فرخ منظور

لائبریرین
پھر محّرک ستم شعاری ہے​
پھر انہیں جستجو ہماری ہے​
​
پھر وہی داغ و دل سے صحبت گرم​
پھر وہی چشم و شعلہ باری ہے​
​
پھر وہی جوش و نالہ و فریاد​
پھر وہی شورِ آہ و زاری ہے​
​
پھر خیالِ نگاہِ کافر ہے​
پھر تمنائے زخم کاری ہے​
​
پھر وہاں طرزِ دلنوازی ہے​
پھر یہاں رسمِ جاں نثاری ہے​
​
پھر وہی بے قراریِ تسکیں​
پھر ہمیں اس کی یادگاری ہے​
​
پھر ہمیں کام کچھ نہیں تم سے​
پھر وہی وضع گر تمہاری ہے​
​
شیفتہ پھر ہے ننگ عزت سے​
پھر وہی ہم ہیں اور خواری ہے​
​
​
(نواب مصطفیٰ خان شیفتہ)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top