کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی

احبابِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش ہے۔ آپ سب کے حسنِ ذوق کی نذر! گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭

کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی

مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں
نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی

اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی

وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی

ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی

نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی

مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی

مری چشمِ خوش گماں تُو! مری دوست ہے کہ دشمن
تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی

-ق-
ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی

کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس
شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی

٭٭٭

ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔ 2019


 
اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی

ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی

نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی

ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی
ایسے اشعار لکھتے ہیں کہ دل سے شاعر کے لیے دعائیں نکلیں!! :)
 
آخری تدوین:
ماشاء اللہ ،کیا کہنے!
وہ جو ضبط سے نہ نکلا،کبھی نطق تک نہ پہنچا۔۔۔۔۔۔۔اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی
بھئی واہ واہ واہ،سبحان اللہ !
 
واہ۔ لاجواب
صبح صبح ہی خوبصورت غزل پڑھ کر طبیعت بشاش ہو گئی۔
کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی

مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں
نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی

اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی

وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی

ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی

نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی

مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی

مری چشمِ خوش گماں تُو! مری دوست ہے کہ دشمن
تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی

-ق-
ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی

کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس
شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی​
 

نور وجدان

لائبریرین
احبابِ محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش ہے۔ آپ سب کے حسنِ ذوق کی نذر! گر قبول افتد زہے عز و شرف!

٭٭٭

کوئی فخرِ زہد و تقویٰ ، نہ غرورِ پارسائی
مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی

مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں
نئی مشعل ِ تمنا ترے نام کی جلائی

اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں ، یہ جزائے بندگی ہے
ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی

وہ جو ضبط سے نہ نکلا ،کبھی نطق تک نہ پہنچا
اُسی حرفِ نارسا کی ہوئی عرش تک رسائی

ہے مرا وجود ثابت ، ہے مرا شمار ممکن
مرے صفر سے ہے پہلے تری ذات کی اکائی

نہ جھکا سکے جو سر کو وہ عمامہء فضیلت
سرِ بزم ِ علم و دانش ہے کلاہِ خود نمائی

مرے چارہ گر سے کہہ دو یہ مرض ہے آگہی کا
نہ کرے گی کام اِس میں کوئی نیند کی دوائی

مری چشمِ خوش گماں تُو! مری دوست ہے کہ دشمن
تو نے خواب ایسے دیکھے مجھے نیند ہی نہ آئی

-ق-
ہیں بجھے بجھے سے دونوں ،سبھی رونقوں سے خالی
مری بزمِ ترکِ الفت ، ترا جشنِ بے وفائی

کہیں لے گئیں ہوائیں وہ محبتوں کے فانوس
شب و روز بجھ رہے ہیں مہ و سالِ آشنائی

٭٭٭

ظہیرؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔ 2019


ماشاءاللہ .. سچ ہے کہ واہ نکلی جب یہ اشعار پڑھے.
 
بہت خوب ظہیرؔ بھائی ۔۔۔ ماشاءاللہ حسبِ معمول بہترین کلام ہے۔
مجھے دوسرے شعر میں اپنی کم علمی کی بنا پر کچھ تردد ہے۔
کسی کے نام کا دیا جلانا تو بطور محاورہ اکثر پڑھنے سننے میں آتا ہے، کسی کے نام کی مشعل جلانا، یہ کچھ نامانوس لگ رہا ہے۔ کیا یہ بھی مروج محاورہ ہے؟

دعاگو،
راحلؔ
 
ایسے اشعار لکھتے ہیں کہ دل سے شاعر کے لیے دعائیں نکلیں!! :)
بہت بہت شکریہ، بہت نوازش!
مریم بیٹا ، دعائوں سے بڑھ کر اور کیا داد ہوسکتی ہے ۔ اللہ کریم آپ کو ہمیشہ خوش رکھیں ، شاد و آباد رکھیں ، ہر بلا اور مصیبت سے دور رکھیں ! آمین
 
بہت اعلیٰ
کس کیفیت میں لکھتے ہیں واہ واہ
سچ مچ وجد طاری ہوجائے
آداب! نوازش! بہت ممنون ہوں فاخر بھائی ۔ جواب میں یہی کہوں گا کہ :
الفاظ دریچے ہیں جو کھلتے ہیں دلوں میں
معنی مرے سامع کے خیالات میں گم ہیں
 
Top