کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا - رانا سعید دوشی

گل جی

محفلین
کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت ميں مارا جاؤں گا

میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا

مجھے بتایا ہوا ہے مری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا

مرا یہ خون مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا

یہاں کمان اٹھانا مری ضرورت ہے
وگرنہ میں بھی شرافت میں مارا جاؤں گا

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

فراغ میرے لیے موت کی علامت ہے
میں اپنی پہلی فراغت میں مارا جاؤں گا

نہیں مروں گا کسی جنگ میں یہ سوچ لیا
میں اب کی بار محبت میں مارا جاؤں گا

رانا سعید دوشی، واہ کینٹ
 

تلمیذ

لائبریرین
نہایت عُمدہ غزل ہے۔ ہر شعر میں ایک اچھوتا خیال پیش کیا گیا ہے، جو اپنی جگہ پر زندگی کی تلخ حقیقیتوں کا غماز ہے۔ لیکن اتنی اچھی اور معیاری کاوش کے خالق کا نام پہلے نہیں سنا۔

اسے شٔیر کرنے کے لئے شکر گزاری گل جی!!
 

نوید صادق

محفلین
رانا سعید دوشی غزل نظم کے خوبصورت شاعر ہیں۔ ٹیکسلا کے کھنڈرات میں پائے جاتے ہیں۔ کچھ دن ہمارے بھی انہی کھنڈرات میں گزرے تو دوشی سے کمال کی دوستی ہو گئی۔
گل جی! شکریہ آپ نے ہمیں ہمارا دوشی یاد دلا دیا۔
 

گل جی

محفلین
آپ سب سینیئر ممبران کی تعریف کا شکریہ ۔ میں انشا اللہ آئندہ بھی اچھاکلام پوسٹ کرنے کی کوشش کروں گا!
 

محمد وارث

لائبریرین
اس خوبصورت غزل کے دو مزید اشعار

میں ورغلایا ہوا لڑرہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا

بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا
 

طارق شاہ

محفلین
اس خوبصورت غزل کے دو مزید اشعار

میں ورغلایا ہوا لڑرہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا

بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا

مرا یہ خون، مرے دشمنوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست ميں مارا جاؤں گا


میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

کیا کہنے صاحب!
 

محمد وارث

لائبریرین
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

رانا سعید دوشی، واہ کینٹ

یہ رانا صاحب کی انتہائی خوبصورت غزل ہے۔ اور جو شعر اوپر ہے اس کے بارے میں لوگوں کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں۔

یہ کوئی محترمہ سمیرا عتیق ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

بولوں اگر میں جھوٹ تو مرجائے گا ضمیر
کہہ دوں اگر میں سچ تو مجھے ماردینگے لوگ
-----------

اور یہ کوئی فرحان منظور صاحب ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

چُپ رہا تو مار ڈالے گا مجھے میرا ضمیر
لب اگر کھولے تو کوئی مار ڈالے گا مجھے
 

محمداحمد

لائبریرین
یہ رانا صاحب کی انتہائی خوبصورت غزل ہے۔ اور جو شعر اوپر ہے اس کے بارے میں لوگوں کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں۔

یہ کوئی محترمہ سمیرا عتیق ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

بولوں اگر میں جھوٹ تو مرجائے گا ضمیر
کہہ دوں اگر میں سچ تو مجھے ماردینگے لوگ
-----------

اور یہ کوئی فرحان منظور صاحب ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

چُپ رہا تو مار ڈالے گا مجھے میرا ضمیر
لب اگر کھولے تو کوئی مار ڈالے گا مجھے

یوں تو حق بات کہنے پر مارے جانے کا خوف ایک عمومی شعری مضمون ہے کہ بقول : ابن انشاء

حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا​

لیکن ان تینوں اشعار میں اتنی زیادہ مماثلت ہے کہ اسے محض اتفاق کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
یوں تو حق بات کہنے پر مارے جانے کا خوف ایک عمومی شعری مضمون ہے کہ بقول : ابن انشاء

حق اچھا، پر اس کے لئے کوئی اور مرے تو اور اچھا​

لیکن ان تینوں اشعار میں اتنی زیادہ مماثلت ہے کہ اسے محض اتفاق کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

جی ہاں بلکہ پورا پورا مصرع بھی ایک جیسا ہے۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
یہ رانا صاحب کی انتہائی خوبصورت غزل ہے۔ اور جو شعر اوپر ہے اس کے بارے میں لوگوں کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں۔

یہ کوئی محترمہ سمیرا عتیق ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

بولوں اگر میں جھوٹ تو مرجائے گا ضمیر
کہہ دوں اگر میں سچ تو مجھے ماردینگے لوگ
-----------

اور یہ کوئی فرحان منظور صاحب ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

چُپ رہا تو مار ڈالے گا مجھے میرا ضمیر
لب اگر کھولے تو کوئی مار ڈالے گا مجھے

یہ فرحان منظور نہیں بلکہ فرخ منظور ہے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اور یہ کوئی فرحان منظور صاحب ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے

چُپ رہا تو مار ڈالے گا مجھے میرا ضمیر
لب اگر کھولے تو کوئی مار ڈالے گا مجھے

نئے نئے نام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رانا صاحب کی غزل کا فیضان دور دور تک پہنچنے کا امکان ہے۔ :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
نئے نئے نام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رانا صاحب کی غزل کا فیضان دور دور تک پہنچنے کا امکان ہے۔ :)

عرض کیا یہ فرحان منظور نہیں بلکہ فرخ منظور ہے اور میں نے پہلی بار رانا سعید دوشی کی یہ غزل پڑھی ہے۔ یہ خیال سبین محمود کے قتل کے بعد آیا اور اسے شعر کا جامہ پہنایا۔
 
Top