ساغر صدیقی کب سماں تھا بہار سے پہلے۔ساغرصدیقی

اداس

محفلین
کب سماں تھا بہار سے پہلے
غم کہاں تھا بہار سے پہلے

ایک ننھا سا آرزو کا دیا
ضوفشاں تھا بہار سے پہلے

اب تماشا ہے چار تنکوں‌کا
آشیاں تھا بہار سے پہلے

اے مرے دل کے داغ یہ تو بتا
تو کہاں تھا بہار سے پہلے

پچھلی شب میں خزان کا سناٹا
ہم زباں‌تھا بہار سے پہلے

چاندنی میں‌یہ آگ کا دریا
کب رواں تھا بہار سے پہلے

بن گیا ہے سحابِ موسمِ گل
جو دھواں تھا بہار سے پہلے

لُٹ گئی دل کی زندگی ساغر
دل جواں‌تھا بہار سے پہلے

(ساغر صدیقی)​
 

الف عین

لائبریرین
شکریہ اداس، اپنا تعارف تو دیں۔
ساغر صدیقی کا بھی اچھا کلام جمع ہو گیا ہے۔ ای بک کی سوچی جا سکتی ہے۔
 

اشتیاق علی

لائبریرین
اداس صاحب اردو محفل میں خوش آمدید۔ بہت اچھی اور اداس کر دینے والی غزل ہے بالکل آپ کے نام کی طرح ۔
 

اداس

محفلین
شکریہ اداس، اپنا تعارف تو دیں۔
ساغر صدیقی کا بھی اچھا کلام جمع ہو گیا ہے۔ ای بک کی سوچی جا سکتی ہے۔
شکریہ محترم الف عین صاحب!
میں ‌ساغر صدیقی کا مزید کلام بھی اردو محفل پر ارسال کرنے کی کوشش کروں گا۔

اداس صاحب اردو محفل میں خوش آمدید۔ بہت اچھی اور اداس کر دینے والی غزل ہے بالکل آپ کے نام کی طرح ۔
شکریہ محترم ishi786صاحب
 
Top