسی سے غلط ہو گیا۔اندیشہ ہائے دور و دراز کی ضرورت ہی نہیں پڑی!

    انکی بات سے میں یہی سمجھا تھا اور یہ منطق میرا ذہن بھی مانتا ہے مگر میرا ان سے سوال یہ تھا کہ مشینوں کی انسان پر فوقیت اگر ثابت ہوتی ہے تو ان مشینوں کو بنایا تو انسان نے ہے تو کیایہ مشینیں بھی اسی مادے سے اپنے سے بہتر کچھ بنا پائیں گی، اگر نہیں تو پھر وہ انسان سے بہتر کیسے ہوئیں؟ خالی کچھ ٹاسک انسان سے بہتر پرفارم کر لینے سے، جیسا کہ خان صاحب نے لکھا تھا، مشین انسان سے بہتر کیسے ہوئی؟ بہت سارے جانور اور پرندے بھی انسان سے بہتر کام کر لیتے ہیں سو مشین کیسے افضل ہو گئی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 1
  6. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    :)
    بالکل متفق
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  7. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    "اشرف المخلوقات" کی اصطلاح کا ماخذ کیا ہے اس کا تو اب تک کچھ پتہ نہیں ملا جیسا کہ عرفان صاحب نے بھی ابتدائی مراسلے میں ذکر کیا۔ اس لئے اس مراسلے میں اصطلاح کو معنوی رنگ میں لے کر بات کی ہے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے بعض احباب کے نزدیک اشرف المخلوقات کے خطاب کی حقدار وہ مخلوق ہے جو دوسری مخلوقات سے طاقت اور کام کرنے کی برتری میں زیادہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو کسی ایک مخلوق کو یہ خطاب دینا مشکل ہوجائے گا کہ ہر مخلوق کسی نہ کسی ہنر میں ایسی یکتا ملے گی کہ جس میں دوسری مخلوقات اس کے سامنے عاجز ہوں۔ لہذا اس طرح تو فیصلہ مشکل ہے کہ فرشتے تک اس دوڑ سے باہر ہوجائیں گے کیونکہ ہر فرشتے کو الگ کام پر لگایا گیا ہے اور وہ وہی کرسکتا ہے الا یہ کہ اسے خالق کی طرف سے کسی دوسرے کام کی طاقت دی جائے۔

    لیکن اگر اس طرح بھی فیصلہ کرنا ہو تو پھر بھی یہ خطاب انسان پر ہی جچتا ہے کہ تمام (معلوم مخلوقات) میں سے وہی ہے جس نے اس زمین اور کائنات کو مسخر کرنے کی کوشش کی اور لاجواب کوشش کی۔ (دلچسپ بات کہ خالق نے بھی خود فرما دیا تھا کہ یہ سب انسان کے لئے مسخر کیا گیا ہے)۔ یہی دیکھ لیں کہ اشرف المخلوقات کی بحث میں بھی انسان ہی پڑا نہ کہ کوئی بکری یا کمپیوٹر چِپ کہ یہ معاملات ان کے ادراک سے بھی پرے ہیں۔ انسان نے دیگر تمام مخلوق کو چاہے وہ حجم یا طاقت میں زیادہ تھیں اپنے زیر نگیں کیا بلکہ اپنی ایک تخلیق تک نظام شمسی کے بھی پار بھیج دی جو دیگر ستاروں کی طرف ابھی تک رواں دواں ہے۔ اور دور دراز کہکشاؤں تک کی خبریں نکال رہا ہے جہاں تک اسکی پہنچ بھی نہیں۔ لہذا یہ خطاب انسان سے ہٹ کر کسی معلوم مخلوق پر نہیں جچتا۔

    اب رہا یہ سوال کہ خالق نے خود بھی انسان کو اس خطاب سے نوازا ہے یا نہیں۔ ہر چند کہ خاکسار کو اس بارے میں کوئی ذاتی علم نہیں کہ کبھی ایسی بحث نظر سے گزری ہی نہیں نہ کبھی دھیان گیا۔ لیکن رباب واسطی صاحبہ نے جو قرآن سے استدلال پیش کیا ہے اس سے متفق ہوں۔ کہ اگر خالق خود مخلوق میں سے بہترین کو اعمال حسنہ سے مشروط کررہا ہے تو پھر یہی بات ٹھیک ہے۔ اس لئے بھی کہ اختیار اور اعمال کے بکھیڑے میں انسان کو ہی ڈالا گیا ہے نہ کہ دیگر کسی مخلوق کو۔ بکری کو بھوک لگی ہے تو اس نے کھانا ہی کھانا ہے لیکن انسان کو بھوک کی حالت میں اختیار دیا گیا ہے کہ چاہو تو کھالو چاہو تو چھوڑ کر خالق کی رضا پالو۔ بظاہر مغالطہ لگتا ہے کہ اختیار تو ابلیس کے پاس بھی تھا اس لئے وہ بھی اشرف کہلا سکتا ہے لیکن یہ مغالطہ اسی جگہ ہی دور ہوجاتا ہے جب نظر پڑتی ہے کہ اس اختیار کے باوجود اسے انسان کی فرمانبرداری کا حکم دے دیا گیا لہذا ابلیس اور انسان میں سے کون اشرف تھا یہ خالق نے اپنے عمل سے فیصلہ کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف انسان کو ہی اس بلند مقام تک شرف باریابی بخشا گیا جہاں دوسری کسی بھی مخلوق کو رسائی نہ تھی اور فرشتوں تک کے پر جلتے تھے۔ یہی ایک بات اسے اشرف المخلوقات بنادیتی ہے۔

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے بھی کئی دیئے گئے اختیار کا غلط استعمال کرتے ہیں تو پھر۔ اس کا جواب رباب واسطی صاحبہ کی طرف سے پیش کی گئی ایت میں ہے کہ اسی لئے اشرف المخلوقات کا خطاب بحثیت جنس انسان کو نہیں دیا گیا بلکہ اعمال صالحہ سے مشروط کردیا گیا ہے کیونکہ اسی انسان نے اختیار کا غلط استعمال کرکے بدترین مخلوق کا خطاب بھی پانا تھا۔ اس کی طرف قرآن شریف کی ایک آیت بھی اشارہ کرتی ہے جبکہ ایک حدیث میں تو بعینہٖ یہی الفاظ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق کے استعمال کئے گئے ہیں خالق کے نافرمان اور لوگوں میں فساد کا موجب بننے والوں کے لئے۔

    تو اس ساری گفتگو کا ماحصل یہ نکلا کہ اشرف المخلوقات کے خطاب کا مستحق ہے تو انسان ہی لیکن اعمال صالحہ کی شرط کے ساتھ۔ اور اگر صرف دنیاوی اور سائنسی طور پر دیکھیں تو پھر بھی انسان ہی اس خطاب کے لائق نظر اتا ہے نہ کہ انسان کے بنائے ہوئے اوزار۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 13, 2019
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  8. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,734
    انسان کا تقابل ایسی کون سی مخلوقات کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جو اُس سے زیادہ شرف یا بلند رتبہ کی حامل ہیں؟ ہماری موجودہ معلومات کے مطابق دیگر مخلوقات تو اس قابل بھی نہیں ہیں کہ اس طرح کے مکالمے میں شریک تک ہو سکیں۔ علوم و فنون کی بے مثل ترقی انسان کے ہاتھوں ہوئی ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انسان کا معاملہ دیگر مخلوقات سے الگ ہے؛ علم الاسماء اسے سکھلایا گیا۔ کم از کم دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق تو یہی صورت ہے۔ قرآن پاک کو موضوع بھی عمومی طور پر انسان ہے اور ہاں، کہیں کہیں جنات بھی۔ جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوقات کے حوالے سے ہماری معلومات زیادہ نہ ہیں تاہم یہ بات تو کافی حد تک حقیقت کے قریب معوم ہوتی ہے کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے، یہ الگ بات کہ اچھے اور برے اعمال کے باعث اس درجہ میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ تو پھر، کم از کم میسر معلومات کے مطابق! بقول شاعر، ہے کوئی ہم سا تو سامنے آئے! کوئی شیر، جیتا، بکری یا اژدھا وغیرہ! :) معذرت، ہماری شناسائی کا دائرہ اک ذرا محدود ہے! :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  9. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    سورۃ البینہ کے عمومی مضمون کو دیکھا جائے تو یہاں انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک طرف اہلِ کتاب و مشرکین اور دوسری طرف اہلِ ایمان۔ دونوں گروہوں کے تکذیب و تصدیق کے رویوں کو سامنے رکھتے ہوئے سزا و جزا واضح طور پر بیان کر دی گئی ہے۔
    مندرجہ بالا آیت جس سیاق و سباق میں آئی ہے وہاں "شرُ البریۃ" سے مراد اہلِ کتاب و مشرکین ہیں اور "خیرُ البریۃ" سے مراد اہلِ ایمان ہیں۔
    یہاں انسانوں کے دو گروہوں میں اعمال کی بنیاد پر فضیلت کا ذکر ہے۔پوری سورت میں دور دور تک ایسا کوئی قرینہ نہیں کہ انسانوں کا دوسری مخلوقات سے تقابل کا مفہوم اخذ کیا جائے۔
    اس سورت کے صوتی آہنگ کے پیشِ نظر"شرُ البریۃ" اور "خیرُ البریۃ" کے الفاظ لائے گئے ہیں، جن کا موقع و محل کے اعتبار سے درست مفہوم انسانوں کے دو گروہ ہی لیا جاسکتا ہے۔ سورہ کا مضمون اور آیت کا سیاق و سباق ان الفاظ کو تمام خلائق پر محمول کرنے میں مانع نظر آتے ہیں۔ واللہ اعلم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,647
    یا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
    لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے

    لفظ اشرف کہیں آیا ہو یا نہیں، انسان کی کرامت تقویٰ الٰہی اختیار کرنے میں ہے.
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,647
    انسان میں خدا نے اپنی روح پھونکی. انسان کا ایک پہلو روحانی ہے اور ایک جسمانی. روح کی پرواز عرش خدا تک ہے. یا اگر گرنا چاہے تو اسفل السافلین بن جائے
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    2,647
    ہر دوا جب بنائی جاتی ہے تو اسی طرح کے دعوے کیے جاتے ہیں جیسا کہ AI کے بارے میں کیے گئے.
    پھر اسی دوا کے سائیڈ افیکٹ سامنے آتے ہیں اور کچھ عرصے بعد وہ دوا واپس لے لی جاتی ہے
    AI کے معاملے میں سائنس دان بری طرح پھنسنے والے ہیں. اس پر بہت بحث ہورہی ہے. خان صاحب جلد ہی اسکا دوسرا رخ بیان کریں گے اور انسان کو اشرف المخلوقات ثابت کرکے بھی دکھا دیں گے. وہ خان ہیں اور خان کچھ بھی کرسکتا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  13. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت اہم بات کہی آپ نے!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  14. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ تمام دلائل بے شک بہت قوی ہیں ، لیکن میری ذہنی الجھن ابھی تک یہی ہے کہ سورہ بنی اسرائیل کی درج ذیل آیت کی مناسب توجیہہ کیا ہوسکتی ہے؟

    وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ [B]وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا[/B] تَفْضِيْلًا 70؀ۧ
    یہ تو ہماری عنایت ہے کہ بنی آدم کو بزرگی (عزت) دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت (فضیلت) بخشی۔

    یہاں واضح طور پر بہت سی مخلوقات پر فضیلت کا ذکر ہے، تمام مخلوقات پر نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 2
  15. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    خلقت کے اعتبار سے افضل ہونے اور اعمال کی بنیاد پر کسی فضیلت کا حق دار بننے کے مباحث کو اگر الگ رکھا جائے تو شاید گفتگو مرکوز رہے۔

    بنیادی سوال خلقی فضیلت کے لحاظ سے تھا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  16. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,734
    جو ایمان داری سے پوچھیں تو مرئی مخلوقات میں سے ہمیں کوئی مخلوق انسان کی ہم پلہ دکھائی نہیں دیتی ہے۔ غیر مرئی مخلوقات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے جن کا تعلق شاید اس دنیا سے نہ ہو یا پھر اس کائنات میں کوئی اور مخلوق بستی ہو گی جو کہ فی الوقت ہمارے لیے غیر مرئی ہی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
  17. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    یہی قرینِ قیاس ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    مذہب جن غیر مرئی ذی شعور مخلوقات کا ذکر کرتا ہے، ان میں جن اور فرشتے شامل ہیں۔ تو مذہب کے مطابق تین ذی شعور مخلوقات ہوگئیں۔ انسان، جن اور فرشتے۔
    ان میں انسان فضیلت کے اعتبار سے کہاں مقام پاتا ہے؟
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,260
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    آخری نمبر پر (اگر ان کا وجود ہے)

    پہلے نمبر پر (اگر ان کا وجود نہیں)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  20. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,734
    اس کا موزوں جواب شاید سید عمران بھیا بہتر طور پر دے پائیں گے۔
     

اس صفحے کی تشہیر