کیا آپ پیشہ ور گداگروں کو بھیک دیتے ہیں؟

کیا آپ پیشہ ور گداگروں کو بھیک دیتے ہیں؟

  • ہاں

    Votes: 1 5.3%
  • نہیں

    Votes: 7 36.8%
  • کبھی کبھی

    Votes: 11 57.9%

  • Total voters
    19

فاخر

محفلین
پیشہ ور فقیر ہر جگہ ہیں۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نشانی بتا دی کہ وہ پکڑ پکڑ کر نہیں مانگتے اور ہم ان کو ان کے حلیے سے پہچان لیں گے۔ میں پیشہ ور فقیروں کو بھیک نہیں دیتی۔ کبھی مشورہ دوں کہ کوئی کام کیوں نہیں کرتے تو وہ بے نیازی سے آگے چل دیتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ کام نہیں ملتا تو میں انھیں آفر کرتی ہوں تو پھر بھی آگے چل پڑتے ہیں۔:) اب میں نے کہنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ بس معاف کریں کہہ دیتی ہوں لیکن دیتی کبھی نہیں۔
پیشہ ور فقیر اکثر تو چوک پہ ہوتے ہیں۔ اکثر جوان خواتین و حضرات ہوتے ہیں۔ کسی کسی خاتون کے پاس بچہ بھی ہوتا ہے۔ کوئی کوئی مرد زخمی ہونے کا ڈھونگ رچائے ہوتا ہے اور ؎اتنے بڑے زخم؎ کے باوجود اسے ذرا درد نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ نشہ بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ فرید گیٹ پہ ایک معزور فقیر کو اکثر دیکھا۔ ایک دن ایک اور فقیر کے ساتھ بیٹھا عین فرید گیٹ کے ساتھ نشہ کر رہا تھا۔ آج کل وہاں نہیں ہے۔
کچھ فقیروں نے وہیل چئیر کو چلانے کے لیے کوئی بندہ/بندی کرائے پہ رکھا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر پہچانے جاتے ہیں کہ پہشہ ور فقیر ہیں۔
اور جو حقیقتاََ حق دار ہیں، ان تک اکثر مدد نہیں پہنچتی۔ اس رمضان میں بھی اللہ نے ہم سے مدد کے بہت سے کام لیے۔ ان میں سے ایک واقعہ سناتی ہوں۔ عید سے پہلے جس دن چھٹیاں ہوئیں۔۔۔ میری ایک منہ بولی بہن نے مجھے بتایا کہ ان کے سکول میں دو بہن بھائی پڑھتے ہیں۔ ان کی امی آتی ہیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو جمے نظر آتے ۃیں۔ بیوہ خاتون ہیں۔ پہلے کوئی شخص مہینہ کا راشن ڈلواتا تھا۔ لیکن پھر وہ لاہور چلا گیا۔ آج کل کوئی پُرسانِ حال نہیں اُن کا۔ اور آج بچے کے تھیلے میں، میں نے چائے کی پتی کا چھوٹا سا ساشے اور تھوڑی سی چینی شاپر میں دیکھی تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ امی نے کہا تھا کہ سکول سے آتے ہوئے لیتے آنا۔ میں نے صبح ہی لے کے بستے میں رکھ لیں۔
ان کا گھر بستی میں ہے۔
میں نے بہن سے کہا کہ اس کے گھر راشن ڈلواتے ہیں تو وہ کہنے لگی کہ اسے گھر کا نہیں پتہ۔ اب تو جب سکول کھلیں گے تب ہی پتہ کر کے مدد کیجیے گا۔ مجھے بے چینی لگی ہوئی تھی ۔ میں نے گاڑی کا انتظام کرنے کی کوشش کی لیکن نہیں ہو سکا۔ پھر رکشہ پہ امی جی کے ساتھ چلی۔ انھیں رشتہ داروں کے ہاں اتارا اور بہن کو لے کے پوچھتے پچھاتے ، کچے راستوں پہ ڈولتے ، اچھلتے ۔۔۔ اللہ کے حکم سے پہنچے اس خاتون کی ساس کے پاس۔ انھیں لے کے خاتون کے گھر۔
وہ موجود نہیں تھیں لیکن گھر کھلا تھا۔ بس ۔۔۔۔ پھر وہ آئیں۔ بڑی بیٹی نانی کے ساتھ گھاس کاٹنے گئی ہوئی تھی اور باقی دونوں چھوٹے بچے ساتھ تھے۔ ایک ننگے پاؤں اور ایک نے ٹوٹے چپل۔ خاتون خوبصورت اور کم عمر تھیں لیکن غربت نے حال بے حال کیا ہوا تھا۔ ایک راشن انھیں اور ایک ساس کو دیا۔ ان کے کسی انداز سے نہیں لگتا تھا کہ یہ لینا چاہتی ہیں۔ نہ چہرے پہ لالچ۔ بس راشن دیکھ کے ایک اطمینان کی تھوڑی سی کیفیت تھی۔
سکول کھلنے پہ بہن نے لڑکے کی ویڈیو بھیجی جس میں اس نے صاف ستھرے کپڑے پہنے تھے اور لگتا تھا کہ کھانا کھایا ہوا ہے۔
کیسے اللہ مدد کرتا ہے۔ میرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، جیسے ہی اس واقعہ کا تصور کر کے اللہ کی عظمت و کبریائی کا احساس ہوتا ہے۔ کسیے وہ کسی کے دل میں ڈالتا ہے، اٹھا کے لے جاتا ہے۔
ایسے لوگ حق دار ہوتے ہیں۔ اس خاتون کے میاں مجاور تھے اور دل کے دورے سے وفات پا گئے۔ ان کی بستی میں باقی لوگ بھی بس اسی طرح کے تھے۔ دل تو چاہتا ہے کہ ایسے سب لوگوں کی مدد کی جائے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اس خاتون کو کام کرنا چاہیے تو بھلا وہ کیا کام کر سکتی ہیں؟ نہ کوئی کارخانہ ہے وہاں، شہر دور، اور ان کے پاس کے علاقوں میں گھروں میں کام کرنے پہ بہت تھوڑا معاوضہ ملتا ہے۔ خود خاتون کی صحت کمزور۔ چھوٹے بچے۔

آپ کے اس واقعہ سے بہت متأثر ہوا ہوں ، واقعی ایسے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، لاک ڈاؤن کے بعد ایسے کئی واقعات سننے کو ملے ہیں۔

کبھی خیا ل آتا ہے کہ ایسے لوگوں کی امداد کے لئے کوئی متحرک اور فعال این جی او قائم کروں ؛لیکن کچھ ایسے فرائض لاحق ہیں کہ ان سے فرصت ہی نہیں ملتی ۔
دعا کیجئے کہ اللٰہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کردے کہ غریبوں و محتاجوں کے کام آسکیں۔ آمین ثم آمین ۔
 

جاسمن

مدیر
آپ کے اس واقعہ سے بہت متأثر ہوا ہوں ، واقعی ایسے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، لاک ڈاؤن کے بعد ایسے کئی واقعات سننے کو ملے ہیں۔

کبھی خیا ل آتا ہے کہ ایسے لوگوں کی امداد کے لئے کوئی متحرک اور فعال این جی او قائم کروں ؛لیکن کچھ ایسے فرائض لاحق ہیں کہ ان سے فرصت ہی نہیں ملتی ۔
دعا کیجئے کہ اللٰہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کردے کہ غریبوں و محتاجوں کے کام آسکیں۔ آمین ثم آمین ۔
اللہ آپ کے ارادوں کی تکمیل کا سامان کرے۔ آسانیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین!
لیکن جو کچھ آپ کر رہے ہیں، ماشاءاللہ اور الحمداللہ بہت احسن ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔ آمین!
ہم بھی ایک ننھی منی سی این جی او چلاتے ہیں۔ بس چند لوگ ہیں۔ اور چند کام چن لیے ہیں۔ کچھ لوگوں کی مستقل مدد کا وسیلہ اللہ نے بنایا ہوا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پہ تو نہیں لیکن الحمداللہ
جاری ہیں چھوٹے چھوٹے سلسلے۔
 

یاقوت

محفلین
اللہ آپ کے ارادوں کی تکمیل کا سامان کرے۔ آسانیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین!
لیکن جو کچھ آپ کر رہے ہیں، ماشاءاللہ اور الحمداللہ بہت احسن ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔ آمین!
ہم بھی ایک ننھی منی سی این جی او چلاتے ہیں۔ بس چند لوگ ہیں۔ اور چند کام چن لیے ہیں۔ کچھ لوگوں کی مستقل مدد کا وسیلہ اللہ نے بنایا ہوا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پہ تو نہیں لیکن الحمداللہ
جاری ہیں چھوٹے چھوٹے سلسلے۔
بڑے بڑے سیمیناروں اور اور الفاظ کے رندوں سے بہتر وہ ایک چھوٹا سا عمل ہوتا ہے جو عملی طور پر اٹھایا جاتا ہے۔
 

سید عمران

محفلین
سنتے ہیں کہ انھوں نے برائیوں کے اڈے ختم کرائے تھے، اُس جگہ سے تو ختم ہو گئے لیکن پورے شہر میں پھیل گئے۔
حالاں کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان خواتین کی مالی اعانت کی جاتی اور ان کے پاس کسی کو آنے نہیں دیا جاتا۔۔۔
یہ خواتین مجبوری کی وجہ سے بازار میں بیٹھتی ہیں۔ ان کی مجبوری دور کردی جائے تو اکثریت ویسے ہی تائب ہوجائے گی۔۔۔
کون چاہتا ہے کہ اس کے پاس گندے بدبودار غلیظ لوگ آئیں!!!
 

Khursheed

محفلین
سنتے ہیں کہ انھوں نے برائیوں کے اڈے ختم کرائے تھے، اُس جگہ سے تو ختم ہو گئے لیکن پورے شہر میں پھیل گئے۔

حالاں کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان خواتین کی مالی اعانت کی جاتی اور ان کے پاس کسی کو آنے نہیں دیا جاتا۔۔۔
یہ خواتین مجبوری کی وجہ سے بازار میں بیٹھتی ہیں۔ ان کی مجبوری دور کردی جائے تو اکثریت ویسے ہی تائب ہوجائے گی۔۔۔
کون چاہتا ہے کہ اس کے پاس گندے بدبودار غلیظ لوگ آئیں!!!
سارا زور اڈے ختم کرنے پر لگادیا جبکہ برائی کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
 

جاسمن

مدیر
سارا زور اڈے ختم کرنے پر لگادیا جبکہ برائی کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔
حالاں کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان خواتین کی مالی اعانت کی جاتی اور ان کے پاس کسی کو آنے نہیں دیا جاتا۔۔۔
یہ خواتین مجبوری کی وجہ سے بازار میں بیٹھتی ہیں۔ ان کی مجبوری دور کردی جائے تو اکثریت ویسے ہی تائب ہوجائے گی۔۔۔
کون چاہتا ہے کہ اس کے پاس گندے بدبودار غلیظ لوگ آئیں!!!
وجوہات کا تدارک نہیں کرتے۔ گویا جڑوں کو ویسے ہی رہنے دینا اور شاخوں کو کاٹتے رہنا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
حالاں کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان خواتین کی مالی اعانت کی جاتی اور ان کے پاس کسی کو آنے نہیں دیا جاتا۔۔۔
یہ خواتین مجبوری کی وجہ سے بازار میں بیٹھتی ہیں۔ ان کی مجبوری دور کردی جائے تو اکثریت ویسے ہی تائب ہوجائے گی۔۔۔
کون چاہتا ہے کہ اس کے پاس گندے بدبودار غلیظ لوگ آئیں!!!

اس معاملے میں بھی مافیاز ملوث ہوتے ہیں۔ انفرادی معاملہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔
 

فاخر

محفلین
اللہ آپ کے ارادوں کی تکمیل کا سامان کرے۔ آسانیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین!
لیکن جو کچھ آپ کر رہے ہیں، ماشاءاللہ اور الحمداللہ بہت احسن ہے۔ اللہ قبول فرمائے۔ آمین!
ہم بھی ایک ننھی منی سی این جی او چلاتے ہیں۔ بس چند لوگ ہیں۔ اور چند کام چن لیے ہیں۔ کچھ لوگوں کی مستقل مدد کا وسیلہ اللہ نے بنایا ہوا ہے۔ بہت بڑے پیمانے پہ تو نہیں لیکن الحمداللہ
جاری ہیں چھوٹے چھوٹے سلسلے۔
آمین ثم آمین
اللٰہ تعالیٰ اس تھوڑی سی ہی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے آمین ثم آمین ۔
 

فاخر

محفلین
حالاں کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان خواتین کی مالی اعانت کی جاتی اور ان کے پاس کسی کو آنے نہیں دیا جاتا۔۔۔
یہ خواتین مجبوری کی وجہ سے بازار میں بیٹھتی ہیں۔ ان کی مجبوری دور کردی جائے تو اکثریت ویسے ہی تائب ہوجائے گی۔۔۔
کون چاہتا ہے کہ اس کے پاس گندے بدبودار غلیظ لوگ آئیں!!!

آپ سے اس تبصرہ سے شورش کاشمیری کی ’’اس بازار سے ‘‘ کی کہانیاں پھر تازہ ہوگئیں ۔

عجب کیا ہے ، فلاں ابن فلاں کی مہربانی سے
گدائی مرحلوں کے بعد اس بازار میں پہنچے
بہ ایں حالِ زبوں عصمت کی تابانی گنوا بیٹھے
غریبی بیچ دے اور پہلوئے زردار میں پہنچے!

تاریخ الفحشاء میں مختلف النوع دلدوز واقعات درج ہیں ۔ کبھی معاشی مجبوریاں ہیں تو کبھی اپنی غلطیوں کی سزا ۔
ہمیں اس سلسلے میں اپنے طور پر اقدامات کرنے چاہیے تاکہ معاشرہ سے یہ ناسور ختم ہو؛لیکن یہ ناسور اسی وقت ختم ہوسکتا ہے ، جب اہل ثروت اور رؤسا اور سیاستداں سچے طور پر پُر عزم بھی ہوں، ورنہ تاریخ الفحشاء کے مطابق ان ہی اہل زر اور صاحب استطاعت کی وجہ سے ’’ہوس کی دھوم ‘‘ گلی گلی اور نگر نگر ہے ۔
 

جاسمن

مدیر
آپ سے اس تبصرہ سے شورش کاشمیری کی ’’اس بازار سے ‘‘ کی کہانیاں پھر تازہ ہوگئیں ۔

عجب کیا ہے ، فلاں ابن فلاں کی مہربانی سے
گدائی مرحلوں کے بعد اس بازار میں پہنچے
بہ ایں حالِ زبوں عصمت کی تابانی گنوا بیٹھے
غریبی بیچ دے اور پہلوئے زردار میں پہنچے!

تاریخ الفحشاء میں مختلف النوع دلدوز واقعات درج ہیں ۔ کبھی معاشی مجبوریاں ہیں تو کبھی اپنی غلطیوں کی سزا ۔
ہمیں اس سلسلے میں اپنے طور پر اقدامات کرنے چاہیے تاکہ معاشرہ سے یہ ناسور ختم ہو؛لیکن یہ ناسور اسی وقت ختم ہوسکتا ہے ، جب اہل ثروت اور رؤسا اور سیاستداں سچے طور پر پُر عزم بھی ہوں، ورنہ تاریخ الفحشاء کے مطابق ان ہی اہل زر اور صاحب استطاعت کی وجہ سے ’’ہوس کی دھوم ‘‘ گلی گلی اور نگر نگر ہے ۔
کسی سماجی برائی کو دور کرنے کے لیے دو تدابیر ہیں۔
1. برائی کو ختم کرنے کی کوشش
2. ایسی مثبت تبدیلیوں کے لیے کوشش کہ وہ برائی جنم ہی نہ لے سکے۔
تو جو شخص اپنے حصے کا جو کام آسانی سے کر سکتا ہے، ضرور کرے۔
 

فاخر

محفلین
قحبہ گری ہر مہذب معاشرہ کا ناسور ہے !
اِس سلسلے میں میری چند معروضات تھیں ۔ میں یہ دعویٰ تو نہیں کرسکتا کہ میں نے ’اُس بازار سے ‘ کو حرفاً حرفاً پڑھا ہے؛ سچ پوچھئے تو پورا پڑھنے کی مجھ میں سکت ہی نہیں ہے ۔ جب کہ یہ حالات و واقعات آج کے نہیں ہیں ، تقریباً ہم سے نصف صدی پہلے کے ہیں ۔ اِسی طرح کلکتہ اور دہلی کے قحبہ خانوں کی اپنی اپنی روداد ہے، اس کی روداد کئی سال قبل بھارت کے معروف نیوز اینکر رویش کمار کی کئی قسطوں پر مشتمل رپورٹ میں موجود ہے ۔ میری چند معروضات ہیں۔
1:- بیوہ اور یتیموں کے لئے ریاست اپنے طور پر باضابطہ وظیفہ مقرر کرے
2:- جو خاتون بے سہارا ہیں ، انہیں بھی حکومت وظیفہ دے ، اس سلسلے میں این جی اوز اور رفاہی تنظیموں بھی اپنا اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں ۔
3:- جو خاتون اِس فحش پیشہ سے وابستہ ہیں ، اِن خواتین کے لئے زمینی سطح پر باز آباد کاری کیلئے کام کئے جائیں ،اس سلسلے میں رفاہی تنظیمیں اور این جی اوز بہتر اقدامات کرسکتی ہیں ۔ اِن خواتین کے لئے کوئی گھریلو کام جیسے زر دوزی، تھیلے کی بُنائی ، کپڑے کی بُنائی اور سلائی کڑھائی کے شعبے سے جوڑا جا سکتا ہے ۔اگر ان خواتین سے دوسرے افراد بھی جڑے ہوں تو انہیں بھی کسی معزز پیشہ سے جوڑا جاسکتا ہے۔
سب سے اہم مؤدبانہ التماس:
4:
- بچے خواہ لڑکے ہوں یا لڑکی ، انہیں ویڈیو گیم ، موبائل فون، اجنبی شخص سے شناسائی وغیرہم سے دُور رکھا جائے ۔ یہ وہی راستے ہیں ، جس پر چل کر بدنامی، معاشرہ میں جگ ہنسائی ہوتی ہے پھر بعد ازاں قحبہ خانے تک کے راستے صاف ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ میں صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہوں ، اِ س لئے ہندوستان بھر میں پیش آنے والے واقعات سے تجربہ ہوتا ہے کہ فسادات کی اصل جڑ موبائل کے ذریعہ ’غیر سے شناسائی‘ ہی ہے ۔
ابھی پورے ملک (ہندوستان ) میں آر ایس ایس حکمراں جماعت کی سرپرست تنظیم کی طرف سے ’’گھر واپسی ‘‘ نام کی پُر زور مگر خفیہ تحریک چلائی جا رہی ہے ، جس کے ذریعہ ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں کو ورغلا کر جھوٹے عشق میں پھنسا کر ہندو بناتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد ان لڑکیوں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں ۔ کئی ایسے واقعات خود راقم کے علم میں ہیں ۔ اس لئے بچوں کو ان واہیات سے دور رکھیں ۔
 
قحبہ گری ہر مہذب معاشرہ کا ناسور ہے !
اِس سلسلے میں میری چند معروضات تھیں ۔ میں یہ دعویٰ تو نہیں کرسکتا کہ میں نے ’اُس بازار سے ‘ کو حرفاً حرفاً پڑھا ہے؛ سچ پوچھئے تو پورا پڑھنے کی مجھ میں سکت ہی نہیں ہے ۔ جب کہ یہ حالات و واقعات آج کے نہیں ہیں ، تقریباً ہم سے نصف صدی پہلے کے ہیں ۔ اِسی طرح کلکتہ اور دہلی کے قحبہ خانوں کی اپنی اپنی روداد ہے، اس کی روداد کئی سال قبل بھارت کے معروف نیوز اینکر رویش کمار کی کئی قسطوں پر مشتمل رپورٹ میں موجود ہے ۔ میری چند معروضات ہیں۔
1:- بیوہ اور یتیموں کے لئے ریاست اپنے طور پر باضابطہ وظیفہ مقرر کرے
2:- جو خاتون بے سہارا ہیں ، انہیں بھی حکومت وظیفہ دے ، اس سلسلے میں این جی اوز اور رفاہی تنظیموں بھی اپنا اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں ۔
3:- جو خاتون اِس فحش پیشہ سے وابستہ ہیں ، اِن خواتین کے لئے زمینی سطح پر باز آباد کاری کیلئے کام کئے جائیں ،اس سلسلے میں رفاہی تنظیمیں اور این جی اوز بہتر اقدامات کرسکتی ہیں ۔ اِن خواتین کے لئے کوئی گھریلو کام جیسے زر دوزی، تھیلے کی بُنائی ، کپڑے کی بُنائی اور سلائی کڑھائی کے شعبے سے جوڑا جا سکتا ہے ۔اگر ان خواتین سے دوسرے افراد بھی جڑے ہوں تو انہیں بھی کسی معزز پیشہ سے جوڑا جاسکتا ہے۔
سب سے اہم مؤدبانہ التماس:
4:
- بچے خواہ لڑکے ہوں یا لڑکی ، انہیں ویڈیو گیم ، موبائل فون، اجنبی شخص سے شناسائی وغیرہم سے دُور رکھا جائے ۔ یہ وہی راستے ہیں ، جس پر چل کر بدنامی، معاشرہ میں جگ ہنسائی ہوتی ہے پھر بعد ازاں قحبہ خانے تک کے راستے صاف ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ میں صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہوں ، اِ س لئے ہندوستان بھر میں پیش آنے والے واقعات سے تجربہ ہوتا ہے کہ فسادات کی اصل جڑ موبائل کے ذریعہ ’غیر سے شناسائی‘ ہی ہے ۔
ابھی پورے ملک (ہندوستان ) میں آر ایس ایس حکمراں جماعت کی سرپرست تنظیم کی طرف سے ’’گھر واپسی ‘‘ نام کی پُر زور مگر خفیہ تحریک چلائی جا رہی ہے ، جس کے ذریعہ ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں کو ورغلا کر جھوٹے عشق میں پھنسا کر ہندو بناتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد ان لڑکیوں کو بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں ۔ کئی ایسے واقعات خود راقم کے علم میں ہیں ۔ اس لئے بچوں کو ان واہیات سے دور رکھیں ۔
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر نبوت پوری پوری پہنچادی ہے ۔ جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اولیاء اکرام اور اِماموں سے ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے ۔ اب اگر اِس تعلیم کو ہم آگے نا بڑھائیں گے تو جوترقی اور برکت قرآن وسنت پر عمل کرنے کی وجہ سے آنی تھی اُس سے محروم ہوجائیں گے اور اِس کی وجہ
سے جو زوال آتا ہے وہ سب کو ہی برداشت کرنا ہوگا ۔
آپ کی بات اچھی ہےآج کےدور میں ہنر مندہونابہت ضروری ہے چاہے وہ لڑکی ہو یا لڑکا بہت سے ایسے مسائل جو صرف اور صرف بیروزگاری کی وجہ سے لوگ
کربیٹھتے ہیں اور بعد میں اُس کے عادی ہوجاتے ہیں اِس عمل سے بھی نجات مِل سکتی ہے۔
میں تو صرف اور صرف ایک مشورہ دونگا اپنی پاکستانی عوام کو کہ ہر بندہ اپنی کمائی میں سے صرف ڈھائی پرسنٹ غریبوں اور محتاجوں کے لئے نکالنا شروع کردے تو کوئی بھی غریب نہ بچے ہمارا ملک بھی ایک خوشحال ملک ہوجائے پر بات یہ ہی ہے کہ عمل جب تک عمل نہ ہوگا جب تک کچھ بھی نہیں ہوسکتا ۔
 
آپ کے اس واقعہ سے بہت متأثر ہوا ہوں ، واقعی ایسے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، لاک ڈاؤن کے بعد ایسے کئی واقعات سننے کو ملے ہیں۔

کبھی خیا ل آتا ہے کہ ایسے لوگوں کی امداد کے لئے کوئی متحرک اور فعال این جی او قائم کروں ؛لیکن کچھ ایسے فرائض لاحق ہیں کہ ان سے فرصت ہی نہیں ملتی ۔
دعا کیجئے کہ اللٰہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کردے کہ غریبوں و محتاجوں کے کام آسکیں۔ آمین ثم آمین ۔
ضروری نہیں ہے کہ این جی اوز بنائیں آپ کسی این جی اوز کو بھی مدد کرسکتے ہیں پہلے ہی اتنی این جی اوز بنی ہوئی ہیں بس آپ دیکھ لیں کہ کون سی بہتر ہے وہاں دے دیا کریں۔
 
کسی سماجی برائی کو دور کرنے کے لیے دو تدابیر ہیں۔
1. برائی کو ختم کرنے کی کوشش
2. ایسی مثبت تبدیلیوں کے لیے کوشش کہ وہ برائی جنم ہی نہ لے سکے۔
تو جو شخص اپنے حصے کا جو کام آسانی سے کر سکتا ہے، ضرور کرے۔
بات ساری کوشش کی ہی ہے جب کوشش کریں گے تو کامیاب بھی ہوجائیں گے انشاء اللہ
 
آج ایک شخص کو دیکھا جو پہلے درزی کا کام کرتا تھا کسی وجہ سے اُس کی آنکھیں چلی گئی جوان تھا گھر والوں نے بھی برداشت نہ کیا اور اُسے باہر نکال دیا آج دیکھتا ہوں اُسے تو کبھی کہیں اگر بتی بیچ رہا ہوتا ہے تو کہیں بھیک مانگ رہا ہوتا ہے پر لوگ جوان ہونے کی وجہ سے اُسے بھیک بھی نہیں دیتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہا ہے ۔ آج میں کہیں سے واپس آرہا تھا تو اُسے دیکھا کہ ایک کار کے بونٹ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوا ہے اور کار والا اُسے بُرا بھلا بول رہا ہے پر اُسے کچھ فرق نہیں پڑ رہا ایک شخص اُس کے پاس گیا اور اُسے وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی پر اُس نے کہا کہ ہٹ جاو یہاں سے میرے خیال میں شاید وہ اب تنگ آچکا ہے اِس زندگی سے اللہ اُسپر اور ہم پر اپنا خاص کرم فرمائے آمین
 

سید عمران

محفلین
آج ایک شخص کو دیکھا جو پہلے درزی کا کام کرتا تھا کسی وجہ سے اُس کی آنکھیں چلی گئی جوان تھا گھر والوں نے بھی برداشت نہ کیا اور اُسے باہر نکال دیا آج دیکھتا ہوں اُسے تو کبھی کہیں اگر بتی بیچ رہا ہوتا ہے تو کہیں بھیک مانگ رہا ہوتا ہے پر لوگ جوان ہونے کی وجہ سے اُسے بھیک بھی نہیں دیتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہا ہے ۔ آج میں کہیں سے واپس آرہا تھا تو اُسے دیکھا کہ ایک کار کے بونٹ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوا ہے اور کار والا اُسے بُرا بھلا بول رہا ہے پر اُسے کچھ فرق نہیں پڑ رہا ایک شخص اُس کے پاس گیا اور اُسے وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی پر اُس نے کہا کہ ہٹ جاو یہاں سے میرے خیال میں شاید وہ اب تنگ آچکا ہے اِس زندگی سے اللہ اُسپر اور ہم پر اپنا خاص کرم فرمائے آمین
پھر آپ نے اس کی کیا مدد کی؟؟؟
 
Top