کہنے کو تو گلشن میں ہیں رنگ رنگیلے پھول ( محمد احمد )

پچھلے دنوں شاعرِ خوش بیان محمد احمد بھائی کے بلاگ ’’رعنائیِ خیال‘‘ پر جانا ہوا تو ان کی یہ تازہ غزل نظر آئی ۔ احمد بھائی کی اجازت کے بغیر یہ غزل اس گلدستۂ سخن میں شامل کرہا ہوں ۔ ان کے مخصوص لہجے اور لفظیات کی حامل یہ غزل وہی تاثر اور فضا لئے ہوئے ہے کہ جو اُن کے کلام میں بالعموم نظر آتی ہے ۔


کہنے کو تو گلشن میں ہیں رنگ رنگیلے پھول
روشن آنکھیں عنقا ہوں تو سارے رنگ فضول

خوشیاں اپنی الم غلم، غم بھی اول جلول
شکر کہ پھر بھی دامن میں ہیں کچھ کانٹے کچھ پھول

دل میں کچھ اور منہ پر کچھ تو سب باتیں بے کار
ہو ناپید اخلاص کی خوشبو تو سب پھو ل ببول

کیا تم کو معلوم ہے تم نے کیوں کر مجھ کو مارا
آج کہیں یہ پوچھ رہا تھا قاتل سے مقتول

یارو! اس سے اخذ کروں میں آخر کیا مفہوم
اُس نے خط کے ساتھ پرویا اک کانٹا، ایک پھول

پوچھو تو یہ لوگ کوئی بھی کام نہیں ہیں کرتے
دیکھنے میں جو لگتے ہیں ہر دم، ہر پل مشغول

سُندر لب جب پیار سے زرّیں لاکٹ چومتے ہیں
مہر و وفا کے جذبے کتنے لگتے ہیں مجہول

کاش ہمیں بھی آوارہ گردی کی مہلت ملتی
قریہ قریہ خاک اُڑاتے بستی بستی دھول

اس نے کسی سے کہا نہیں وہ شعر بھی کہتا ہے
اِسی لئے تو لوگ سمجھتے ہیں اُس کو معقول

تم کو احمدؔ شعر و سخن کی کیسے چاٹ لگی
شہر میں تو کچھ اور بھی ہوں گے تنہا اور ملول



محمد احمدؔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۸

 
آخری تدوین:
دل میں کچھ اور منہ پر کچھ تو سب باتیں بے کار
ہو ناپید اخلاص کی خوشبو تو سب پھو ل ببول

پوچھو تو یہ لوگ کوئی بھی کام نہیں ہیں کرتے
دیکھنے میں جو لگتے ہیں ہر دم، ہر پل مشغول
لاجواب غزل۔ شراکت کا شکریہ۔ :)
 

جاسمن

لائبریرین
پھر سے پڑھی ہے تو لگ رہا ہے کہ پہلی بار پڑھ رہی ہوں۔
بہت ہی خوبصورت
خوبصورت ترین
ندرت لیے اشعار
حسین خیال
اعلی درجہ کے الفاظ میں گُندھے ہوئے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
پھر سے پڑھی ہے تو لگ رہا ہے کہ پہلی بار پڑھ رہی ہوں۔
بہت ہی خوبصورت
خوبصورت ترین
ندرت لیے اشعار
حسین خیال
اعلی درجہ کے الفاظ میں گُندھے ہوئے۔

آپ کے ساتھ ہم نے بھی دوبارہ (بلکہ نہ جانے کونسی ویں بار ) پڑھ لی۔ :)
 
Top