چراغ اپنی تھکن کی کوئی صفائی نہ دے (معرؔاج فیض آبادی)

نایاب

لائبریرین
مسرتوں میں بھی جاگے گناہ کا احساس
مرے وجود کو اتنی بھی پارسائی نہ دے
چند لفظوں پر مشتمل کوئی شعر بلاشبہ خود میں ابلاغ کا اک سمندر رکھتے ہیں ۔
اور پہلی نگاہ میں براہ راست شعور پر پہنچ اک داستان طلسم ہوش ربا کی تجسیم کر دیتے ہیں ۔
قاری کبھی ادھر ڈوبتا ہے کبھی ادھر ۔۔۔۔۔۔۔ اور ہر غوطے پر آگہی سے بھرا اک موتی پا لیتا ہے ۔
بہت خوبصورت انتخاب
بہت دعائیں
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
چند لفظوں پر مشتمل کوئی شعر بلاشبہ خود میں ابلاغ کا اک سمندر رکھتے ہیں ۔
اور پہلی نگاہ میں براہ راست شعور پر پہنچ اک داستان طلسم ہوش ربا کی تجسیم کر دیتے ہیں ۔
قاری کبھی ادھر ڈوبتا ہے کبھی ادھر ۔۔۔۔۔۔۔ اور ہر غوطے پر آگہی سے بھرا اک موتی پا لیتا ہے ۔
بہت خوبصورت انتخاب
بہت دعائیں
اعلیٰ۔۔۔ انتخاب کی پذیرائی پر شکرگزار ہوں۔۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
عزیزی طارق شاہ نے اصلاح کی کوشش کی ہے، ایک لمحے کو مجھے یہ خیال آیا کہ تبدیل شدہ غزل ان کی معلومات کے مطابق ہے۔
سچ ہوچھا جائے تو مجھے اصل معراج فیض آبادی کے ہی اشعار بہتر محسوس ہوئے، سوائے آخری شعر کے، جہاں اصلاح شدہ طارق شاہ کا شعر اصل سے بازی لے گیا۔
 
Top