کس کس نے جن پری بھوت چڑیل کو دیکھا

ھارون رشید

محفلین
35n22jl.jpg


خوش ہوگیا منا
 

فرخ

محفلین
منا ایسی چیزوں سے خوش ہونے والا نہیں۔۔۔
منے کو تصویروں اور وڈیوز میں نہیں، اصل میں لائیو دکھائیں۔۔۔۔

ویسے اس تصویری میں نہ تو کوئی پری ہے، نہ چُڑیل۔۔۔۔۔یہ تو کوئی بھی منہ پر صابن لگا کر ایسا ہی ہو جاتا ہے۔
 
موضوع: کس کس نے جن پری بھوت چڑیل کو دیکھا
السلام علیکم
میں نے دیکھا ہے۔۔۔۔ یا یوں کہیئے میں نے محسوس کیا ہے۔
تقریباً 30 سال قبل میری عمر 12 ۔13 سال کی ہوگی۔ اس وقت کی بات ہے ۔ مگر رکیئے ذرا اس وقت کے ماحول کو سمجھ لیں۔ ہم جس جگہ والد صاحب اور چچا جان کی تقسیم کاروبار و گھر کے بعد رہنے آئے تھے اس واقعہ سے 5 سال قبل، اس علاقہ میں زیادہ تر خالی پلاٹس اور پاورلوم کارخانے تھے جو شام ہوتے ہی بند ہونا شروع ہو جاتے۔( آج کل تو 24 گھنٹہ پاور ہونے کی صورت میں جاری بھی ہوتے ہیں اور تمام کھانے پینے چائے وغیرہ کی دوکانوں کے ہمہ وقت جاری ہونے سے دن و رات یکساں ہی ہیں۔) رہائشی مکانات چند ایک ہی تھے۔ جن میں کچھ میں بجلی بھی نہیں تھی اور جہاں تھی وہاں بھی ایک آدھ بلب زیرو واٹ کے رات میں جلتے تھے باقی بند کردیے جاتے تھے۔ پڑوس میں ایک لاولد بوڑھے میاں بیوی رہتے تھے۔ بوڑھی جسے ہم منّیا خالہ کہتے تھے با حکمت تخلیق خداوندی ایسی شکل صورت کی تھیں کہ بلاشبہ ان کو تصوراتی چڑیل کا رول کسی بھی فلم میں با آسانی بنا میک اپ کے دیا جا سکتا تھا۔ اور افواوں کے تحت ان کے بارے میں خاصی ڈراونی باتیں منسلک تھیں مگر پڑوسی ہونے اور کہانیاں سننے کی لالچ ہمیں وہاں اکثر جانے پر مجبور کرتیں وہاں وہ باوجود بجلی کا کنکشن ہونے کے ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ رکھ کر چرخا کاتا کرتیں اور ہم ان کی خراب دھاگوں والی نریوں کو صاف کرنے میں مدد کرتے اس کے عوض وہ ہم کو کام کرتے ہوئے ایکشن کے ساتھ انتہائی خوف ناک قسم کی چڑیلوں اور سر کٹے بھوت یا "سادھو" کے واقعات سناتیں اور ان سب ہستیوں کا تعلق ہمارے شہر اور محلّہ سے ہی ہوتا ۔ کبھی کہتیں تیرے گھر کے پیچھے جہاں سوت رنگنے کی بھٹّی ہے وہاں سات بچّوں کی لاش دفن ہے جو اماوس کو نکلتے تھے مگر فلاں بابا نے ان کو باندھ دیا۔ اپنی گلی میں جو خالی پلاٹ ہے۔لالے سیٹھ کا، اور وہاں جو شہتوت کا درخت ہے۔ وہاں لالے سیٹھ کی لڑکی چڑیل بن کر رہتی ہے۔رات جو ادھر سے گذرے اسکو پکڑتی ہے۔ اور لالے سیٹھ کا بھوت اسکول کے فلاں کمرے میں رہتا ہے۔ (لالے سیٹھ کی لڑکی چند محلّہ کی مشترکہ سرکاری بیت الاخلاء میں اپنے بدن پر مٹّی کا تیل ڈال کر جل کر مری تھی اس کی جلی اور اکڑی نعش ہم نے بھی لاکھ پابندیوں و بھیڑ کے بعد بھی دیکھی تھی۔ لالے سیٹھ اس لڑکی کے جلنے والے حادثہ سے بھی بہت پہلے محلّہ کی مسجد کے کنواں میں کود کر خودکشی کی تھی۔)
تو ان ساری جگہوں سے متعلق ہمارے دلوں میں ایک خاص محتاط انداز و خوف تھا۔ گو اپنے گھر کا ماحول ان سب چیزوں کو بہت زیادہ اہمیت دینے والا نہ تھا۔ شہر میں خاص مسلمانوں میں اسکول ایجوکیشن وغیرہ کا عام ماحول نہیں تھا پر ہمارا گھر ان گھروں میں تھا جو اپنے ذاتی کاروبار کے باوجود اسکو اہمیت دیتے تھے ۔ والد صاحب خود شہر کے اوّلین بی ائے تھے۔ کتابیں پڑھنے کا شوق انکو بھی اور گھر کے سبھی احباب کو تھا۔ خود والد صاحب ایک لائیبریری کے فاونڈیشن کردہ اور صدر سوسائیٹی تھے چنانچہ اپنی عمر کے لحاظ سے میں بھی کتابوں کا شوقین رہا اور اسوقت بچوّں کے ادب میں بھوتوں اور چڑیلوں کی بے ادبی بڑی تعداد میں تھی۔ خود میں بھی ہمیشہ سے بے ادب رہا اس لئیے وہی میرا پسندیدہ موضوع تھا۔دوسرے والد صاحب سیاست میں بھی بہت فعال رہے۔شہر کی میونسپلٹی میں کونسلر بھی اسی اعتبار سے کئی مسلم و غیر مسلم بڑے لوگوں سے انتہائی قریبی تعلق تھا جن میں شہر کےاس وقت کے پانچ سینما گھروں کے مالکان بھی تھے ان کے سینما گھروں میں ہی ان کی آفیسس بھی تھیں جہاں اکثر والد صاحب اور احباب بیٹھتے تھے بندہ بھی ایسے موقعوں پر ساتھ ہو لیتا۔ وہاں ان کی باتیں چلتیں اور کچھ دیر بعد مالک سینما کسی نوکر کے ہمراہ ہم کو بوریت سے بچانے کے خاطر اندر سنیما ہال میں بھیج دیتے ۔ کچھ اور بڑے ہوئے تو اکیلے ہی پنہچ جاتے ٹکٹ کا مسلہ نہیں سب جانتے تھے ۔ جس وقت کا یہ واقعہ ہے اس وقت کی عمر کے آتے آتے آخری شو میرا پسندیدہ شو ہو گیا کیونکہ اسی شو میں مکمل پکچر دیکھنا ممکن تھا اور یہ بھی کہ آخری شو بولڈ اور بڑے ہونے کی نشانی بھی تھا جس کا رعب ہم عمر ساتھیوں پر کافی ہوتا۔
اس دن میں آخری شو دیکھنے اپنی سائیکل پر گیا۔ جس سینما میں گیا وہاں کافی دیر سے شو شروع ہوتا تھا۔ پکچر بھی بڑی تھی ۔ اور موضوع بھی ہارر تھا۔ دلچسپی کی وجہ سے وقت کا خیال نہ رہا آخیر تک دیکھتا رہ گیا جب فلم ختم ہوئی باہر آیا۔ تو وقت کا خیال آیا تقریباً رات کا ایک بج چکا تھا۔سردی کا موسم تھا۔ گلابی سردی چل رہی تھی۔ جلدی جلدی سائیکل کے پیڈل مارتے گھر کی جانب روانہ ہوا۔ گیٹ کی چابی کا کوئی مسلئہ نہ تھا۔ والد صاحب خود رات 12 کبھی 1 بجے اور سب سے بڑے بھائی 1 سے 2 بجے گھر آتے دیگر ہم سب ان سے کچھ پہلے اور گیٹ دو تھا ایک صحن کا جو صرف بھڑا ہوتا بنا تالے کے دوسرا تالہ بند پر چابی وہیں ٹنگی ہوتی جو جالی سے اندر ہاتھ ڈال کر باآسانی حاصل ہوجاتی کسی کو اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیشہ رات جب واپس کہیں سے آتا تو گھوم کر شہتوت کے درخت کی جانب کے خلاف والی جانب سے یا پھر درمیان کی گلیوں سے ہوکر گھر آتا ، مگر اس رات بے دھیانی میں ادھر سے ہی داخل ہوگیا۔ سارے راستے سنناٹا ملا اپنی گلی تو اور سنسان و بھیانک لگی کہ اکثر اسٹریٹ لائیٹس بند تھے تھوڑی دور سے ہی شہتوت کے درخت کا بھیانک ہیولہ دیکھائی پڑا ۔ ساری اگلی پچھلی کہانیاں ایک لمحہ سے کم وقت میں ذہن میں گھوم گئیں۔پکچر کے تاثرات بھی تازہ ہوگے درخت سے 12 13۔ پلاٹ آگے میرا مکان تھا درمیان میں سارے بند کارخانے کوئی مکان نہیں ۔ گھوم کر درخت سے جتنی مخالف سمت ہوسکے ہوکر نکلنے کے لئیے ہنڈل گھمایا۔ پیڈل پر بھی زور دیا سومئی قسمت گبھراہٹ میں بجائے درخت سے دور ہونے کے عین اسکے نیچے سے گذرنے والا ہینڈل کا رخ ہوگیا۔ وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا درخت کے نیچے سے ہی سائیکل گذری ۔۔۔۔۔ پھر وہی ہوا جو اب تک قصّوں میں سنتا رہا تھا ۔ چڑیل نے پہلے ایک تھپڑ لگایا بائیں گال پر۔۔ پھر کالر پکڑ کر کھنچنا چاہا۔ گھیگھیاں بندھی ہویں تھیں۔ سائیکل کی رفتار پہلے سے ہی تیز تھی اب جو پیڈل پر زور لگایا تو ایک ہی پیڈل میں لہراتا ہو چڑیل کے چنگل سے آزاد ہوکر گھر کی دہلیز پر تھا سائیکل کہاں گری یاد نہیں میں کیسے اندر پہنچا یاد نہیں ، بستر تیار تھا اسمیں کیسے گھسا یاد نہیں، سر سے پیر تک لحاف کو چاروں جانب سے دبا کر جو ایک کروٹ پڑا رہا تو اسکے بعد اس وقت ہوش آیا جب اپنے چاروں طرف سے تشویش ناک آوازیں سنیں آنکھ کھلی تو ڈاکڑ کو اپنے اوپر جھکے پایا۔ جو انجیکشن لگانے کی تیاری میں تھے بہت تیز بخار تھا۔ان دنوں ملیریا ٹائیفائیڈ نمونیا وغیرہ عام اور وبائی مرض جیسے تھے پورا شہر عمومی طور سے ان کی لپیٹ میں آئے دن ہوتا۔چند گھنٹے اسی تیمار داری میں گذرے کسی کو رات کا واقعہ نہیں بتایا کہ اسمیں اپنی 12 سے قبل گھر کے اندر والی پابندی کی خلاف وزی کھل جاتی خیر جب سب اپنے کاموں میں لگے تو چادر اوڑھ کر دروازہ پر پہنچا والدہ نے آواز دی باہر مت نکلنا۔ ویہں صحن میں ٹہل کر آجاو ۔ میں نے جواب دیا جی ہاں۔ پھر ڈرتے ڈرتے جھانک کر درخت کی جانب نظر دوڑائی تو ایک ٹہنی آدھی ٹوٹی لٹک رہی تھی وہی چڑیل کا پنجہ و ہاتھ تھا جس نے رات میرے تھپڑ لگایا تھا اور کالر میں اٹک کر کھینچا تھا ۔ بات تو صاف ہوگئی پر بخار سے نجات چند دنوں تک نہ ملی اور شہتوت کے درخت کے نیچے سے آنے کا خوف ہونے کے باوجود اسکے بعد ہمیشہ ایسے موقعوں پر جان بوجھ کر اسی جانب سے آنے لگا۔ اب نہ وہ درخت ہے نہ اسکی داستانیں خوف تو اب بھی ان سب کا ہے پر یقین نہیں۔اجّنا تو یقیناً ہیں پر ان مبنی داستانیں۔۔۔۔
 
Top